ریگا اجلاس ’روس کے خلاف نہیں ہے‘

انگیلا میرکل تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس روس کے خلاف نہیں ہے

یورپی یونین کے رہنما چھ سابق سویت ریاستوں سے مذاکرات کے لیے لیٹویا میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔

اجلاس سے قبل جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا کہ یورپی یونین کی مشرقی پارٹنرشپ یورپی یونین کی توسیع پسندی کی پالیسی کو جاری رکھنے کا آلہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ پارٹنرشپ کسی کے خلاف نہیں ہے، یہ روس کے خلاف نہیں ہے۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ روس ابھی جی سیون میں شمولیت اختیار نہیں کر سکتا۔

’جب تک روس عام بنیادی اقدار کی پاسداری نہیں کرتا، اس کی جی ایٹ کی شکل میں واپسی ہمارے لیے ناقابلِ فہم ہے۔‘

اگلے ماہ جی سیون کے رکن ممالک جنوبی جرمنی کے شہر الامو میں مل رہے ہیں۔

روس سابق سویت ریاستوں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ماسکو کی سربراہی میں بننے والے یوریشین اتحاد کا حصہ بنیں۔

یورپی یونین اور یوکرین کے درمیان دور رس رفاقت کے معاہدے سے روس ناراض ہے۔

یوکرین کا بحران نومبر 2013 میں لیتھوینیا مشرقی پارٹنرشپ کے اجلاس کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس وقت یوکرین کے سابق صدر اور روس کے اتحادی وکٹر یانوکووچ نے ایسوسی ایشن کے معاہدے پر دستخط سے انکار کر دیا تھا۔

وہ 2014 میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد، جن میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، یوکرین کے دارالحکومت کیئف سے فرار ہو گئے تھے۔

انتخابات کے بعد بننے والی مغرب کی حامی حکومت نے ایسوسی ایشن معاہدے پر دستخط کیے لیکن اس کا اہم آزاد تجارتی معاہدے کا حصہ جنوری 2016 تک معطل کر دیا گیا تاکہ اس کے متعلق روس کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔

ریگا میں دو روزہ اجلاس مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے شروع ہو گا۔ اس میں یورپی یونین کے رہنما آرمینیا، آذربائیجان، بیلارس، جیورجیا، مولدووا اور یوکرین کے ہم منصبوں سے مذاکرات کریں گے۔

روس کے کرائمیا پر قبضے اور مشرقی یوکرین میں روس کے حامی باغیوں کی حمایت کے بعد لیٹویا، ایسٹونیا اور لیتھوینیا میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ تینوں بالٹک ریاستیں کئی دہائیوں سے روس کی عمل داری میں رہی ہیں۔

یورپی یونین کے تجارت اور شراکت کے معاہدوں کا مقصد سابق سویت ریاستوں کو یورپی یونین کے معیار پر لانا ہے، نہ صرف تجارت بلکہ انسانی حقوق اور طرزِ حکمرانی کے حوالے سے بھی۔

چانسلر میرکل کا کہنا ہے کہ یہ معاہدے ہر پارٹنر ریاست کی انفرادی صورتِ حال دیکھ کر بنائے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین آرمینیا، آذربائیجان اور بیلارس کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات کا احترام کرتی ہے۔

اسی بارے میں