خدا کے لیے صرف مذکر ہی کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دنیا کے بیشتر مذاہب میں خدا کو مذکر کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے اگرچہ کئی مذاہب میں مذکر اور مونث خدا بھی موجود ہیں

چرچ آف انگلینڈ میں ایک گروہ یہ کہہ رہا ہے کہ چرچ کی سروس کے دوران خدا کو ’ہی‘ اور ’شی‘ یعنی کہ مذکر اور مونث دونوں طرح مخاطب کیا جائے۔

سٹیون ٹامکنز بی بی سی کے لیے لکھتے ہیں کہ خدا کی جنس کا سوال عیسائی چرچ کے اوائل سے پوچھا جا رہا ہے۔

عیسائی چرچ کو خدا کی جنس سے ہمیشہ ہی کچھ مسئلہ رہا ہے۔ خدا کی کوئی جنس نہیں لیکن خدا سے مخاطب ہونے کے لیے اسے جنس دینا بھی بہت ضروری بھی ہے۔

خدا کے متعلق بات کرنے کے لیے ہمیں اسے کچھ کہنا ہے، اس لیے ظاہر ہے کہ اسم ضمیر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انگریزی میں واحد حاضر کے لیے تین الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، ہی، شی اور اِٹ۔ اب ظاہر ہے کہ خدا کے لیے لفظ ’it‘ معیوب لگے گا، جیسے کہ خدا کششِ ثقل یا افراط زر جیسی غیر ذاتی قوت ہے۔ سو خدا کو یا تو انگریزی کا ’he‘ ہونا ہے یا ’she‘ اور پدری سماج میں ان کے درمیان کوئی مقابلہ ہی نہیں۔

کیتھولک چرچ کی مذہبی تعلیم کے مطابق ’خدا نہ مرد ہے اور نہ عورت: ’’ہی‘‘ از گاڈ (وہ خدا ہے)۔‘

کئی عیسائی گروہ اس سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ تیسری صدی عیسوی میں شام میں ایک چرچ مقدس روح کی عبادت مونث کے صیغے میں کیا کرتا تھا۔ اس کی ایک مقدس کتاب ’دی ایکٹس آف ٹامس‘ میں بتایا گیا ہے کہ سینٹ ٹامس نے ایک مذہبی مجمعے سے بات کرتے ہوئے یکدم مقدس روح کو مخاطب کیا اور مونث کا صیغہ ’شی‘ استعمال کرتے ہوئے اسے آواز دی۔

دیگر باطنی علوم کے مالک اور صوفیانہ عیسائی گروہ مرکزی دھارے کی عیسائیت سے آگے نکل گئے اور کہا کہ خدا کی مذکر اور مونث کئی شکلیں ہیں۔ مونث اشکال میں روحیں ہیں جیسا کہ آلیتھیا (سچ) سند زو (زندگی) اور صوفیہ (عقل) وغیرہ۔ ان کے عقیدے کے مطابق کائنات صوفیہ کے ذریعے وجود میں آئی اور وقت کے اختتام پر اس کی شادی کرائسٹ سے ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قرون وسطیٰ کے دور کی صوفی بزرگ جولین آف نورچ جنھوں نے معبود کے پیار کا مادارنہ محبت سے موازنہ کیا تھا

اگرچہ یہ چرچ کے نظریے سے بالکل مختلف ہے لیکن چرچ نے ان عیسائی کتابوں کو بھی قبول کیا ہے جن میں خدا کا نسائی روپ بھی دکھایا گیا ہے۔

چودھویں صدی میں عیسائی صوفی بزرگ جولین آف نورچ نے کہا تھا کہ ’جس طرح خدا ہمارا باپ ہے، اسی طرح خدا ہماری ماں بھی ہے۔‘ انھوں نے عیسیٰ کو بھی ماں کہہ کر مخاطب کیا۔ وہ عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس کو بھی اس طرح بیان کرتی ہیں۔ ’ہمارا باپ چاہتا ہے، ہماری ماں عمل کرتی ہے، ہماری روح القدس تصدیق کرتی ہے۔‘

سینٹ آنسیلم جو کہ گیارہویں صدی میں آرچ بشپ آف کینٹربری تھے، کرائسٹ کی عبادت کرتے ہوئے انھیں ’میری ماں‘ کہتے تھے اور خدا کو ’عظیم ماں‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ سینٹ جان کراسوسٹم کرائسٹ کو ہمارا ’دوست، رکن، سربراہ، بھائی، بہن اور ماں‘ کہتے تھے۔

50 سال پہلے تک خدا کے متعلق اس طرح بات شاذ و نادر ہی کی جاتی تھی لیکن اس کے بعد مذہبی تعلیم کی ماہر خواتین نے چرچ کو ترغیب دی کہ روایتی مذہبی زبان میں خواتین کو غیر ضروری طور پر شامل نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ میری ڈیل نے 1973 میں لکھا کہ ’اگر خدا مرد ہے تو پھر مرد خدا ہے۔‘

1980 کے بعد بائبل کا نیا ترجمہ کیا گیا اور ’مین‘ یا مرد کی جگہ ’ہیومن بینگز‘ یعنی انسان لکھا جانے لگا۔ تاہم بائبل کے زیادہ تر ترجمے اب بھی خدا کے لیے مذکر ہی کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔ 2003 میں عہدنامہ جدید کے نئے ترجمے میں خدا ’تمھارا باپ‘ کی جگہ ’تمہارے پیرنٹ‘ یعنی والدین لکھا گیا ہے۔

1999 میں میتھوڈسٹ چرچ نے ایک نئی سروس بک متعارف کرائی جس میں خدا کے لیے مذکر اور مونث دونوں صیغے استعمال کیے گئے۔

اس سوال سے ان مذاہب کو کوئی فرق نہیں پڑتا جو مذکر اور مونث خداؤں کو مانتے ہیں۔ اس کا اثر یہودیت کے کچھ حصوں پر ضرور ہوا ہے۔ 1975 میں امریکہ میں ناؤمی ینووڑز اور ماگریٹ وینگ نے ایک کتاب شائع کی جس میں خدا کو بادشاہ کی بجائے حاکم اور باپ کی بجائے ذریعہ یا والدین لکھا گیا تھا۔

تاہم اسلام میں ایسی کوئی تحریک نہیں چلی، کیونکہ وہ اس طرح کی تعبیرِ اِضافی کی اجازت نہیں دیتا۔ تاہم لگتا ہے کہ عیسائیت اور یہودیت میں اپنے آپ کو زمانے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا یہ عمل جاری ہے۔

اسی بارے میں