موصل پر حملوں کا آنکھوں دیکھا حال

موصل پر دولت اسلامیہ کے ٹھکانے پر حملہ کرنا والا طیارہ
Image caption موصل پر دولت اسلامیہ کا قبضہ ہے

عراق کی فوج نے ملک کے شمال میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے تیز کردیے ہیں۔ عراقی فوج کی جانب سے یہ کاروائی موصل شہر کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے کے لیے متوقع حملوں کی تیاری میں کیے جا رہے ہیں۔

بی بی سی فارسی سروس کی نامہ نگار نفیسہ کوھنورد پہلی ایسی صحافی ہیں جن کو اس ہیلی کاپٹر میں سفر کرنے کی اجازت ملی ہے جس سے موصل پر فضائی حملے کیے گئے۔

نامہ نگار نفیسہ کوھنورد نے ہیلی کاپٹر سے اپنا تجربہ کچھ یوں بیان کیا۔۔

’صبح ایک بجے کا وقت ہےاور شمالی عراق کی اربیل ہوائی اڈے پر فوجی مکینک اس فوجی طیارے کی پرواز سے پہلے آخری بار جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ روسی ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر ہے جو دو راکٹ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

’جب ہم جہاز میں پہنچے تو فوجی اس طرح کی باتیں کررہے تھے ’دولت اسلامیہ یہ راکٹ تمہارے لیے ہیں اور اب تم تباہ ہوجاؤگے۔‘

’یہ فوجی مشن امریکہ کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے اور اس مشن میں حصہ لینے والے بیشتر پائلٹ امریکہ سے تربیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔

’اس سفر پر میری ملاقات عراقی فضائیہ کے سابق جنرل احمد تھوینی سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر سے زیادہ بہتر نشانے لگائے جاسکتے ہیں کیونکہ وہ نیچی پرواز کرسکتا ہے۔ حالانکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے انھیں زمین سے اٹھنے والی آگ سے خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ جنرل احمد تھوینی نے بتایا اس سے پہلےاسی طرح کے حملے میں ملے میں ان کے پیر پر گولی لگی تھی۔

’جب ہماری ٹیم ہیلی کاپٹر اڑنے سے پہلے تصویریں بنا رہی تھی تب ایک امریکی فوجی نے پوچھا کہ کیا ہم واقعی ان کے ساتھ اس مشن پر جانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے بقول ’یہ ایک خطرناک آپریشن ہے‘۔

Image caption نفیسہ کوھنورد پہلی صحافی ہیں جن کو اس طرح کے مشن پر فوج کے ساتھ جانے کی اجازت ملی ہے

اس آپریشن کا حدف موصل سے باہر چالیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک سلفر فیکٹری ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ دولت اسلامیہ اس فیکٹری کا استمعال بم بنانے اور خودکش بمباروں کو تیار کرنے کے لیے کر رہی ہے۔ ہمارے ساتھ دو اور ہیلی کاپٹر بھی اس مشن پر روانہ ہوئے۔ہمارے ہیلی کاپٹر کے اوپر ایک امریکی جنگی جہاز بھی اڑ رہا تھا۔

’ہیلی کاپٹر کے اندر شدید سردی ہے۔ جہاز کے کھلے دروازے پر ایک بندوق بردار فوجی تعینات ہے اور مشین گن تیار حالت میں رکھی گئی ہے۔

’جہاز سے نیچے میں نے دیکھا کہ رات کے اندھیرے میں ان گاؤں میں بجلیاں جگمگا رہی ہیں جن پر گذشتہ ایک برس میں قبضہ کیاگیا ہے۔

’ہمارے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ حسن کا تعلق موصل سے ہے۔ موصل میں ابھی بھی ان کے رشتہ رہتے ہیں اور ان کو حال ہی میں اطلاعات ملی ہے کہ موصل میں ان کے گھر پر دولت اسلامیہ نے قبضہ کرلیا ہے۔

’ان کے چہرے کے تاثرات سے یہ واضح ہے کہ ان کے لیے اس طرح کے مشن ذاتی اہمیت کے حامل ہیں۔انھوں نے ہمیں بتایا کہ انھوں نے موصل میں اپنے گھر کو بم سے اڑانے کی اجازت مانگی تھی لیکن ان سے کہا گیا کہ اس سے شہریوں کی زندگی کو خطرہ ہے۔

’آدھے گھنٹے کے بعد ہم اپنے حدف کے قریب جا پہنچے اور ہمارا طیارہ اس فیکٹری کے اوپر منڈلا رہا تھا اور حملہ کرنے کے حکم کا منتظر تھا۔ حالانکہ جہاز میں بہت شور تھا لیکن حملے سے چند لمحے پہلے یہاں ایک عجیب سے خاموشی طاری ہوگئی۔

’اور اچانک حملے شروع ہوئے، پہلے دو ہیلی کاپٹر نیچی پرواز کرتے ہوئے ٹارگٹ کے اوپر ناچنے لگے اور راکٹ گرانے لگانے اور پھر طیارے نے حملہ کیا۔۔ ہم نے ٹھیک اپنے نیچے آگ کے شوہلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور چند سیکنڈوں بعد ایک بڑا دھماکہ سنائی دیا۔ اس پوری کارروائی کو انجام دینے میں بارہ منٹ لگے لیکن یہ بارہ منٹ میری زندگی کے سب سے طویل بارہ منٹ تھے۔‘