چھ چینی باشندوں پر اقتصادی جاسوسی کے الزامات

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption مبینہ طور پر چرائی گئی ٹیکنالوجی موبائل فونز اور دیگر آلات کو غیر ضروری سگنلز سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے

امریکی حکام نے چھ چینی باشندوں پر اقتصادی جاسوسی کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

ان افراد پر مبینہ طور پر موبائل فونز میں استعمال ہونے والی حساس ٹیکنالوجی کی چوری کا الزام ہے۔

الزامات کا سامنا کرنے والے چھ چینی افراد میں سے تین مختلف جامعات کے اساتذہ ہیں اور ان پر اس ٹیکنالوجی کو چینی جامعات اور کمپنیوں کے فائدے کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

ان چھ میں سے ایک ملزم اور تیانجان یونیورسٹی کے پروفیسر ہاؤ زہانگ اس مقدمے میں زیرِ حراست ہیں جبکہ بقیہ پانچ کے بارے میں خیال ہے کہ وہ چین میں ہیں۔

امریکی محکمۂ انصاف نے عدالت میں جو دستاویزات پیش کی ہیں ان کے مطابق ٹیکنالوجی کی چوری کا مبینہ منصوبہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل شروع ہوا تھا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ہاؤ زہانگ نے اپنی یونیورسٹی کے ایک اور پروفیسر وی پانگ سے مل کر اپنے امریکی آجروں سے ایف بی اے آر ٹیکنالوجی چرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

یہ ٹیکنالوجی موبائل فونز اور دیگر آلات کو غیر ضروری سگنلز سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ہاؤ، وی اور ان کے دیگر ساتھیوں نے پھر تیانجان میں ایک کمپنی کی بنیاد رکھی جہاں چوری شدہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایف بی اے آر تیار کیے جاتے تھے۔

قومی سلامتی کے لیے امریکہ کے نائب اٹارنی جنرل جان کارلن کا کہنا تھا کہ ’ملزمان نے حساس امریکی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے اپنی رسائی اور علم کا فائدہ اٹھایا اور امریکہ کے تجارتی راز اقتصادی فائدے کے لیے (چینی حکومت کو) فراہم کیے۔‘

اگر ان چھ چینی باشندوں پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انھیں طویل عرصے تک قید کی سزا ہو سکتی ہے تاہم بی بی سی کی باربرا پلیٹ کا کہنا ہے بظاہر یہ مشکل دکھائی دیتا ہے کہ بیشتر ملزمان کو مجرم قرار دلوایا جا سکے۔