انسدادِ دہشت گردی کے لیے خفیہ نگرانی کے امریکی اختیارات ختم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدر براک اوباما نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس قانون کی میعاد ختم ہو جاتی ہے تو امریکہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

امریکہ کی سینٹ میں اتفاقِ رائے نہ ہونے کے بعد دہشت گردی کے تدارک کے لیے شہریوں کے فون ریکارڈ کی خفیہ نگرانی کے قانونی اختیار کی میعاد ختم ہو گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اسے ’غیر ذمہ درانہ بھول‘ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی ختم ہونے والی ان دفعات کے تحت سکیورٹی ایجنسیوں کو شہریوں کی فون کے اعداد و شمار کو اکٹھا کرنے کی اجازت حاصل تھی۔

اتوار کی شب امریکی سینیٹرز نے امریکہ کے فریڈم ایکٹ پر بحث و مباحثہ بھی کیا کہ آیا اس میں توسیع کی جائے یا اس کی جگہ ایسا قانون لایا جائے جس میں کثیر تعداد میں فون کے اعداد و شمار اکٹھا کرنے کی اجازت نہ ہو۔ تاہم مقررہ وقت کے اندر کسی بھی ایک نقطے پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

غیر ذمہ دارانہ بھول

وائٹ ہاوس نے اپنے ردِعمل میں سینٹ کی ناکامی کو غیر ذمہ دارانہ بھول قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک معاملے پر جو اتنا ہی نازک ہے جتنی کہ ہماری قومی سلامتی، سینیٹرز کو اپنی جانبداری کو ایک جانب رکھنا چاہیے اور تیزی سے اقدام کرنا چاہیے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی عوام اس سے کم کے حق دار نہیں۔

اس سے قبل صدر براک اوباما نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس قانون کی میعاد ختم ہوئی تو امریکہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

قانون پر اتفاق نہ ہونے کے بعد سکیورٹی سروسز پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت وسیع پیمانے پر فون کے اعداد و شمار اکٹھا کرنے، ’لون وولف یا اکیلے بھیڑیے‘ یعنی تنہا مشتبہ دہشت گردوں کی نگرانی اور مشتبہ لوگوں کی ’روونگ وائرٹیپس‘ کے ذریعے نگرانی کرنے کے مجاز نہیں رہے۔

امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) جو کہ فون کے اعداد و شمار اکٹھا کرنے کی ذمہ دار ہے اس نے پہلے سے ہی اپنی سرورز کو بند کرنا شروع کردیا ہے تاکہ وہ نصف شب کی ڈیڈ لائن کی پاسداری کر سکے۔ اب ان سرورز کے پھر سے آن کرنے میں تقریباً پورے ایک دن کا وقت لگ جائے گا۔

شمالی امریکہ میں بی بی سی کے ایڈیٹر جان سوپل کے مطابق امکان ہے کہ آئندہ چند دنوں میں نیا قانون پاس ہو جائے گا تاہم اس میں تاخیر ریپبلکن اور صدارت کے لیے پرامید سینیٹر رینڈ پالکی کامیابی سمجھا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سینیٹر رینڈ پال نے عہد کیا ہے کہ وہ اس نگرانی والے قانون کو روکنے یا اس میں تاخیر لانے کی ہر ممکنہ کوشش کریں گے

سینیٹر پال جو ریپبلیکن کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کی کوشش میں ہیں انھوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے اختیار میں اس نگرانی والے قانون کو روکنے یا اس میں تاخیر لانے کی ہر ممکنہ کوشش کریں گے۔

انھوں نے سینیٹ میں کہا: ’ کیا یہی وہ ہے جس کے لیے ہم نے انقلاب برپا کیا تھا کہ ہم اپنی اس آزادی اس بے فکری سے چھوڑ دیں گے۔ ہم اسے اب بالکل برداشت نہیں کرنے والے ہیں۔‘

گذشتہ دنوں سینیٹ ’پیٹریاٹ ایکٹ کے بعض حصوں کی توسیع کے لیے کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکی تھی لیکن اس نے ’فریڈم ایکٹ پر بحث و مباحثے کے حق میں 77 ووٹ دیے جس سے یہ امید کی جاتی ہے کہ نگرانی کے بعض اختیارات میں توسیع کی جائے گی لیکن ٹیلی مواصلات کی کمپنیوں کے پاس ہی فون کے اعداد و شمار رکھنے کی اجازت ہوگی اور ان کے استعمال پر کمپنیوں کے زیادہ اختیارات ہوں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ قانون اتوار کی نصف شب کو اپنی میعاد پوری کررہا ہے

ایک عدالت نے پہلے ہی اس عمل کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور فریڈم ایکٹ کی ایوان نمائندگان اور وائٹ ہاؤس دونوں نے حمایت کی ہے۔

نیشنل انٹلیجنس کے امریکی ڈائرکٹر جیمز کلیپر نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس قانون کی میعاد ختم ہو جاتی ہے تو اس سے بیرونی دہشت گردوں پر نظر رکھنے کی امریکی صلاحیت متاثر ہوگی۔

اسی بارے میں