مغرب روس کا کیا کرے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی تھینک ٹینک ’چیٹم ہاؤس‘ کے چھ ماہرین کی ٹیم نے روسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے روس کے ساتھ یورپ کےمعاملات طے کرنےکے لیے سفارشات پیش کی ہیں۔

ناقابل عمل سفارت کاری

اس حقیقت کو جاننے کے باوجود کہ سابق عراقی رہنما صدر صدام حسین کے بعد اگر دنیا کے کسی حکمران نے کسی دوسرے ملک کے علاقوں پر قبضہ جمایا ہے تو وہ ہیں روسی صدر ولادی میر پوتن۔ اس کے باوجود امریکہ اور یورپی یونین روس کے ساتھ معاملات سفارتی انداز میں نمٹانا چاہتے ہیں۔ ولادی میر پوتن دنیا کے واحد حکمران ہیں جنھوں نے فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کی کھلے بندوں حمایت کی ہے۔

مغربی دنیا کےسیاستدانوں کو ابھی تک یہ سمجھ لیناچاہیے تھا کہ ولادی میر پوتن ایسی شخصیت نہیں ہیں جن کے ساتھ کوئی معاملہ بامعنی انداز میں نمٹایا جا سکتا ہے۔ کریملن کی بار بار کی بدتمیزیوں کے باوجود یورپ ہر بار مذاکرات کی میز پر پہنچ جاتا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نےامریکی وزیر خارجہ جان کیری کو ملاقات کےلیے دو گھنٹے تک انتظار کروایا لیکن جان کیری دو ہفتوں بعد ایک بار پھر روسی شہر سوچی پہنچ گئے۔ جان کیری کے دورہ سوچی کا مقصد آج بھی ایک پریشان کن معمہ ہے۔

یا تو وہ اپنے روسی ہم منصب سرگئی لووروف سے یوکرین کا معاملہ طے کرنا چاہتے تھے۔ یوکرین کے معاملے میں یورپ نے ردعمل میں ایسے ایسے چھوٹے چھوٹے اقدامات لیے جن میں کوئی واضح حکمت عملی نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

چیٹم ہاؤس سے تعلق رکھنےوالے چھ ماہرین کی ’روسی چیلنج‘ کے نام سے تیار کردہ رپورٹ میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ روسی قیادت کو خوش کرنے کی کوششیں ختم کر دینی چاہیں کیونکہ ایسی کوششیں نہ تو پہلے کامیاب ہوئی ہیں اور نہ ہی آئندہ ہوں گی۔

اگر یورپ روس کے ساتھ کسی ایسے معاہدے پر پہنچ جاتا ہے یا پہنچ چکا ہے کہ روس کا سرد جنگ کے زمانے میں جن علاقوں پر اثر و رسوخ تھا وہاں اب بھی اپنا غلبہ رکھ سکےگا تو یہ ان کروڑوں لوگوں اور ان بظاہر آزاد ملکوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روسی غلبے سے آزاد ہوئے تھے۔ لیکن کسی ایسے ’بیک ڈور‘ معاہدے کے باوجود روس اور مغرب کے تعلقات بہتر نہیں ہو سکیں گے۔ روسی قیادت سمجھتی ہے کہ سوویت یونین کے سابق رکن ممالک ان کے ہیں۔

’رشین چیلنج‘ رپورٹ میں دی گئی پالیسی سفارشات میں روسی قیادت کو تبدیل کرنا شامل نہیں ہے۔ حقیقت میں مغرب کے پاس روسی قیادت کو تبدیل کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔

’رشین چیلنج‘ میں دی گئی سفارشات درج ذیل ہیں:

  • مغرب کو چاہیے کہ سوویت یونین سے آزاد ہونے والی ریاستوں کی خود مختاری کی از سر نو تجدید کرے۔
  • روسی عوام کو یہ پیغام پہنچانے کے لیے کہ یورپ کا حصہ رہنے میں ان کی بھلائی ہے، نئے ذرائع ڈھونڈے جائیں۔
  • یورپ یوکرین کی تعمیر نو میں اس کی مدد کرے اور سابق سوویت ریاستوں میں ترقیاتی کاموں کےذریعے توانائی کےمعاملے میں روس پر ان کا انحصار ختم کرے۔
  • یورپ روسی پراپیگنڈہ کا توڑ کرے اور روس کو سمجھنے کےلیے’روسی مہارت‘ کو حاصل کرنے کی کوششوں کو دوبالا کریں تاکہ روسی رہنماؤں کے ممکنہ اقدامات کے بارے میں پیش گوئی کی جا سکے۔
  • اس وقت تک روس پر اقتصادی پابندیاں برقرار رکھی جائیں جب تک روس یوکرین سے اپنی غیر قانونی موجودگی کو ختم نہیں کرتا۔

چیٹم ہاؤس کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ روس نے آج بھی سوویت یونین کے دور کی کچھ خصلتوں کو برقرار رکھا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ اب سپر پاور نہیں ہے۔ یہ ایک سادہ سی حقیقت ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے سے کئی ریاستوں کو آزادی ملی لیکن روس اور صدر ولادی میر یوتن اس حقیقت کو مانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

روس اپنے اقدامات کا مغربی ممالک کے اقدامات سےاخلاقی موازانہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مغربی ممالک سمجھتے ہیں کہ روس کی جانب سے مہیا کیے جانے والے ہتھیاروں کے سبب ملائیشیا ایئرلائن کا جہاز کو مار گرایاگیا تھا جس میں 298 لوگوں کی ہلاکت ہوئی۔ روس میں آزاد ذرائع ابلاغ کا گلہ گھونٹا جاتا ہے اور روس میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی خبر کو آج بھی ریاستی راز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان اقدامات کی روشنی میں روس کا شمار مہذب قوموں میں نہیں کیا جا سکتا۔

روس نے حال ہی میں ایسے 89 افراد پر پابندی عائد کی ہے جو ان کی نظر میں روس کے بارے میں معاندانہ رویہ رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

رواں برس فروری میں یورپی یونین کی ایکسٹرنل ایکشن سروس کی سربراہ فیڈریکا موگھرینی کی تقریر کے دوران ان سے تین بار یہ سوال پوچھا گیا کہ اگر روس کے ساتھ معاملات خراب ہوتے ہیں تو یورپی یونین کا ردعمل کیا ہوگا؟ موگھرینی نے تینوں بار یہ جواب دیا: ’میں پرامید ہوں کہ ایسا نہیں ہوگا‘۔

انھوں نے کہیں بھی یہ ظاہر نہیں کیا کہ اگر حالات خراب ہوں تو مغرب کی پالیسی کیا ہو گی۔ اب جب حالات خراب ہو چکے ہیں اور ایسے میں ’خوش امیدی‘ کوئی پالیسی نہیں ہے۔