مغرب کو روس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے: پوتن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption روس کی یوکرین کے تنازع میں مداخلت کے بعد مشرقی یورپ کے ممالک کے خدشات کے بعد مغربی اتحاد نے اس خطے میں اپنے فوجی طاقت میں اضافہ کیا ہے

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ان کا ملک نیٹو کے لیے خطرہ نہیں ہے اور کوئی دیوانہ ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ روس اچانک نیٹو پر حملہ کر دے گا۔

روسی صدر پوتن نے اٹلی کے اخبار کوریرہ ڈیلا سرا کو ایک انٹرویو میں کہا کہ چند ملک لوگوں میں روس کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

مغرب روس کا کیا کرے؟

’چند ممالک لوگوں میں روس کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جس میں ضمنی فوجی، معاشی، مالی اور دیگر امداد حاصل کرنا شامل ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ روس سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے:’ دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اور جن لوگوں کے پاس کوئی سوج بوجھ ہے وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ آج کی دنیا میں وسیع پیمانے پر فوجی تنازع شروع ہو سکتا ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے پاس سوچنے کے لیے اور بہت ساری چیزیں ہیں۔‘

روس کی یوکرین کے تنازع میں مداخلت کے بعد مشرقی یورپ کے ممالک کے خدشات کے بعد مغربی اتحاد نے اس خطے میں اپنے فوجی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔

نیٹو روس پر الزام عائد کرتا ہے کہ یہ مشرقی یوکرین میں حکومت سے برسرپیکار باغیوں کی حمایت کرتا ہے جبکہ روس اس الزام کی ہمیشہ تردید کرتا آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس نے حال ہی میں اپنے جدید ترین فوجی ہتھیاروں کی نمائش کی ہے جس میں ٹینک اور میزائل شامل ہیں

دو دن پہلے ہی مشرقی یوکرین میں تشدد میں اضافے کے بعد یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے اراکینِ پارلیمان کو بتایا تھا کہ فوج کو روس کی طرف سے ملک پر مکمل طور پر چڑھائی کی صورت میں دفاع کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

صدر پیٹرو پوروشینکو کے مطابق اس وقت مشرقی یوکرین میں نو ہزار روسی فوجی وہاں تعینات کیے گئے ہیں جبکہ علاقے کے دفاع کے لیے یوکرین کے 50 ہزار فوجی موجود ہیں۔

گذشتہ بدھ کو دونیتسک کے مغربی علاقے میں جھڑپیں ہوئیں جن میں ٹینکوں کا بھی استعمال کیا گیا۔

اپریل 2014 سے لے کر اب تک مشرقی یوکرین میں 6,400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گذشتہ ماہ روسی فوج نے وسیع فوجی مشقیں شروع کیں تھیں جن میں تقریباً 250 جنگی طیارے اور 12 ہزار فوجیوں نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ یہ فوجی مشق اسی دن شروع ہوئی جب نیٹو اور اس کے اتحادیوں نے قطب شمالی میں تربیتی مشق کا آغاز کیا۔

یوکرین میں روس کی سرگرمیوں اور مغربی ممالک کے فضائی حدود میں روسی دخل کی وجہ سے مغربی ممالک اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں