’چین اپنی سمندری حدود سے باہر بھی نظر رکھے گا‘

چین کی بحریہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین اپنی بحریہ کی طاقت میں خاطر خواہ اضافہ کر رہا ہے

ایک سٹریٹیجی دستاویز کے مطابق چین اپنی سمندری حدود سے باہر بھی اپنی فوجی موجودگی کو نمایاں کرنے پر غور کر رہا ہے۔

چین کی بحریہ اپنی توجہ اب ساحل سے پرے پانیوں کے دفاع کی بجائے کھلے پانیوں کے تحفظ پر مرکوز کرے گی۔

سٹیٹ کونسل نے کہا ہے کہ وہ ’سکیورٹی کے بڑے خطرات‘ سے نمٹنے کے لیے سائبر فورس کی تشکیل کو تیز بنائے گی۔

چین پر الزام ہے کہ وہ جنوبی چین کے سمندر میں جارحانہ طریقے سے علاقائی تسلط کی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن میں تشویش پائی جاتی ہے۔

اس دستاویز میں چار اہم چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سمندر، فضا، جوہری فورس اور سائبر سپیس شامل ہیں۔ اس کی حالیہ بحری پالیسی سب سے زیادہ متنازع رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں چین نے اپنی توجہ اپنی بحریہ کو مضبوط بنانے پر مرکوز رکھی ہے۔ اس نے ایک بحری بیڑا لانچ کیا ہے اور آبدوزوں اور جنگی کشتیوں میں کافی سرمایہ لگایا ہے۔

اس کے علاوہ اس نے جنوبی چین کے سمندر میں موجود ان متنازع جزیروں پر بھی دعویٰ کیا ہے جن پر فلپائن، ویت نام، ملیشیا اور برونائی بھی دعویٰ کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چین کے جنوبی سمندر میں چین کی فوج کے بڑھتے ہوئے نقل و حرکت پر کافی تنقید کی جا رہی ہے

امریکی حکام کے مطابق سپراٹلے کے جزیروں پر چین نے 2,000 ایکڑ علاقے کو خشک کیا ہے تاکہ وہاں رن وے بنایا جا سکے۔

اس دستاویز میں چین کے سمندری حقوق اور مفادات کو درپیش خطرات کا بھی ذکر ہے۔

اس میں لکھا ہے کہ ’چین اس وقت تک حملہ نہیں کرے گا، جب تک اس پر حملہ نہیں ہوتا، لیکن وہ جوابی حملہ کرے گا۔‘ اس میں ’چند ساحلوں سے دور کے ہمسائیوں‘ کی اشتعال انگیز کارروائیوں اور جنوبی چین کے سمندر کے معاملات میں بیرونی پارٹیوں کی شمولیت کا بھی ذکر ہے۔

جس دن یہ سٹریٹیجی دستاویز جاری کی گئی ہے اسی روز سرکاری نیوز ایجنسی شن ہوا نے کہا ہے کہ سپراٹلے کے جزیروں پر پچاس پچاس میٹر کے دو اونچے روشنی کے مینار بنائے جائیں گے۔ ان جزائر پر ملکیت کا دعویٰ ویت نام اور فلپائن بھی کرتے ہیں۔

اس دستاویز کے اجرا کے وقت کی جانے والی نیوز کانفرنس میں وزارتِ دفاع کے یانگ یوجن نے کہا: ’اگر خود مختاری کے زاویے سے دیکھا جائے تو اپنے جزیروں پر تعمیراتی ترقی میں اور دنیا بھر میں ہونے والے دوسری قسم کے تعمیراتی کاموں میں کوئی فرق نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جزیرے کی تعمیر پورے بین الاقوامی معاشرے کے مفاد میں ہے کیونکہ اس سے چین کے ریسرچ اور ریسکیو اور ماحول کے تحفظ کو مدد ملی ہے۔

چین نے گذشتہ ہفتے سپراٹلے جزائر پر امریکی جاسوس طیارے کی پرواز پر تنقید کی اور دونوں نے ایک دوسرے پر الزام لگایا کہ وہ خطے میں عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کی فضائیہ علاقے کے فضائی دفاع سے اپنی توجہ ہٹا کر دفاع اور حملہ دونوں مرکوز کر دے گی اور فضائی حدود کے دفاع کو مضبوط فوجی صلاحیتوں کے ساتھ بہتر بنائے گی۔

اسی بارے میں