کم ترین شرحِ پیدائش میں جرمنی آگے

نوزائیدہ بچہ تصویر کے کاپی رائٹ AP

ایک تازہ تحقیق کے مطابق جرمنی میں بچوں کی شرحِ پیدائش دنیا بھر میں سب سے کم ہوگئی ہے۔ اس انکشاف نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ افرادی قوت کی کمی وہاں کی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

جرمن تجزیہ کاروں کی ایک رپورٹ کے مطابق جرمنی میں بچوں کی پیدائش کی شرح نہ صرف جاپان سے کم ہوئی ہے بلکہ دنیا میں بھی کم ترین ہوگئی ہے۔

رپورٹ مرتب کرنے والوں نے کام کرنے کی اہل آبادی میں کمی کے اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افرادی قوت میں خواتین کا حصہ ملک کے اقتصادی مستقبل میں کلیدی اہمیت کا حامل ہوگا۔

ایک جرمن آڈٹ فرم بی ڈی او اور ہیمبرگ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اِکنامکس کی تحقیق کے مطابق ملک گزشتہ پانچ برسوں کے دوران فی ایک ہزار آبادی میں 8.2 بچے پیدا ہوئے۔

اسی عرصے کے دوران جاپان میں فی ایک ہزار آبادی میں 8.4 بچے پیدا ہوئے۔

جبکہ یورپ میں پرتگال اور اٹلی بالترتیب دوسرے اور تیسرے درجہ پر رہے جہاں فی ایک ہزار آبادی میں 9 اور 9.3 بچوں نے جنم لیا۔ فرانس اور برطانیہ میں فی ایک ہزار آبادی میں 12.7 بچے پیدا ہوئے۔

اسی عرصے میں شرحِ پیدائش کے اعتبار سے افریقہ سرِ فہرست رہا جہاں نائجر میں فی ایک ہزار آبادی میں 50 بچے پیدا ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بچے کی نگہداشت کے لیے جرمن حکومت کی طرف سے امداد کے باجود شرحِ پیدائش میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہوا

ہیمبرگ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اِکنامکس کے ڈائریکٹر ہیننگ وایوپل کا کہنا ہے کہ جرمنی کی گرتی ہوئی شرحِ پیدائش کا مطلب یہ ہے کہ 2030 میں کام کرنے کی عمر۔20 تا 65 برس کے حامل افراد کا تناسب 61 فی صد سے کم ہوکر 54 فی صد رہ جائے گا۔

بی ڈی او کے بورڈ کے ایک رکن، ارنو پروبسٹ، کا کہنا ہے کہ جرمنی میں آجروں کو ملازمین کو زیادہ اجرت دینی پڑے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’ایک مضبوط افرادی قوت کے بغیر جرمنی لمبے عرصے اپنی اقتصادی برتری کو برقرار نہیں رکھ سکے گا۔‘

کم شرح پیدائش کی وجوہات اور اس صورتحال سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں ماہرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

ارنو پروبسٹ کے مطابق ملک میں ہنرمندوں کی تعداد میں شدید کمی کو پورا کرنے کے لیے دوسرے ملکوں سے آنے والے تارکین وطن کی صلاحیتوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ اسی طرح معاشی مسائل سے بچنے کے لیے خواتین کو بھی افرادی قوت کا حصہ بننا ہوگا۔

جرمنی میں تارکین وطن کی آمد سب سے زیادہ ہے مگر ساتھ ہی تارکین وطن کی مخالف جماعت اے ایف ڈی کی مقبولیت بھی بڑھ رہی ہے۔

شرح پیدائش میں کمی کے تازہ ترین اعداد وشمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جرمن چانسلر اینگلہ مرکل کی حکومت بچوں کی نگہداشت کے منصوبوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری میں مصروف ہے۔

اسی بارے میں