آکسفرڈ یونیورسٹی کی پہلی خاتون سربراہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پروفیسر رچرڈسن آئرلینڈ میں پیدا ہوئیں اور ڈبلن کے ٹرینیٹی کالج میں تعلیم حاصل کی

برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو وائس چانسلر کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور لگتا ہے کہ لوئیز رچرڈسن یونیورسٹی کی نئی وائس چانسلر ہوں گی۔

پروفیسر رچرڈسن فی الحال سینٹ انڈریوز یونیورسٹی کی انچارج ہیں اور انھوں نے ماضی میں ہارورڈ یونیورسٹی میں بھی ایک اعلیٰ عہدے پر کام کیا ہے۔

اگر انھیں رسمی طور پر آکسفرڈ یونیورسٹی کی دو سو بہترویں وائس چانسلر بنا دیا گیا تو آٹھ سو سال میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ اس یونیورسٹی میں مرد کے بجائے ایک خاتون وائس چانسلر کے فرائض سنبھالیں گیں۔

وہ موجودہ وائس چانسلر اینڈریو ہیملٹن کی جگہ لیں گی جو نیو یارک یونیورسٹی میں جا رہے ہیں۔

آکسفرڈ یونیورسٹی نے سنہ 1230 میں اپنے پہلے سربراہ کا انتخاب کیا تھا اور آج تک صرف مرد ہی اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے ہیں۔

پرفیسر رچرڈسن کا انتخاب، وائس چانسلر نامزد کرنے والی ایک کمیٹی نے کیا ہے جس کے سربراہ آکسفرڈ یونیورسٹی کے موجودہ چانسلر لارڈ پیٹن ہیں۔ فیصلے کی حتمی منظوری یونیورسٹی کی رولنگ باڈی دے گی جسے ’کانگریگیشن‘ کہتے ہیں۔ پروفیسر رچرڈسن اگلے برس جنوری میں وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالیں گی۔

لارڈ پیٹن کا کہنا تھا کہ نامزدگی کرنے والی کمیٹی پرفیسر رچرڈسن کی ’تعلیمی اقدار‘ سے گہری وابستگی اور’تعلیمی رہنما‘ کی حیثیت سے ان کے ریکارڈ سے ’بہت متاثر‘ ہوئی ہے۔

پرفیسر رچرڈسن سیاسی امور کی ماہر ہیں اور انھیں دہشت گردی اور سکیورٹی جیسے موضوعات میں خصوصی مہارت حاصل ہے۔ انھوں نے امریکہ میں ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ پر ہونے والے حملوں کے بعد دہشت گردی پر اور اس کے انسداد کے موضوع پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔

پروفیسر رچرڈسن آئرلینڈ میں پیدا ہوئیں اور ڈبلن کے ٹرینیٹی کالج میں تعلیم حاصل کی ۔ انھوں نے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، لاس انجلیز اور ہارورڈ یونیورسٹی سے ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ وہ دو ہزار نو میں سینٹ انڈریوز یونیورسٹی کی وائس چانسلر بنیں۔

ان کا کہنا تھا ’آکفسرڈ دنیا کی عظیم درس گاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ایک ایسے وقت جب اعلیٰ تعلیم میں زبردست دلچسپی ہے مجھے اس غیر معمولی ادارے کی سربراہی کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔‘

اس نئی تقرری کے ساتھ آکسفرڈ یونیورسٹی ان بڑی جامعات میں شامل ہوجائے گی جہاں خواتین کو سربراہ بنایا جا رہا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی اور لندن کے امپیرئل کالج کی سربراہی پہلے ہی خواتین کے پاس ہے۔

لیکن ’ٹائمز ہائیر ایجوکیش مگیزین‘ نے کے مطابق اب بھی دنیا کے دو سو بڑے اداروں میں سات میں سے صرف ایک ادارے کی سربراہی خاتون کے پاس ہے۔

اسی بارے میں