’امریکی پولیس کے ہاتھوں روزانہ دو سے زائد ہلاکتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اخبار کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کے مطابق سفید افراد کے مقابلے میں ہلاک ہونے والے سیاہ فام افراد کی تعداد تین گنا زیادہ ہے

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکہ میں حکام کے اعداد و شمار کے برعکس پولیس کے ہاتھوں روزانہ دو سے زائد افراد مارے جاتے ہیں اور ان میں اکثریت سیاہ فام شہریوں کی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جمع کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ملک میں پولیس کے ہاتھوں 385 افراد مارے گئے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزانہ دو سے زائد افراد مارے گئے۔

اخبار کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں سیاہ فام افراد کی تعداد زیادہ ہے۔

امریکہ میں سیاہ فام ہی پولیس کے نشانے پر کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اخبار کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی کے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے دوران روزانہ 1.1 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ حقیقت میں یہ تعداد 2.6 ہے

حالیہ دنوں میں امریکی پولیس کے ہاتھوں کئی غیر مسلح سیاہ فام باشندوں کی ہلاکتوں سے مختلف امریکی شہروں میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور مظاہرے کیے گئے۔ ان میں سے کچھ کے بقول پولیس کے ہاتھوں مائیکل براؤن، ایرک گارنر، والٹر سکاٹ اور فریڈی گرے کی ہلاکت نسل پرستی اور بے جا طاقت کے استعمال کی مثالیں ہیں۔

حکومت کی جانب سے اعداد و شمار قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر جاری کیے جاتے ہیں اور ان کے مطابق سال 2008 سے ہر برس چار سو کے قریب افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے مقامی ذرائع ابلاغ، پولیس کی فائرنگ میں ہلاکتوں کے واقعات، انٹرویوز سمیت مختلف ذرائع سے اعداد و شمار جمع کیے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی کے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے دوران روزانہ 1.1 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ حقیقت میں یہ تعداد 2.6 ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپریل میں ہی امریکہ کی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹیمور میں پولیس کی حراست میں ایک سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہروں کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا

پولیس کے سابق سربراہ جم بورمین نے واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ بے شرمی سے ان واقعات کی اطلاع نہیں دی جاتی ہے اور ہم پولیس کی فائرنگ کے واقعات کو کم نہیں کر سکتے جب تک معلومات کو حاصل کرنے کے طریقۂ کار کو درست نہیں کرتے۔‘

اخبار کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کے مطابق سفید افراد کے مقابلے میں ہلاک ہونے والے سیاہ فام افراد کی تعداد تین گنا زیادہ ہے اور ان میں سے زیادہ تر مسلح تھے لیکن چھ میں سے ایک غیر مسلح تھا یا اس کے پاس نقلی بندوق تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں 365 مرد اور 20 خواتین شامل ہیں اور ان میں سے 118 کی عمریں 25 سے 34 سال کے درمیان تھیں جبکہ 94 کی عمر 34 سے 44 سال، 8 کی عمر 18 سال سے کم تھیں۔

اسی بارے میں