دولت اسلامیہ مخالف حکمت عملی پر پیرس میں اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق کی جنگ میں شیعہ جنگجوؤں کی شمولیت بڑھ رہی ہے

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے 20 ممالک کے وزرا منگل کو پیرس میں ملاقات کر رہے ہیں۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی اس اجلاس میں شرکت کريں گے لیکن امریکی وزیر خارجہ جان کیری زخمی ہونے کی وجہ سے شریک نہیں ہو پائیں گے۔

یہ اجلاس عراق کے اہم شہر رمادی پر دولت اسلامیہ کے قبضے کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کی نمائندہ لوسی ولیم سن نے پیرس سے بتایا ہے کہ لوگوں نے دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی اتحادی فضائی حملے کے اثرات کے بارے میں جو خیال کیا تھا اس میں ناکامی کے بعد عراق کی سیاسی صورتِ حال کے حل کے لیے بات چیت پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔

عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے شیعہ ملیشیا پر حکومت کا انحصار روز بروز بڑھتا جا رہا ہے جس سے وہاں مسلکی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رمادی پر حملے کے لیے شہر کے مشرق میں حبانیہ کے مقام پر تین ہزار جنگجوؤں نے بنیادی تربیت مکمل کر لی ہے

ہماری نمائندہ کا کہنا ہے کہ ایران نواز شیعہ جنگجوؤں کے سنّی علاقوں میں نئے کردار کو فرانس نے ’انتہائی نازک صورت حال‘ سے تعبیر کیا ہے۔

فرانس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پیرس میں ہونے والے اجلاس میں وزرا ’عراقی بحران کے پائیدار سیاسی حل پر بات چیت کریں گے۔‘

یہ اجلاس عراقی صوبے انبار میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں کم از کم 45 عراقی پولیس افسران کے مارے جانے کے ایک دن بعد منعقد کیا جا رہا ہے۔

انبار میں سینیئر سکیورٹی ذرا‏ئع نے بی بی سی کو پیر کو بتایا کہ رمادی سے دولت اسلامیہ کو نکالنے کی حکمت عملی کو ’حتمی شکل‘ دی جا رہی ہے اور یہ کسی بھی دن عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

ذرا‏ئع نے بتایا کہ رمادی پر حملے کے لیے شہر کے مشرق میں حبانیہ کے مقام پر تین ہزار جنگجوؤں نے بنیادی تربیت مکمل کر لی ہے اور انبار میں جنگی محاذ پر چھ ایرانی ساخت کے راکٹ لانچر پہنچائے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ماہ دولت اسلامیہ نے انبار کے دارالحکومت رمادی پر قبضہ کر لیا تھا

پیرس کے اجلاس میں عسکری صورت حال کے علاوہ ثقافتی ورثوں کو لاحق خطرے، ظلم کا شکار اقلیتوں کے تحفظ اور جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے پناہ گزینوں پر بھی بات ہو گی۔

دولت اسلامیہ نے اسلام سے قبل کے قدیم تاریخی مقامات کو پہلے بھی مسمار کیا ہے اور یہاں یہ خطرہ بھی لاحق ہے کہ وہ پیلمائرا میں موجود رومن سلطنت سے قبل کی باقیات کے ساتھ بھی وہی کریں گے۔

اقوام متحدہ نے دولت اسلامیہ اور دوسرے مسلح گروہوں پر بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔

خیال رہے کہ پیر کو بی بی سی نے ایک 14 سالہ بچے کی فوٹیج جاری کی تھی جس میں دولت اسلامیہ کے جنگجو اسے تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔

اسی بارے میں