’سونے کی ٹوائلٹ سیٹ ڈھونڈ کر دکھاؤ‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اردگان کا کہنا ہے کہ صدارتی محل ’ترکی کی شہرت کو ظاہر کرتا ہے‘

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اپنی اہم حریف پارٹی کے رہنما کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کے صدارتی محل میں آ کر ’ٹوائلٹ سیٹوں‘ کا جائزہ لیں۔

ریپبلکن پیپلز پارٹی کے سربراہ کمال کلچ دار اولو نے دعویٰ کیا تھا کہ نئے صداری محل میں سونے کا پانی چھڑی ٹوائلٹ سیٹیں لگائی گئی ہیں۔

اردگان نے کمال کلچ دار اولو کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ انھوں نے ٹیکس دہندگان کے پیسے سے اپنے غسل خانے کو سجایا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے حریف کو صدارتی محل میں ایک بھی سونے کی ٹوائلٹ سیٹ ملتی ہے تو وہ صدارت کے عہدے سے مستعفی ہو جائے۔

اردگان نے سرکاری ٹی وی پر کہا ’میں انھیں دعوت دیتا ہوں کہ پلیز وہ آئیں اور محل کا دورہ کریں۔ اگر انھیں ایک بھی سونے کی ٹوائلٹ سیٹ ملتی ہے تو میں مستعفی ہو جاؤں گا۔ اور اگر انھیں نہ ملی تو کیا وہ ریپبلکن پیپلز پارٹی کو استعفیٰ دیں گے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اردگان نے ملک کے دارالحکومت انقرہ میں 61 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز خرچ کر 1000 کمروں کا ایک محل بنایا جس میں وہ رہتے ہیں

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر کے ساتھ ٹی وی چینل ٹی آر ٹی سے نشر ہونے والا انٹرویو محل کے ایک عالیشان کمرے میں کیا گیا جو سنہری رنگ کے فرنیچر سے بھرا ہوا تھا۔

کمال کلچ دار اولو نے اس دعوت کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

انھوں نے ترکی میں سات جون کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل اردگان کی شاہانہ طرز زندگی پر بار بار تنقید کی ہے۔

انھوں نے ازمیر کے شہر میں ایک ریلی منعقد کی جس میں انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا ’حضرات، انقرہ میں آپ کے لیے محل بنائے گئے ہیں، جہاز خریدے گئے ہیں، مرسڈیز گاڑیاں خریدی گئی ہیں، سونے کی سیٹیں خریدی گئی ہیں، غسل خانہ تو ایسے استعمال کیا جاتا ہے۔‘

اردگان گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ترکی کی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ملک کے دارالحکومت انقرہ میں 61 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز خرچ کر 1000 کمروں کا ایک محل بنایا جس میں وہ اگست سنہ 2014 میں صدر بنے کے بعد منتقل ہوگئے تھے۔

یہ محل امریکہ کے وائٹ ہاؤس اور روس کے کریملن محل سے بھی بڑا ہے اور اس کا خرچہ وزارت خزانہ کے حکام کے بتائے ہوئے بجٹ سے دو گنا سے بھی زیادہ تھا۔

اسی بارے میں