انڈونیشیا اور ملائیشیا تارکینِ وطن کو عارضی پناہ دینے پر رضامند

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بنگلہ دیشی اور رونجیا تارکین وطن کو انڈونیشیا کے صوبے آچے میں بچا لیا گيا ہے

کوالالمپور میں بدھ کو ہونے والے سہ فریقی مذاکرات میں ملائشیا اور انڈونیشیا نے اپنی سمندری حدود میں موجود تارکین وطن کو عارضی پناہ دینے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ جس وقت یہ مذاکرات جاری تھے اس دوران ہی یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ گذشتہ ہفتے تارکین وطن کی جو کشتی تھائی لینڈ کے ساحل سے دور نکل گئی تھی اسے انڈونیشیا کے صوبے آچے میں ماہی گیروں نے بچا لیا ہے۔

کھانے کے لیے جھگڑا کشتی میں 100 تارکینِ وطن ہلاک

میانمار ذمہ دار نہیں

انسانی سمگلروں سے نمٹنے کے لیے فوج

سہ فریقی مذاکرات میں میزبانی کے فرائض ملائشیا نے سرانجام دیے جبکہ مذاکرات میں شامل تھائی لینڈ، ملائشیا اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے بات چیت کے بعد میڈیا سے گفتگو بھی کی۔

ملائیشیا کے وزیرِ خارجہ انیفا امان نے بتایا کہ ان کا ملک اور انڈونیشیا طارکینِ وطن کی کشتیوں کو گذشتہ دنوں کی طرح ساحلی علاقوں سے واپس نہیں موڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ’ان لوگوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انھیں جس قسم کے حالات کا سامنا ہے اس میں ہم انھیں اپنے ساحلی علاقوں میں رکھنے کو تیار ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سرگرمی کے ساتھ تارکین وطن کی تلاش نہیں کریں گے اور اگر وہ ان کے ساحل پر اترے تو انھیں اس شرط پر عارضی پناہ دیں گے کہ بین الاقوامی برادری ایک سال کے اندر ان کی آباد کاری یا واپسی میں تعاون کرے گی۔

تھائی لینڈ اس اعلامیہ کا حصہ نہیں اور نہ ہی اس نے علیحدہ طور پر کوئی اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption تارکینِ وطن کی کشتیوں کو کوئی بھی ملک اپنی سرحدوں میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا

’کمزور اور فاقہ زدہ‘

بتایا گیا ہے کہ تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد یہ اطلاع موصول ہوئی کہ انڈونیشیا کے ساحلی علاقے میں موجود ماہی گیروں نے مزید350 تارکین وطن کی جان بچائی ہے۔

مدد حاصل کرنے والے ایک تارک وطن عبدالحق نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہ چار مہینوں سے سمندر میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشتی کا انجن خراب ہو گیا تھا اور کپتان بھاگ گیا تھا۔

’ہمارے پاس خوراک نہیں تھی، ہم ملائیشیا میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن ہمیں اجازت نہیں ی گئ۔‘

خیال رہے کہ تینوں ممالک میانمار میں ظلم و ستم سے بچنے کے لیے ہجرت کرنے والے روہنجیا مسلمانوں اور بہتر معاش کی تلاش میں ملک چھوڑنے والے ان سینکڑوں بنگالیوں کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں جو کھلے سمندر میں کشتیوں میں محصور ہیں۔

اس سے قبل بدھ کی صبح انڈونیشیا کے صوبے آچے کی مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ گذشتہ شب ماہی گیروں نے صوبے کے مشرقی علاقے میں 102 تارکینِ وطن کو زندہ بچایا۔ جبکہ صبح سویرے 272 افراد کو بدھ کی صبح ساحل پر لایا گیا۔

امداد میں مصروف ایک اہلکار جن کا نام صادقین تھا کا کہنا تھا کہ ماہی گیروں نے ساحل سے 65 کلومیٹر دور دوسری کشتی کو بھی ڈوبتے ہوئے دیکھا۔

بین القوامی مسئلہ

کوالا لمپور میں سہ ملکی مذاکرات سے قبل انڈونیشیا کی وزیرِ خارجہ ریٹنو مرسودی نے کہا تھا کہ یہ ایک یا دو ملکوں کا مسئلہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ میانمار جسے برما بھی کہتے ہیں پر شدید دباؤ ہے کہ وہ ملک چھوڑنے والوں کو روکے تاہم میانمار اس حوالے سے مذاکرات میں شرکت نہیں کر رہا اور اس نے خود پر عائد الزامات سے انکار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے میانمار کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ ’جو کوئی بھی سمندر میں مصیبت میں گرفتار ہے اسے انسانی بنیادوں پر مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

ادھر اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کا خیال ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے خطے کے ممالک کی جانب سے مربوط ردعمل کی ضرورت ہے۔

ادارے نے تینوں ممالک کے ساحلی علاقوں سے کشتیوں کو ساحل سے دور دھکیلے جانے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

Image caption ان کشتیوں میں موجود تارکینِ وطن کل اصل تعداد معلوم نہیں

خیال رہے کہ ملائیشیا پہلے ہی 45 ہزار روہنجیا مسلمانوں کو پناہ دیے ہوئے ہے تاہم اب اس نے مزید تارکینِ وطن کو پناہ دینے سے انکار کیا ہے۔

تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کہتے ہیں کہ وہ سمندر میں محصور تارکینِ وطن کی مدد تو کریں گے تاہم وہ ان کے لیے اپنی سرحدیں نہیں کھول سکتے۔

پناہ گزینوں کے مسئلے پر تھائی لینڈ میں 29 مئی کو 15 ممالک کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے تاہم میانمار کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر ژو ہتائے کا کہنا ہے کہ اگر دعوت نامے میں ’روہنجیا‘ کا استعمال کیا گیا تو ان کا ملک اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا کیونکہ ان کا ملک روہنجیا کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔

اسی بارے میں