’شام و عراق میں دولتِ اسلامیہ کے دس ہزار شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دولتِ اسلامیہ کے خلاف عراق میں کارروائی کے لیے تین سالہ مہم کا منصوبہ بنایا گیا: امریکی نائب سیکریٹری انٹنی بلنکین

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں اتحادی افواج کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں گذشتہ نو مہینوں میں دس ہزار سے زائد شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ اور اتحادی افواج کا اجلاس

رمادی کی واپسی کے لیے آپریشن

امریکہ کے نائب سیکریٹری اینٹنی بلنکین نے فرانس انٹر ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ گذشتہ نو ماہ کے دوران دولتِ اسلامیہ کو بہت نقصان ہوا ہے۔

تاہم انھوں نے خبردار بھی کیا کہ دولتِ اسلامیہ پیچھے نہیں ہٹے گی اور اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

امریکی نائب سیکریٹری نے یہ بات بدھ کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف اپنائی جانےوالی حکمتِ عملی پر مذاکرات کے بعد کہی۔

مذاکرات کے شرکا نے عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے رمادی کا کنٹرول واپس لینے کے لیے دیے گئے منصوبے سے اتفاق کیا ہے۔

خیال رہے کہ رمادی پر گذشتہ ماہ دولتِ اسلامیہ نے قبضہ کر لیا تھا اور اس پیش رفت کو بین الاقوامی برادری کی ناکامی قرار دیا گیا تھا۔

مذاکرات میں شریک امریکہ کے اتحادی ممالک نے شام کے مسئلے کے حل کے لیے بھی ’تیز اقدامات‘ کرنے کا مطالبہ کیا۔

ٹرکوں کے ذریعے خودکش بم حملے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رمادی پر گذشتہ ماہ دولتِ اسلامیہ نے قبضہ کر لیا تھا اور اس پیش رفت کو بین الاقوامی برادری کی ناکامی قرار دیا گیا تھا

بدھ کو فرانس انٹر کو دیے گئے انٹرویو میں امریکہ کے نائب سیکریٹری اینٹنی بلنکین نے اس بات پر اصرار کیا کہ اتحادی ممالک کی کارروائیاں ناکام نہیں ہو رہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اہم پیش رفت ہورہی ہے تاہم داعش پیچھے ہٹنے والی نہیں بلکہ وہ دوبارہ کارروائیوں کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘

اینٹنی بلنکین نے بتایا کہ اگست میں اتحادی افواج کی جانب سے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے بعد سے اب تک 25 فیصد علاقہ شدت پسند تنظیم کے کنٹرول سے باہر نکل گیا ہے، اور اس کے نتیجے میں دولتِ اسلامیہ کو جانی و مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔

تاہم انھوں نے حال میں ہونے والی ناکامیوں کو تسلیم کیا جن میں رمادی شہر کا قبضہ ختم ہونا بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مہم کے آغاز میں اتحادی ممالک نے بتایا تھا کہ اس میں وقت لگے گا اور اس کے لیے تین سال کا منصوبہ بنایا گیا جس کے نو ماہ گزر گئے ہیں۔

دوسری جانب فرانس میں عراق کے سفیر فرید یاسین نے امریکہ کی جانب سے 2000 اے ٹی فور میزائل بھجوانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

یہ میزائل رمادی میں اسلحے سے بھرے خودکش بموں کے خلاف استعمال ہوں گے جو وہاں کی حکومتی فوج کو کمزور کر رہے ہیں اور ان کا مورال کم کرنے کا باعث ہیں۔

سیکورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو اسلحے سے بھری چار خودکش گاڑیوں کو بیجی کے جنوب مغربی صوبے صلاح الدین میں استعمال کیا گیا۔ ان حملوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور رضاکار فوج کو نشانہ بنایا گیا جن میں بڑی تعداد شیعہ ملیشیا کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملیشیا فوج کے 28 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 36 زخمی ہوئے۔

منگل کو عراق کے وزیراعظم نے اپنے بیان میں اپنے ملک میں موجود اتحادی افواج پر زور دیا تھا کہ وہ عراقی حکومت کی مزید معاونت کریں اور انھیں پابندیوں کے باوجود ایران اور روس سے اسلحہ لینے کی اجازت دیں۔

انھوں نے یہ بیان پیرس میں امریکہ اور اتحادی ممالک کے ساتھ مذاکرات سے قبل دیا۔

حیدر العبادی نے یہ بھی کہا کہ فوجی اسلحہ اور ساز و سامان ناکافی اور نہ ہونے کے برابر ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا ملک خود پر انحصار کر رہا ہے مگر اس طرح جنگ لڑنا بہت مشکل ہے۔

انھوں نے کہا کہ عراقی فوج کو اتحادی ممالک کی جانب سے مزید انٹیلی جنس اور کارروائیوں کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں