بالٹیمور پولیس کے چھ اہلکاروں پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چھ پولیس اہلکاروں نے رضاکارانہ طور پر خود کو شہر کی جیل میں پیش کیا تھا جس کے بعد انھیں معطل کر دیا گيا تھا

امریکہ کے شہر بالٹیمور میں گرینڈ جیوری نے سیاہ فام شہری فریڈی گرے کی دورانِ حراست ہلاکت کے معاملے میں چھ پولیس اہلکاروں پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

سرکاری وکیل میریلین موزبی نے جمعرات کو ان اہلکاروں پر عائد نظرِ ثانی شدہ الزامات پڑھ کر سنائے جن میں دوسرے درجے کے قتل کے الزام کو برقرار رکھا گیا ہے۔

25 سالہ افریقی نژاد امریکی فریڈی گرے 19 اپریل کو دورانِ حراست پولیس کے تشدد کے دوران ریڑھ کی ہڈی میں شدید زخم آنے کی وجہ سے ایک ہفتے بے ہوشی کی حالت میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔

ان کی ہلاکت کے بعد بالٹیمور میں پرتشدد ہنگامے شروع ہوگئے تھے اور اس دوران بڑے پیمانے پر جلاؤ گھیراؤ کے واقعات پیش آئے تھے جس کے بعد شہر میں ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی تھی۔

فریڈی کی ہلاکت کے سلسلے میں الزامات کی زد میں آنے والے تمام چھ پولیس اہلکاروں نے رضاکارانہ طور پر خود کو شہر کی جیل میں پیش کیا تھا جس کے بعد انھیں معطل کر دیا گيا اور فی الحال وہ ضمانت پر رہا ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فریڈی کی ہلاکت کے بعد بالٹیمور میں پرتشدد ہنگامے شروع ہوگئے تھے

یہ پولیس اہلکار اب دو جولائی کو عدالت میں پیش ہوں گے۔

ان میں سے ایک پولیس افسر پر دوسرے درجے کے قتل کا الزام ہے جبکہ باقی پانچ پولیس افسروں پر غیر ارادی قتل سے لے کر مارپیٹ تک مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

میریلین موزبی کا کہنا تھا کہ جیسا کہ اکثر مقدمات میں ہوتا ہے، جاری تفتیش کے دوران حاصل ہونے والے شواہد کی روشنی میں الزامات پر نظرِ ثانی کی گئی۔

گرینڈ جیوری نے ملزمان پر استغاثہ کی جانب سے کچھ افسران پر لگایا گیا غیر قانونی گرفتاری کا الزام خارج کیا تاہم ملزمان پر لاپرواہی کے نتیجے میں نقصان پہنچانے کا نیا الزام عائد کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ میں گذشتہ چند ماہ کے دوران نہتے سیاہ فام افراد کے خلاف پولیس کی کارروائی میں ہلاکت کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں

ان ملزمان کے وکلائے صفائی میں سے ایک مائیکل ڈیوی نے گذشتہ سماعت پر کہا تھا کہ ان اہلکاروں نے ’کچھ بھی غلط نہیں کیا اور اپنی تربیت کے مطابق ہمہ وقت معقول طرز عمل اختیار کیے رکھا تھا۔‘

مائیکل ڈیوی نے میریلین موزبی پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ انھوں نے جلدبازی میں انتہائی قابل اعتراض الزامات عائد کر دیے ہیں۔

بالٹیمور پولیس کی یونین نے میریلین موزبی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس مقدمے سے الگ ہو جائیں اور اس مقدمے کے لیے خصوصی وکیل مقررکیا جائے تاہم انھوں نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکہ میں گذشتہ چند ماہ کے دوران نہتے سیاہ فام افراد کے خلاف پولیس کی کارروائی اور اس میں ان کی ہلاکت کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔

اسی بارے میں