’ادلب میں شامی حکومت کے آخری گڑھ پر بھی باغی قابض‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ادلب ترکی کو ملانے والی اہم شاہراہ کے علاوہ صوبہ لتاکیا کے قریب واقع ہے جو صدر بشار الاسد کی حکومت کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق القاعدہ سے منسلک اسلامی شدت پسند تنظیم النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں اور دیگر باغیوں پر مشتمل اتحاد نے شام کے مغربی صوبے ادلب میں حکومت کے آخری گڑھ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

شام کے حالات پر نظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق جیش الفتح نامی عسکری اتحاد نے اریحا نامی شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

دوسری جانب شامی فوج کا کہنا ہے کہ شہر میں شدید لڑائی جاری ہے۔

اریحا پر باغیوں کے قبضے کا مطلب یہ ہوگا کہ ادلب کا پورا صوبہ اب باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ سال مارچ سے باغیوں کی پیش قدمی جاری ہے اور انھوں نے ادلب کے متعدد شہروں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شام میں چار سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ شہری پناہ کے لیے ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں

ادلب کی سرحد ترکی کے ساتھ ساتھ شامی صوبے لاذقیہ سے بھی ملتی ہیں جو صدر بشار الاسد کی حکومت کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

دریں اثنا النصرہ فرنٹ کے سربراہ ابو محمد نے الجزیرہ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ دمشق پر قبضہ کر کے صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمے پر ہے۔

انھوں نے شام میں رہنے والی اقلیتوں سے بشار الاسد کے خلاف ہو جانے پر ان کے تحفظ کا وعدہ کیا۔

الجزیرہ چینل نے ایک گھنٹے پر مشتمل یہ انٹرویو بدھ کی رات نشر کیا۔

شام میں چار سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ شہری پناہ کے لیے ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں