سیاہ فام ہی کیوں پولیس کے نشانے پر؟

حالیہ دنوں میں امریکی پولیس کے ہاتھوں کئی غیر مسلح سیاہ فام باشندوں کی ہلاکتوں سے مختلف امریکی شہروں میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور مظاہرے کیے گئے۔ ان میں سے کچھ کے بقول پولیس کے ہاتھوں مائیکل براؤن، ایرک گارنر، والٹر سکاٹ اور فریڈی گرے کی ہلاکت نسل پرستی اور بے جا طاقت کے استعمال کی مثالیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام باشندوں کی ہلاکت پر اکثر امریکہ میں شدید ردعمل سامنے آتا ہے

چار تجزیہ کاروں نے بی بی سی ورلڈ سروس کے انکوائری پروگرام میں اس موضوع پر بات کی ان میں سے ایک، چارلس رمزے صدر اوباما کی جانب سے پولیس میں اصلاحات کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کے سربراہ ہیں۔

سیم سنیانگوی: یہ الگ الگ واقعات نہیں تھے

’میپنگ پولیس وائلنس‘ نامی پراجیکٹ کے خالق سیم سنیانگوی ، تحقیق دان ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے کارکن بھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں سیاہ فام ہوں اور میری عمر چوبیس سال ہے۔ سیاہ فام لوگوں کو اس طرح قتل ہوتے دیکھنا بڑے افسوس کی بات ہے۔ میں نے مائیکل براؤن کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد اس پراجیکٹ کو شروع کیا تا کہ ان ہلاکتوں سے اٹھنے والے سوالات کے جواب ڈھونڈے جا سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صرف دو ہزار چودہ میں نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے 1149 افراد پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہوئے

’سوائے ان ہلاکتوں کے آپ کو ہر قسم کے پر تشدد جرائم کے اعداد و شمار آسانی سے مل جاتے ہیں۔ تو میں نے سوچا میں نے یہی کام کرنا ہے کہ نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے کتنے لوگ پولیس کے ہاتھوں مرتے ہیں۔ صرف سنہ 2014 میں نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے 1149 افراد پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ ‘

’فرگوسن میں مائیکل براؤن کی ہلاکت کے بعد ایک سوال ابھرا کہ کیا یہ ایک مخصوص طریقے سے ہلاک کرنے کا طریقہ ہے یا کہ یہ اس کو دیگر واقعات سے الگ دیکھا جائے؟ میرے جمع کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرگوسن جیسے واقعات امریکہ میں ہر جگہ ہو رہے ہیں۔ سارے ملک میں سیاہ فاموں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔‘

سب سے کم عمر ہلاک ہونے والے سیاہ فام کی عمر صرف بارہ برس جب کہ 65 برس تک کے سیاہ فام کو بھی ہلاک کیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک سو کے قریب لوگ غیر مسلح تھے۔

’امریکہ میں سفید فام کی نسبت سیاہ فام افراد کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کا امکانات تین گنا زیادہ ہے۔‘

لوری فائیڈل: پولیس میں پایا جانے والا تعصب

لوری فرائیڈل یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں کریمینالوجی کی پروفیسر ہیں وہ پولیس ایگزیکیٹو فورم میں ریسرچ کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرگوسن جیسے واقعات امریکہ میں ہر جگہ ہو رہے ہیں۔ سارے ملک میں سیاہ فاموں کو ہلاک کیا جا رہا ہے‘

’ان کا کہنا ہے کہ ہم تعصب کا شکار ہیں، ہم مختلف گروپوں کو ان کے بارے میں پہلے سے طے شدہ سوچ سے منسلک کر دیتے ہیں جس سے ممکنہ طور پر ان کا جرائم کی طرف رجحان بڑھتا ہے۔‘

’مارو یا نہ مارو کے نام سے کی گئی تحقیق میں کمپیوٹر پر سیاہ یا سفید فام شخص کو دکھایا جاتا ہے۔ یہ لوگ مسلح یا غیر مسلح ہوتے ہیں۔ اگر ان کے ہاتھ میں ہتھیار ہو توآپ کو مار دو کا بٹن دبانا ہو گا اور اگر سکرین پر شخص غیر مسلح ہو تو آپ کو نہ مارو کا بٹن دبانا ہوتا ہے۔ آپ کو بتا دیا جاتا ہے کہ اگر آپ خطرہ محسوس کریں تو مار دو کا بٹن دبائیں اور اگر خطرہ نہ محسوس کریں تو نہ مارو کا بٹن دبائیں۔‘

