دولتِ اسلامیہ سعودی عرب میں فرقہ وارانہ تنازع کی خواہشمند؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے کہا ہے کہ شیعہ آبادی پر حملوں سے ان کا دل ٹوٹ گیا ہے۔

سعودی عرب میں تیل کی دولت سے مالامال مشرقی صوبے میں شیعہ اقلیتی آبادی اب تک دولتِ اسلامیہ کے تین منظم حملوں کا نشانہ بن چکی ہے۔

پہلا حملہ نومبر 2014 میں ہوا جس کے بعد مئی 2015 میں دو خودکش دھماکوں میں نمازِ جمعہ کے لیے جمع افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

ان آخری دو حملوں میں آر ڈی ایکس نامی دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا ہے اور ان کی ذمہ داری نجد میں قائم دولتِ اسلامیہ کی شاخ نے قبول کی ہے۔

ان کارروائیوں سے یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ آخر دولتِ اسلامیہ ان حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے اور کیا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگی؟

اس سلسلے میں سب سے اہم چیز سعودی حکومت کا ردعمل ہے۔

دیکھنا ہوگا کہ اس کا فوری ردعمل کیا ہوتا ہے اور آنے والے مہینوں میں کیا خطے کی سب سے بڑی اور اہم عرب ریاست ملک میں سنّی اکثریت اور شیعہ اقلیت کے درمیان فرقہ وارانہ تنازع کو دبانے میں کامیاب رہتی ہے یا نہیں۔

سنّی ہوں یا شیعہ یہ تنازع دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

سعوی عرب میں شیعہ ملک کی کل آبادی کے دس فیصد کے قریب ہیں اور انھیں کئی دہائیوں سے ریاستی اور مذہبی امتیاز کا سامنا رہا ہے۔

سنہ 2013 میں ایک انٹرویو میں موجودہ بادشاہ کے بیٹے شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان السعود نے مجھے بتایا تھا کہ سعودی شیعوں کی ناراضگی بجا ہے اور ان کے مسائل کا حل ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعوی عرب میں شیعہ ملک کی کل آبادی کے دس فیصد کے قریب ہیں اور انھیں کئی دہائیوں سے ریاستی اور مذہبی امتیاز کا سامنا رہا ہے

تاہم اس کے بعد سے مشرقی صوبے قطیف میں پولیس اور شیعہ آبادی کے درمیان کئی بار تصادم ہوا جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی اور اب جا کر کہیں وہاں حالات بہتر ہونا شروع ہوئے تھے۔

سعودی عرب کی سنّی آبادی میں سے اکثر شیعوں کو ’خارجی‘ اور سعودی عرب سے زیادہ ایران کے وفادار تصور کرتے ہیں اور حالیہ دنوں میں کئی ایسی تقاریر اور خطبات سامنے آئے ہیں جن میں شیعوں کو کافر بھی قرار دیا گیا ہے۔

یہ وہ نظریہ ہے جس سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ بھی متفق ہے جو کہ شیعوں سے عیسائیوں سے بھی زیادہ نفرت کرتی ہے اور شام اور عراق میں اکثر انھیں نشانہ بناتی رہتی ہے۔

امریکہ کی ہارورڈ یورنیورسٹی کے سینیئر فیلو نواف عبید کا کہنا ہے کہ ’دولتِ اسلامیہ سخت گیر سلفی سنّی خیالات کے حامل افراد کی حمایت حاصل کر کے سعودی ریاست کو کمزور کرنا چاہتی ہے لیکن وہ ویسے ہی ناکام رہے گی جیسے 10 برس پہلے القاعدہ رہی تھی۔‘

تاحال سعودی عرب کی نئی قیادت نے اس معاملے پر انتہائی سرعت سے کارروائی کی ہے۔

ملک کے نئے بادشاہ شاہ سلمان نے کہا ہے کہ شیعہ آبادی پر حملوں سے ان کا ’دل ٹوٹ گیا ہے۔‘

انھوں نے سعودی ٹی وی پر ان حملوں میں مارے جانے والے شیعوں کے جنازوں کی کوریج کی اجازت بھی دی۔

تین جون کو انھوں نے دمام میں خودکش حملہ آور کو مسجد میں داخل ہونے سے روکنے والے شیعہ رضاکاروں کو ’شہید‘ اور ’ہیرو‘ قرار دیا۔

ان کے اس اعلان کو ایک ایسے ملک کے بادشاہ کا غیرمعمولی قدم سمجھا گیا جہاں کبھی کابینہ میں کوئی شیعہ سینیئر وزیر نہیں رہا اور جہاں حکمرانی کے لیے انھیں سخت گیر سنّی علما کی حمایت درکار ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سعودی عرب کے ایک شیعہ شہری نے کہا کہ ’ممکنہ طور پر سعودی قیادت حالات کو پرسکون رکھنے کے لیے صحیح باتیں کر رہی ہے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’شیعہ قیادت کی جانب سے حکومت سے شیعہ مخالف پیغام کی ترویج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے تمام مطالبات نظرانداز کیے جاتے رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ پیغامات ہی ان حملوں کی بنیاد بنے ہیں جن کا سامنا ہم نے کیا ہے۔‘

دولتِ اسلامیہ کے لیے اس سے بہتر کچھ نہیں کہ سعودی عرب میں شیعہ اور سنّی آبادی میں فرقہ وارانہ جنگ چھڑ جائے۔

داعش سنّیوں کو دکھانا چاہتی ہے کہ وہ واحد ایسی قوت ہے جو خطے میں ایران اور اس کے شیعہ حواریوں کی پیش قدمی کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے لیے وہ سعودی عرب کی سنّی آبادی کی حمایت کی خواہاں ہے۔

جہادی تحریکوں کے ایک ماہر ایمن دین کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب میں شیعہ سنّی تعلقات پہلے ہی عراق اور شام میں پیش آنے والے واقعات اور یمن میں شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں کی وجہ سے شدید تناؤ کا شکار ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کی سنّی آبادی میں سے اکثر شیعوں کو ’خارجی‘ اور سعودی عرب سے زیادہ ایران کے وفادار تصور کرتے ہیں

ان کے مطابق ’چنانچہ اس لیے دولتِ اسلامیہ سعودی شیعہ آبادی کو اکسانا چاہتی ہے کہ وہ یا تو جوابی حملے یا پھر ملک کی سڑکوں پر پرتشدد مظاہرے کریں۔‘

ایمن دین نے پیشنگوئی کی کہ دولتِ اسلامیہ آنے والے دنوں میں سعودی شیعوں پر مزید حملے کر سکتی ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ باغیوں کے خلاف عسکری مہم سعودی عوام میں اتنی مقبول ہوئی ہے کہ ان کے دولتِ اسلامیہ کا حصہ بننے کی شرح کم ہوگئی ہے۔

لیکن اگر دولتِ اسلامیہ حملے جاری رکھتی ہے تو کیا ہوگا؟

نواف عبید کے خیال میں سعودی حکومت اس سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس چیز کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد ہی وہ شخص ہیں جنھوں نے کئی برس تک کامیابی سے القاعدہ کے خلاف مہم چلائی ہے۔

نواف کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب کا انسدادِ دہشت گردی پروگرام دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے اور سعودی ریاست کی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب رہے گا۔‘

یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے سچ یا جھوٹ ہونے کا پتہ آنے والے چند ماہ میں ہی چل جائے گا۔

اسی بارے میں