میلے میں کتوں کا گوشت کھانے کی مخالفت

تصویر کے کاپی رائٹ Duo Duo
Image caption مغربی سوشل میڈیا کی ویب سائٹوں پر تو یولن کے میلے کی مخالفت کی جا رہی ہے تاہم چین میں مقبول ویب سائٹ ویبو پر رائے منقسم ہے

چین میں کتوں کا گوشت کھانے کے ایک میلے کی مخالفت میں کئی برس سے اضافہ ہو رہا ہے تاہم اس سال اس میلے کی مخالفت دنیا بھر میں کی جا رہی ہے۔ کیا اس غم و غصے کی وجہ سے چین میں کتوں کا گوشت کھانا روک دیا جائے گا؟

’کتے یا بلی کا گوشت مت کھائیے‘

جنوبی چین میں گوانگشی صوبے کے شہر یولن میں ہر سال موسمِ گرما کے وسط میں ایک اندازے کے مطابق دس ہزار کتے پکا کر کھا لیے جاتے ہیں۔ اگرچہ کتے کھانا چین میں غیر قانونی نہیں تاہم اس سوال پر رائے منقسم ہے کہ یہ روایت کتنی مقبول ہے۔

گذشتہ کئی سالوں سے سوشل میڈیا پر چین میں جانوروں کے حقوق پر کام کرنے والے اور دیگر افراد یولن میں ہونے والے اس میلے کی مخالفت کرتے ہیں۔

مگر اس سال یہ مخالفت دنیا بھر میں دیکھی گئی ہے۔ اس سال مئی کے مہینے میں ڈھائی لاکھ ٹویٹس #StopYulin2015 کے ہیش ٹیگ کے ساتھ شائع کی جا چکی ہیں جن میں سے زیادہ برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا سے آئی ہیں۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ مخالفت کرنے والوں میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والا امریکی ادارہ ڈوئو ڈوئو شامل ہے جس کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی پٹیشن پر دو لاکھ حمایتیوں نے دستخط کیے ہیں۔

تنظیم کی جانب سے یو ٹیوب پر جاری کی گئی ایک ویڈیو سوا لاکھ مرتبہ سے زیادہ دیکھی جا چکی ہے۔

ڈوئو ڈوئو کی بانی اینڈریا گنگ کا کہنا ہے: ’میں چند روز قبل یولن کے ایک ذبح خانے میں گئی۔ کتوں اور بلوں کے گلوں میں مختلف قسم کے کالر ڈالے گئے تھے اور وہ سارے جانور انتہائی دوست مزاج معلوم ہو رہے تھے۔ کتا انسان کا بہترین دوست ہوتا ہے۔ دس ہزار کتوں کو بیک وقت مار ڈالنا غلط ہے۔‘

کچھ کارکنان نے اس سلسلے میں حفظانِ صحت کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ کتوں کے گوشت کو عموماً کھانے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے تاہم یولن کے میلے میں غیر قانونی طور پر خریدے گئے جانوروں کے استعمال کا بھی امکان ہوتا ہے جو بیمار جانور ہو سکتے ہیں۔

ڈوئو ڈوئو نے دانستہ طور پر چین کے بجائے مغربی ممالک میں اس مہم کو آواز دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مقامی کارکنوں کی کوششوں میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔

اینڈریا گنگ کہتی ہیں کہ ’ہم نے جو مرکزی کام کیا ہے وہ یہ کہ یولن کے رہائشیوں کو احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ یہ روایت ماضی کا حصہ ہے اور اسے باقی دنیا میں منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے۔‘

چین میں کتوں کو پسند کرنے والے افراد سوشل میڈیا پر اپنے کتوں کے ساتھ اپنی تصاویر لگا رہے ہیں۔ مغربی سوشل میڈیا کی ویب سائٹوں پر تو یولن کے میلے کی مخالفت کی جا رہی ہے تاہم چین میں مقبول ویب سائٹ ویبو پر رائے منقسم ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ علاقے کی روایت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اس بارے میں بنائے گئے ایک صفحے پر ساڑھے تین لاکھ تبصرے آ چکے ہیں۔

کیا چین میں کتوں کا گوشت کھایا جانا بہت مقبول ہے؟ ماحولیات سے متعلق چائنا ڈائیلاگ نامی بلاگ کے مدیر سیم گیل کہتے ہیں کہ ’اگرچہ چین میں آمدنی کے اضافے سے کتوں کے گوشت کھائے جانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے تاہم یہ گوشت اتنی آسانی سے بازار میں میسر نہیں۔ میں 15 سال سے چین جا رہا ہوں اور مجھے آج تک کتے کا گوشت پیش نہیں کیا گیا۔‘

ادھر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے میلے بین الاقوامی سیاحت کے فروغ کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔ سیم گیل کہتے ہیں: ’یہ عام بات ہے کہ مقامی منتظمین قدیم علاقائی روایات کا استعمال سیاحت کے فروغ کے لیے کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں