’دولتِ اسلامیہ رمادی کے دفاع کی تیاریوں میں مصروف‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ اسلامیہ کے جنگجو پولیس والوں اور حکومت کے حمایت یافتہ قبائلیوں کے گھروں میں زبردستی داخل ہوتے ہیں

عراق کے صوبہ انبار کے دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ دارالحکومت رمادی میں موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شدت پسند عراقی حکومت کی جانب سے جوابی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے زوروشور سے تیاریاں کر رہے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اتوار کو رمادی پر قبضہ کیا تھا اور عراقی حکومت نے شہر کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کی خدمات حاصل کی ہیں جو اس وقت شہر کے مشرق میں موجود ہے۔

اطلاعات کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے ان کی طرف بھی پیش قدمی کی ہے۔

رمادی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں شہر پر اپنا قبضہ مضبوط کر رہے ہیں اور انھوں نے نہ صرف دفاعی مورچے قائم کیے ہیں بلکہ شہر میں بارودی سرنگیں بھی بچھا دی ہیں۔

مقامی شہریوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جنگجو حکومت کے حامیوں اور ہمدردوں کو ڈھونڈنے کے لیے گھر گھر تلاشی لے رہے ہیں اور ان افراد کو ہلاک کر کے ان کی لاشیں دریائے فرات میں پھینک دی جاتی ہیں۔

اس صورتحال میں ہزاروں افراد شہر چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں اور اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک انسانی بحران ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں 25 ہزار افراد شہر چھوڑ چکے ہیں اور ان میں سے اکثر کھلے آسمان تلے سو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ں ہزاروں افراد شہر چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں اور اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک انسانی بحران ہے

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ بے گھر افراد کی مدد کی کوشش کر رہی ہے لیکن فنڈز بہت کم ہیں اور اس کا سٹاک تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ رمادی کا ہاتھ سے جانا عراقی حکومت اور علاقے میں امریکی حکمتِ عملی کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔

نامہ نگار کے مطابق اس شہر کو واپس حاصل کرنا عراقی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے اور اس کے لیے اسے شیعہ جنگجوؤں کی مدد درکار ہے حالانکہ اس سنگین ردِ عمل بھی ہو سکتا ہے کیونکہ شیعہ ملیشیا کو سنیوں کے اہم علاقے میں بھیجا جا رہا ہے۔

رمادی سے آنے والی اطلاعات کے مطابق رہائشی خوراک کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو پولیس والوں اور حکومت کے حمایت یافتہ قبائلیوں کے گھروں میں زبردستی داخل ہوتے ہیں۔

رہائشیوں کے مطابق حکومت کے حامی سنی ملیشیا کے لوگوں کی دکانوں اور گھروں کو لوٹ کر آگ لگائی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراقی حکومت نے شہر کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کی خدمات حاصل کی ہیں

اطلاعات کے مطابق شیعہ ملیشیا کے تقریباً 3,000 لوگ رمادی شہر سے 20 کلومیٹر دور الحبانیہ ملٹری کیمپ میں رمادی شہر پر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

منگل کو انبار کے پولیس کے سربراہ خادم الفہداوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ رمادی کے قریبی شہر حصیبہ میں بھی تیار فوجیوں نے پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ رمادی اور انبار کو آزاد کروانے کا آپریشن اس وقت تک نہیں شروع ہو گا جب تک سبھی ضروریات پوری نہیں ہو جاتیں۔

الحشد الشعبي نامی شیعہ ملیشیا نے اپریل میں شمالی شہر تکریت کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اگرچہ ان کی موجودگی کو کئی سنی رہنماؤں نے خوش آمدید کہا تھا لیکن رمادی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان سے بھی اتنا ہی ڈرتے ہیں جتنا دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے۔

رمادی میں پرچون کی ایک دکان چلانے والے ابو عمار نے اے پی کو بتایا کہ ’اگر شیعہ جنگجو رمادی میں داخل ہو گئے تو وہ بھی وہی کچھ کریں گے جو دولتِ اسلامیہ نے کیا تھا۔

’دونوں صورتوں میں ہم یا مارے جائیں گے یا پھر بے گھر ہوں گے۔ ہمارے لیے ملیشیا اور دولتِ اسلامیہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔‘

اسی بارے میں