عراق کار بم دھماکوں میں ’دس افراد ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اطلاعات کے مطابق ان دھماکوں کے نتیجے میں کم سے کم 30 افراد زخمی ہوئے

عراق میں پولیس کے مطابق دارالحکومت بغداد میں واقع دو ہوٹلوں کے باہر ہونے والے دو کار بم دھماکوں میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ دریائے فرات کے قریب بیبی لون نامی ہوٹل جبکہ دوسرا ایشتر ہوٹل کے باہر ہوا۔

حکام کے مطابق یہ دونوں دھماکے مقامی وقت کے مطابق آدھی رات کے بعد ہوئے۔

خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق ان دھماکوں کے نتیجے میں کم سے کم 30 افراد زخمی ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غداد میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیرن نے ٹویٹ کیا ہے کہ شیرٹن ہوٹل کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ دوسرے دھماکے نے بی بی سی دفتر ہو ہلا کر رکھ دیا

بغداد میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیرن نے ٹویٹ کیا ہے کہ شیرٹن ہوٹل کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ دوسرے دھماکے نے بی بی سی دفتر ہو ہلا کر رکھ دیا۔

عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں بیبی لون کی کار پارکنگ میں ایک تیسرا بم ملا ہے جس ناکارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ان ہوٹلوں کی تزین و آرائش کے بعد جمعرات کی رات یہاں کافی رش ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ کچھ دن پہلے بھی طالبان شدت پسندوں نے کابل میں ایک گیسٹ ہاؤس پر حملہ کیا تھا جس میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں کچھ غیر ملکی بھی شامل تھے۔

سنہ 2010 میں ان ہوٹلوں کو کار بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں