اسرائیل: اولمرت کو رشوت کے الزام میں آٹھ ماہ کی قید

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ ‎سزا گذشتہ سال سنائی جانے والی چھ سال کی سزا کے علاوہ ہے

اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرت کو دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی کے جرم میں آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

انھیں مارچ میں ایک مقدمے کی دوبارہ سماعت کے دوران ایک امریکی تاجر سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر رشوت لینے کا مرتکب پایا گیا تھا۔

ان کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کریں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ سال ایک اور مقدمے میں انھیں رشوت لینے کے الزام میں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اولمرت سنہ 2006 سے 2009 کے درمیان اسرائیل کے وزیر اعظم رہے۔ انھیں بدعنوانی کے الزامات کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونا پڑا اور اس کی وجہ سے ان کا سیاسی کریئر بھی ختم ہو گیا۔

ان کے جانے سے فلسطین کے ساتھ اسرائیل کے امن مذاکرات بھی متاثر ہوئے اور بن یامن نتن یاہو کے منتخب ہونے کی راہ ہموار ہو گئی جنھیں امن مذاکرات کے سلسلے میں زیادہ سخت گیر تصور کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption اولمرت نے خود کو ہمیشہ بے قصور کہا ہے اور ان الزامات کو ’بہیمانہ اور بے رحمانہ‘ قرار دیا ہے

اولمرت کو نیویارک کے فائنانسر مورس ٹلانسکی سے لفافوں میں کیش قبول کرنے کے الزام سے سنہ 2012 میں بری کر دیا گیا تھا۔ لیکن جب اس معاملے میں چند ریکارڈنگ سامنے آئیں تو اس کیس کی دوبارہ سماعت کا حکم جاری کیا گیا تو انھیں رشوت لینے کا قصوروار پایا گیا۔

یہ واقعہ گذشتہ دہائی کے اوائل کا ہے جب وہ تجارت و صنعت کے وزیر ہوا کرتے تھے۔

اولمرت نے خود کو ہمیشہ بے قصور کہا ہے اور ان الزامات کو ’بہیمانہ اور بے رحمانہ ‘ قرار دیا ہے۔

اس کے علاوہ 69 سالہ اولمرت ریئل سٹیٹ کے ایک مقدمے میں ملنے والی چھ سال کی ‎سزا کے خلاف بھی اپیل کر رہے ہیں۔ سنہ 1990 کی دہائی میں جب وہ یروشلم کے میئر تھے تو یہ واقعہ پیش آیا تھا جس کی سزا گذشتہ سال مئی میں دی گئی تھی۔

ان پر یہ الزام تھا کہ شہر کے قلب میں ایک متنازع رہائشی پروجیکٹ ہولی لینڈ میں تیزی لانے کے لیے انھوں نے رشوت لی تھی۔

اسی بارے میں