اس تحقیق سے پتہ چلا کہ لوگ غیر مسلح سفید فام کے مقابلے میں غیر مسلح سیاہ فام کی تصویر پر زیادہ مار دو کا بٹن دباتے ہیں۔

ستھ سٹافٹن: جنگجو پولیس کلچر شہریوں کے لیے خطرہ:

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فیلیڈلفیا پولیس کمشنر کے مطابق پولیس کے خلاف جو تشدد ہوتا ہے اسے بھی ذہن نشین کرنا ہونا گا

ستھ سٹافٹن سابق پولیس اہلکار ہیں جب کہ آج کل وہ یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولینا میں لاء کے پروفیسر ہیں۔

’وہ کہتے ہیں کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے کام کرنے والوں کے لیے پہلا اصول تو یہ ہے کہ وہ اپنی شفٹ ختم کرنے کے بعد محفوظ اپنے گھر واپس جائیں۔ ٹریننگ بھی اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کی گئی ہے۔ لیکن آخر میں تو یہ عام لوگوں کی بھی زندگیاں محفوظ کرنے کی بجائے اسے خطرات میں ڈال دیتے ہیں۔‘

’پولیس میں جارحانہ طرز عمل اور پولیس کو ایک جنگجو فورس کے طور پر پیش کرنے سے ہلاکتوں کے ایسے غیر ضروری واقعات پیش آئے جنہیں نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ یہ سب کچھ پولیس کی ریکروٹمنٹ ویڈیو سے شروع ہوتا ہے جس میں انہیں اسلحہ چلاتے ہوئے اور قوت استعمال کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ تو ایسی ریکروٹمنٹ ویڈیو صرف مخصوص امیدواروں کو پولیس میں آنے کی طرف راغب کرتی ہیں۔ ‘

’جب فوج کسی مشن کی منصوبہ بندی کرتی ہے تو ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ ان کے کتنے سپاہیوں کی جانیں جائیں گی۔ بالکل اسی طرح پولیس نے بھی یہ رویہ اپنا لیا ہے۔‘

چارلش رمزے: ہمیں پہلے وسیع سماجی مسئلے کو حل کرنا ہو گا

چارلس رمزے فلاڈیلفیا پولیس کے کمشنر ہیں، انہیں صدر اوباما نے ’پریزیڈنٹ ٹاسک فورس آن ٹونٹی فرسٹ سینچری پولیسنگ‘ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ .

’ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جس میں ہر کوئی دوسروں پر ہی انگلیاں اٹھاتا ہے لیکن حقیقت میں ہمیں غربت، تعلیم کی کمی اور گھروں کی کمی جیسے سنگین سماجی مسائل کا سامنا ہے۔‘

ہمیں ان مسائل کو حل کرنا ہو گا۔ فلاڈیلفیا میں غربت کی شرح امریکی شہروں میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں کی انڈر گراؤنڈ معیشت منشیات، عصمت فروشی اور غیر قانونی سگریٹوں کے کاروبار کو فروغ دے رہی ہے۔

گزشتہ بارہ برسوں میں ہمارے کئی پولیس آفیسرز کو مارا گیا۔ آٹھ آفیسرز مارے گئے جن میں سے پانچ کو قتل کیا گیا۔ اس لیے پولیس کے خلاف جو تشدد ہوتا ہے اسے بھی ذہن نشین کرنا ہونا گا۔

فلاڈیلفیا میں اب پولیس ہر ماہ کمیونٹی سے ملاقات کرتی ہے جس میں جرائم زیر بحث آتے ہیں۔ نئے پولیس اہلکاروں کو پولیس تربیت سے فارغ ہوتے ہی فٹ پٹرولنگ کے لیے ان علاقوں میں بھجوایا جاتا ہے تا کہ وہ مقامی لوگوں سے مانوس ہو سکیں۔

امریکہ محکمہ انصاف کی رپورٹ میں غیر ضروری قوت استعمال کرنے پر فلاڈیلفیا پولیس پر تنقید کی گئی تھی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کمشنر رمزے کا کہنا تھا کہ اس کے تدارک کے لیے انھوں نے نئی ٹریننگ متعارف کروائی ہے۔

اسی بارے میں