امریکی حکومت کی فون کالز معلومات اکٹھی کرنے کی اہلیت محدود

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کینٹکی کے سینیٹر رینڈ پال جو صدارتی امیدوار بنے کے لیے پر امید ہیں انھوں نے باربار سینیٹ میں اس بل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے حکومت کی وسیع پیمانے پر فون کالز کی معلومات اکٹھا کرنے کی اہلیت کو محدود کرنے کے لیے سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ کے بعد اس بل پر دستط کر کے اسے قانون کا درجہ دے دیا ہے۔

خیال رہے کہ 11 ستمبر سنہ 2001 میں امریکہ میں ہونے والے حملوں کے بعد سے حکومت کو وسیع پیمانے پر فون کالز کی معلومات اکٹھا کرنے کا جواز حاصل تھا جس کے انکشاف کے بعد سے اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

امریکہ کے نئے فریڈم قانون میں حکومت کو وسیع پیمانے پر فون کالز کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اجازت ہے لیکن بعض پابندیوں کے ساتھ۔

پیٹریئٹ ایکٹ کو تبدیل کرنے والے اس بل کی صدر براک اوباما نے یہ کہتے ہوئے حمایت کی ہے کہ ’یہ دہشت گردی سے لڑنے کے لیے ضروری آلہ ہے۔‘

اس نئے قانون میں قومی سلامتی کی پالیسی کے ایک حصے کو ہٹا دیاگیا ہے جو کہ 11 ستمبر سنہ 2001 کے حملے کے بعد سے نافذ تھی۔

اس کے تحت نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے پروگرام کو ختم کر دیا گیا ہے، جس میں جاسوسی کی یہ ایجنسی وسیع پیمانے پر معلومات جمع کرتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر براک اوباما نے فریڈم ایکٹ کی یہ کہتے ہوئے حمایت کی ہے کہ ’یہ دہشت گردی سے لڑنے کے لیے ضروری آلہ ہے‘

اس کے بارے میں این ایس اے کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن نے راز افشا کیا تھا اور امریکہ کے اس خفیہ پروگرام کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

اب ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کمپنیوں سے ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے این ایس اے کو عدالت سے رجوع کرنا ہو گا۔

نئے قانون کے تحت معلومات حکومت کے سرورز کے بجائے اب انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کمپنیوں کے سرورز پر جمع ہوں گے۔

عدالت کے توسط سے کسی مخصوص فرد یا لنک کے بارے میں معلومات کے لیے کمپنیوں کو درخواست دی جائے گی۔

اس نئے قانون کے نفاذ کے لیے چھ ماہ کی عبوری مدت دی گئی ہے جس کے دوران حکومت کے سرورز سے پرائیویٹ کمپنیوں کے سرورز پر معلومات جمع کی جائیں گی۔

اس قانون کے منظور کیے جانے میں رکاوٹ آ گئی تھی کیونکہ بعض آزاد خیال سینیٹروں کے نزدیک یہ فرد واحد کی نجی زندگی میں حکومت کی دخل اندازی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نئے قانون کے تحت اب این ایس اے کو کسی فرد واحد کے ریکارڈ کے لیے فون یا انٹرنیٹ کمپنی سے عدالت کی اجازت کے بعد رجوع کرنا ہو گا

کینٹکی کے سینیٹر رینڈ پال، جو صدارتی امیدوار بننے کے لیے پر امید ہیں، انھوں نے بار بار سینیٹ میں اس بل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

رینڈ پال نے کہا: ’ہم جاسوسوں کی معلومات اکٹھی نہیں کر رہے ہیں۔ ہم دہشت گردوں کی معلومات اکٹھی نہیں کر رہے ہیں۔ ہم ہر وقت تمام امریکیوں کے ریکارڈ اکٹھا کر رہے ہیں۔ کیا ہم نے اسی لیے انقلاب کیا تھا۔‘

اسی بارے میں