یمن کے مستقبل پر ریاض میں اجلاس، ’جنگ بندی کو بڑھایا جائے‘

اقوامِ متحدہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ نے جنگ بندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جلدی جلدی امداد تو پہنچائی لیکن اس کا کہنا ہے کہ ابھی بہت زیادہ امداد کی ضرورت ہے

اقوامِ متحدہ نے یمن میں جنگ بندی کو بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ اپیل منگل کو ہونے والی جنگ بندی کے پانچویں اور آخری دن کی گئی۔

امدادی کارکنوں نے جنگ رکنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگ میں پھنسے ہوئے افراد کے لیے بہت ضروری اشیا پہنچائیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ابھی بہت کرنا باقی ہے۔

اگرچہ زیادہ تر جنگ بندی پر قائم رہا گیا لیکن کئی علاقوں میں حوثی باغیوں اور حکومت کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائی بھی دیکھنے میں آئی۔

جنوبی شہر تعز میں کل رات گئے ہونے والی لڑائی میں کم از کم دس افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔

دریں اثناء خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق تقریباً 400 یمنی سیاستدانوں اور قبائلی رہنماؤں نے یمن کے مستقبل کے متعلق سعودی عرب میں مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ لیکن ان میں یمن کے دارالحکومت اور شمالی یمن کے زیادہ تر علاقوں پر قابض شیعہ حوثی باغی شرکت نہیں کر رہے ہیں۔

یمن پر اقوامِ متحدہ کے نمائندے اسماعیل اولد شیخ احمد نے اتوار کو اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے سبھی پارٹیوں سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ انسانی بنیادوں پر قائم کی گئی متزلزل جنگ بندی دیرپا تک جنگ بندی کی طرف لے جائے۔

سعودی عرب یہ تین روزہ مذاکرات خلیجی ممالک کے اتحاد جی سی سی کی سرپرستی میں کر رہا ہے۔

حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں ہونے والے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا، جو کہ مارچ سے باغیوں کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے۔

ان فضائی حملوں کا مقصد یمن میں صدر عبدالربو منصور ہادی کی حکومت کو دوبارہ قائم کرنا تھا جو ملک سے فرار ہو کر سعودی عرب چلے گئے تھے۔ ہادی نے اتوار کے اجلاس میں شرکت کی ہے۔

اسی بارے میں