رہنماؤں کی ہلاکت یا گرفتاری میں اپنی غفلت، ’موڈ کے مطابق جہاد کرتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی حکام نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ملنے والی مزید دستاویزات جاری کی ہیں جن میں کتابیں، خطوط اور القاعدہ کا آپریشن چلانے کے حوالے سے معلومات شامل ہیں۔

امریکہ کے ایک خصوصی دستے نے سنہ 2011 میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو ایک خصوصی آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔

اس کارروائی کے دوران کمپاؤنڈ میں موجود دستاویزات کو بھی امریکی اہلکاروں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ میں عربی میں کی گئی خط و کتابت کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں بھی کتابیں موجود تھیں۔ اسامہ بن لادن کی کتابوں کی الماری میں عسکری نظریات اور معشیت پر لکھی گئی کتابیں بھی شامل تھیں۔

اسلامی امارات کے خاتمے کے بعد سیکھے گئے سبق

ان دستاویزات میں اسامہ بن لادن نے ان واقعات کا ذکر کیا ہے جو کہ القاعدہ کے لوگوں کی غفلت کے باعث پیش آئے۔

ان میں مکانوں کو بمباری کا نشانہ بنائے جانے اور اہم رہنماؤں کی گرفتاری کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس دستاویز میں ایک جگہ امریکی طیارے سی 130 کو ’خسیس‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔

ایک اور موقعے پر ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے رہنما شریف اللہ المصری کی گرفتاری اس لیے ہوئی کہ اس نے ان لوگوں سے احتیاط نہیں برتی جن کے بارے میں شریف اللہ کو معلوم تھا کہ وہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے مخبر ہیں۔

شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کا اس دستاویز میں دو بار ذکر کیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق ابو زبیدہ کی گرفتاری اس لیے ہوئی کہ اس نے لشکر طیبہ کے ساتھ گہرے تعلقات رکھے یا پھر فون اور انٹرنیٹ کے استعمال میں احتیاط نہیں برتی۔

اسی طرح ایک اور رہنما ابو یاسر کی گرفتاری کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ یا تو اس کی گرفتاری وقتاً فوقتاً انٹرنیٹ استعمال کرنے یا پھر لشکر طیبہ کی جانب سے دھوکہ دیے جانے پر وہ گرفتار ہوئے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے رہنماؤں کی ہلاکت یا گرفتاری کی بڑی وجہ احتیاط نہ برتنا تھی یا پھر اپنی حرکات و سکنات میں لاپروائی تھی۔

پاکستان میں خودکفیل اور بلاجواز تفریق اور اتحاد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایک دستاویز ’پاکستان اور افغانستان میں صورت حال‘ میں اسامہ بن لادن نے لکھا ہے کہ القاعدہ پاکستان میں مختلف گروہوں کی موجودگی کے باعث خود کفیل ہے۔

اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مختلف گروہ کام کر رہے ہیں اور مقامی طالبان گروہ کام کر رہے ہیں۔

’مقامی طالبان گروہوں نے القاعدہ کا ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔ ان کے علاوہ تحریک طالبان ہے اور کچھ ایسے گروہ ہیں جنھوں نے اتحاد نہیں کیا۔‘

’جن گروہوں نے ہمارے ساتھ اتحاد نہیں کیا ان کی صلاحیت بھی کم نہیں ہے۔‘

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ افغانستان میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ’اور ہمارے لیے ایسا کرنا ضروری ہے لیکن طالبان کو ہماری ضرورت نہیں ہے۔ ہم صرف ان کو اخلاقی اور علامتی مدد فراہم کر رہے ہیں۔‘

اس دستاویز میں امریکی ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصانات کا اعتراف کیا گیا ہے۔

’امریکہ کو خفیہ جنگ اور جاسوسی طیاروں کی وجہ سے بہت فائدہ ہوا ہے اور ہمارے کئی اہم رہنما مارے گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہمیں تشویش ہے۔‘

اس میں مزید کہا گیا ہے: ’ضروری ہے کہ اس صورت حال کے مدنظر ہمیں تعاون بڑھانے اور مہارت کا تبادلہ کرنا چاہیے کیونکہ عین ممکن ہے کہ دشمن یہی حکمت عملی دیگر ملکوں میں بھی اپنائے۔‘

دستاویزات میں مالی دشواریوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ تاہم سب سے زیادہ ذکر محتلف ملکوں سے آئے ہوئے جنگجوؤں پر قابو رکھنے میں دشواریوں کا ہے۔

’ہمارے پاس عرب، ازبک، ترک، ترکستانی، بلقانی، ہر قسم کے روسی، جرمن اور دیگر ملکوں سے آئے ہوئے جنگجو ہیں۔‘

’سب سے زیادہ مسئلہ عرب جنگجوؤں کے ساتھ ہے۔ ہمیں بلاجواز تفریق اور اتحادوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کو میں ’جعلی کمانڈر‘ کہتا ہوں۔ یہی مسئلہ ہمیں خراسان میں بھی ہے جو ہمارا بہترین علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔‘

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ شخصی قوت اور کنٹرول میں کمی کے باعث یہ جنگجو اپنے موڈ اور خواہش کے مطابق جہاد کر رہے ہیں۔‘

’یہ لوگ یہاں آتے ہیں اور رہتے ہیں لیکن وہ قوانین کی پاسداری نہیں کرتے اور ان کو موجودہ نظام پسند نہیں آتا۔ یہ لوگ چاہے علمند، باصلاحیت ہوں لیکن مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ان کو ذمہ داری نہیں سونپی جاتی تو وہ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہمیں جان بوجھ کر آگے بڑھنے نہیں دیا جا رہا۔‘

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ان جنگجوؤں کی جانب سے احکامات کے ماننے سے انکار کے باعث القاعدہ کو نقصان پہنچا ہے اور تنظیم کے اندر مزید تفریق ہو گئی ہے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس تفریق کے باعث کچھ افراد القاعدہ تو چھوڑ دیتے ہیں لیکن جہاد جاری رکھتے ہیں اور اپنی لاپروائی کے باعث اپنے آپ کو اور القاعدہ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

’میری ذاتی رائے یہ ہے کہ یہ ہمارے بیچ بیماری ہے۔ ہمارے لیے یہ بہت بڑی مشکل ہے۔ اگر ہم خاموش رہیں تو بھی مسئلہ ہے اور اگر بات کریں تو بھی مسئلہ ہے۔

اسی بارے میں