لوریٹا کا نام پیلے، میراڈونا، میسی کے ساتھ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لوریٹا نے 80 کی دہائی کے وسط میں نیویارک میں قانون کی کمپنی کیہل گورڈن اینڈ رینڈل میں شمولیت اختیار کی

فٹبال کے عالمی ادارے فیڈریشن آف انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشنز (فیفا) کے نو عہدیداران اور پانچ کارپوریٹ ایگزیکٹیوز کے خلاف کارروائی کی دھول بیٹھنے کے بعد اس میں سے لمبی اور پیچیدہ تفتیش کرنے والا ایک چہرہ نمودار ہوا ہے۔

اور جب فرد جرم عائد کرنے کا وقت آیا تو امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا لینچ نے صاف صاف بات کی۔ انھوں نے کہا کہ فیفا کے عہدیداران ’بے روک ٹوک اور مربوط انداز‘ میں بدعنوانی میں ملوث تھے۔

لوریٹا کو ابھی اپنا عہدہ سنبھالا ایک ماہ ہی ہوا ہے۔ اچانک ان کا چہرہ ہر ٹی وی چینل اور ہر اخبار کے پہلے صفحے پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی محکمۂ انصاف بدعنوانی میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچائے گا۔

یہ اس خاتون کی طرف سے بڑا دلچسپ بیان ہے جن کی تعیناتی چھ ماہ تک رپبلکن پارٹی کے سینیٹروں نے روک کر رکھی۔

لوریٹا نارتھ کیرولائنا میں 1959 میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خواب ہارورڈ یونیورسٹی سے ڈگری لینا تھا۔ ان کے والد لورینزو نے بی بی سی کو کچھ عرصہ قبل بتایا: ’وہ بہت متجسس بچی تھی۔ وہ ہر ایک سے سوال پوچھتی اور ہر چیز کے بارے میں پوچھتی تھی۔‘

لوریٹا کا خواب اس وقت پورا ہوا جب 1981 میں انھوں نے انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کی اور پھر قانون کی جانب دلچسپی ظاہر کی۔

لوریٹا نے 80 کی دہائی کے وسط میں نیویارک میں قانون کی کمپنی کیہل گورڈن اینڈ رینڈل میں شمولیت اختیار کی۔ 1990 میں ان کو نیو یارک کے مشرقی علاقے کا پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا۔

ڈسٹرکٹ اٹارنی مقرر ہونے کے پہلے ہی سال ان کو ایک اہم کیس سونپا گیا۔ یہ کیس ایبنر لوئما کا تھا جس کا تعلق ہیٹی سے تھا اور اس کے ساتھ پولیس افسران نے جنسی زیادتی کی اور مارا پیٹا۔

سخت عوامی ردعمل میں لوریٹا نے پولیس افسران کو سزا دلوائی۔ ایک اہلکار کو 30 سال قید ہوئی۔ مقدمے کے دوران ایک روز لوریٹا کو امریکی مارشلز کی حفاطت میں عدالت سے باہر لے جایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نومبر 2014 میں صدر اوباما نے لوریٹا کو امریکی اٹارنی جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کیا

لوریٹا لینچ نے 2001 میں ڈسٹرکٹ اٹارنی کا عہدہ چھوڑا اور ہوگن اینڈ ہارٹسن قانون کی کمپنی میں شمولیت اختیار کی۔ اس کمپنی کے ساتھ اس وقت تک رہیں جب تک 2010 میں صدر براک اوباما نے ان کو دوبارہ نیویارک کے مشرقی علاقے کا اٹارنی نامزد نہیں کیا۔

نومبر 2014 میں صدر اوباما نے لوریٹا کو امریکی اٹارنی جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔

لوریٹا لینچ فیفا کی تحقیقات میں نیو یارک کی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے زمانے ہی میں ملوث ہو گئی تھیں۔

نیو یارک کے علاقے بروکلن میں پانچ سال کے عرصے میں فیفا کے عہدیداران کے خلاف کیس کو بنایا گیا۔

امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا لینچ نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا: ’ہمیں شروع ہی سے معلوم تھا کہ یہ بہت بڑا کیس ہے۔‘

امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ فیفا میں بدعنوانی کی تحقیقات نیویارک کے مشرقی ڈسٹرکٹ کے میٹنگ روم سے پورے ملک کے بینکنگ نظام تک پھیلی ہوئی تھی۔

لوریٹا لینچ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور انٹرنل ریونیو سروس کی مدد سے اس بدعنوانی کی جڑ تک پہنچیں جس کا اعلان انھوں نے بدھ کو کیا۔

امریکی رسالے پولیٹیکو نے کہا ہے کہ ’عالمی فٹبال کا ایک نیا چیمپیئن آ گیا ہے۔ فٹ بال کے بڑے ناموں میں جیسے کہ پیلے، میراڈونا، میسی میں ایک اور نام شامل کر لو اور وہ نام ہے لوریٹا لینچ کا۔ تین ہفتے پہلے 43-56 کے سکور سے مقرر کردہ امریکی اٹارنی جنرل کو فٹبال کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘

اسی بارے میں