وسط ایشیا میں دولتِ اسلامیہ خطرے کی گھنٹی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وسطی ایشیائی ممالک کو اس بات پر تشویش ہے کہ دولتِ اسلامیہ افغانستان، عراق اور شام میں سخت گیر راستہ اپنا سکتی ہے

تاجکستان کی سپیشل فورسز کے سربراہ کی اس ویڈیو نے وسطی ایشیائی ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے جس میں انھوں نے تاجکستان حکومت کی اسلام مخالف پالیسیوں کی وجہ سے دولت اسلامیہ میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

گلمرود خلیمووف کے اعلان کے بعد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے خطے کو لاحق خطرے کے بارے میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

وسطی ایشیائی ممالک کو اس بات پر تشویش ہے کہ دولتِ اسلامیہ افغانستان، عراق اور شام میں سخت گیر راستہ اپنا سکتی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ دیکھیے قندیل شام کی رپورٹ

قزاقستان کے دارالحکومت الماتی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار عبدالجلیل عبدالرسولوف نے اس صورتِ حال پر تجزیہ کیا ہے۔

اندازوں کے مطابق وسطی ایشیائی ممالک سے 1,500 سے 4,000 کے لگ بھگ افراد نے شام میں مختلف اسلامی شدت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے۔

بھرتی کیے جانے والے ہزاروں افراد میں سے متعدد ایسے ہیں جنھوں نے کام کے سلسلے میں مشرقِ وسطیٰ کا سفر کیا تھا اور ان میں سے زیادہ کا تعلق روس سے ہے جو جہادی پروپگینڈا سے جلدی متاثر ہو جاتے ہیں۔

امتیاز، ناانصافی اور سخت زندگی کی وجہ وسطی ایشیا کے حالات شدت پسندی کی ترویج کے لیے سازگار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گلمرود خلیمووف وسطی ایشیا کے اعلیٰ ترین سرکاری اہلکار ہیں جنھوں نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی ہے

تاجکستان کی سپیشل فورسز کے سربراہ گلمرود خلیمووف کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا اور انھوں نے اپنے ویڈیو بیان میں ایسے مہاجر ورکروں سے براہِ راست خطاب کیا۔

انھوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں تاجک پولیس کی زیادتیوں اور روس میں ہزاروں تاجک مزدوروں کے ساتھ پیش آنے والے ناروا سلوک کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’روس میں کام کرتے ہوئے آپ ان کافروں کے غلام بن جاتے ہیں۔۔۔ آپ ان کے لیے محض چُرکی (روسی زبان میں وسطی ایشیائیوں کے لیے حقارت آمیز لفظ) ہیں، اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔ جہاد کرنے کے لیے دولتِ اسلامیہ میں شامل ہو جائیں۔ وہاں سے یہاں آنا آسان ہے۔‘

سوشل میڈیا کی دنیا میں، جہاں ایسی ویڈیوز اور پیغامات گردش کرتے ہیں، اس بھرتی میں اہم کردار ادا کیا۔

سوشل میڈیا شدت پسندوں کے لیے اس جانب مائل افراد سے بات چیت کرنے کے لیے نیٹ ورکنگ کا اہم آلہ ثابت ہوا ہے۔

ریگستان ڈاٹ نیٹ کے مینیجنگ ایڈیٹر نووا ٹکر کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیائی خاص پر روس سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کو جہادی پروپیگینڈا کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گاؤں یا سکول سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے وہ پھر آگے اپنے جاننے والوں کو بھرتی کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ریگستان ڈاٹ نیٹ کے مینیجنگ ایڈیٹر نووا ٹکر کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیائی خاص پر روس سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کو جہادی پروپیگینڈا کا نشانہ بنایا جاتا ہے

’لیکن میں وسطی ایشیائی افراد میں جو بڑا رجحان دیکھ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ نوجوان اپنے آپ کو کسی بڑی مہم کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، خاص طور پر اس صورتِ حال میں جہاں وہ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔‘

نووا ٹکر کا کہنا ہے کہ ہر تارکِ وطن شخص کا معاملہ مختلف ہے۔

نوا ٹکر کے مطابق: ’وہ اپنی زندگی کا مقصد ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ کسی بڑی اور اہم چیز کا حصہ بن سکیں۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قزاقستان کے تقریباً 300 شہریوں نے شام میں شدت پسندوں کے ساتھ شمولیت اختیار کی ہے۔

ان اعداد و شمار کے مطابق ان شہریوں نے شام میں مختلف گروہوں میں شمولیت اختیار کی ہے جن میں ازبک شدت پسند بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی کرائسس گروپ کے ڈائریکٹر دیردے ٹائن اس بات پر مصر ہیں کہ سخت گیر حکومتوں میں دولتِ اسلامیہ کے خیالات کو متبادل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ٹائن کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ایسی ممالک میں جاری سیاسی بے چینی ہے۔

دوسری جانب یونیورسی آف ایکسیٹر کے جان ہیدر شاہ اس بات پر مصر ہیں کہ تاجکستان کی سپیشل فورسز کے سربراہ گلمرود خلیمووف اپنے ساتھ چند کمانڈر بھی لے گئے ہیں اور یہ واضح نہیں کہ ان کا منحرف ہونا کس پیٹرن کی عکاسی کرتا ہے۔

اسی بارے میں