جی 7 کانفرنس: ’روسی جارحیت کے سامنے ڈٹ جانے پر بات چیت‘

جرمنی کی چانسلر میرکل امرکی صدر اوباما کا استقبال کر رہی ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سات امیر ترین ممالک کے سالانہ سربراہی اجلاس میں روس کے علاوہ ایجنڈے میں عالمی حدت اور یونان کے قرض کے بحران شامل ہیں

امریکہ اور جرمنی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ روس پر اقتصادی پابندیاں اس وقت تک قائم رہنی چاہیئں جب تک وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے پر معاہدے کو عملی جامہ نہیں پہناتا۔

امریکی صدر اوباما اور جرمنی کی چانسلر اینگیلا میرکل نے یہ بات جنوبی جرمنی میں دنیا کے سات امیر ترین ممالک کی تنظیم جی 7 کے سالانہ سربراہی اجلاس کے دوران ایک ملاقات میں کہی۔

ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اقتصادی پابندیوں کی مدت صاف طور پر روس کے منسک معاہدے پر عمل درآمد اور یوکرین کی خود مختاری کے احترام سے جڑی ہونی چاہیے۔‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے جرمنی پہنچنے پر کہا تھا کہ جی 7گروپ کے رہنما یوکرین میں روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے پربات چیت کریں۔

دنیا کے سات امیر ترین ممالک کی تنظیم جی 7 کا سالانہ سربراہی اجلاس جرمنی کے پہاڑی علاقے بوویرئن ایلپس میں ہو رہا ہے۔

اس سربراہی کانفرنس میں ساتوں ممالک کے سربراہان مشرقی یوکرین میں جاری جنگ کے سلسلے میں روس پر سفارتی دباؤ قائم رکھنے پر بات چیت کریں گے۔

براک اوباما نے کہا کہ تجارت، پر تشدد انتہا پسندی اور عالمی حدت بھی اس اجلاس میں زیرِ بحث آئے گی۔

خیال رہے کہ پہلے یہ تنظیم جی ایٹ ہوا کرتی تھی لیکن گذشتہ سال کرائمیا کو اپنے ملک میں ضم کر لینے کے سبب اس تنظیم سے روس کو خارج کر دیا گیا اور اب یہ سات ممالک کی تنظیم رہ گئی ہے۔

اب روس مشرقی یوکرین میں باغیوں کی حمایت کر رہا ہے۔

اس کانفرنس میں توجہ کا مرکز روسی صدر ولادیمیر پوتن ہوں گے کیونکہ ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ دانستہ طور پر مشرقی یوکرین میں مزید فوجی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جہاں جی 7 کا سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا اس سے ملحق شہروں میں اس کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں

روس کو پہلے ہی امریکہ اور یورپی اتحاد کی طرف سے لگائی گئی اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔

جرمنی، برطانیہ اور امریکہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس میں یورپی یونین میں شامل ان ممالک کو تعاون دیا جا سکے جنھیں ماسکو پر لگائی جانے والی پابندیوں کے سلسلے میں اپنی حمایت واپس لینے کے لیے لالچ دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کی پابندیوں کی وجہ سے روسی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

دوسری جانب مغربی ممالک مشرقی یورپ میں اپنی فوجی موجودگی میں روسی مداخلت کے خدشے کے پیش نظر اضافہ کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اقتصادی پابندیوں کو آگے بڑھانے کے لیے متحدہ محاذ بنایا جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا جکہ ’اقتصادی پابندیوں کا اثر ہم سب پر پڑ رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس اجلاس کے لیے 17 ہزار سکیورٹی کو تعینات کیا گیا ہے

یورپی یونین کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کی مدت جولائی میں مکمل ہو جائے گی۔

سنیچر کو روسی صدر نے کہا تھا کہ ’روس خطرہ نہیں ہے ۔۔۔اور پریشان ہونے کے لیے دوسری چیزیں ہیں۔‘

انھوں نے اطالوی اخبار کوریرہ ڈیلا سرا کو بتایا تھا: ’کوئی خبطی شخص ہی خواب میں یہ سوچ سکتا ہے کہ روس اچانک نیٹو پر حملہ کر دے گا۔

انھوں نے کہا: ’دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اور جن لوگوں کے پاس ذرا بھی سوج بوجھ ہے وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ آج کی دنیا میں وسیع پیمانے پر فوجی تنازع شروع ہو سکتا ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق سربراہی اجلاس سے متصل شہر گارمش پارٹن کرچن میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا ہے اور پولیس کے ساتھ تصادم کے مختلف واقعات پیش آئے ہیں۔

کئی مظاہرین زخمی بھی ہوئے اور انھیں ہسپتال لے جایا گیا ہے تاہم گذشتہ سربراہی اجلاسوں کے مقابلے میں تشدد کے واقعات نسبتاً کم نظر آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشرقی یوکرین کے علاقے میں روسی افواج میں اضافے کے سبب اجلاس کی توجہ صدر پوتن پر ہوگی

اس فورم کو جرمن چانسلر اینگیلا میرکل ایبولا جیسے وبائی امراض سے نمٹنے کے منصوبوں پر غور خوض اور عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کو فعال اور مزید اہل بنانے کے لیے بھی استعمال کریں گی۔

پیر کو اس اجلاس میں دولت اسلامیہ، بوکو حرام جیسی شدت پسند تنظیموں سے لاحق خطرات پر نائجیریا، تونس اور عراق کے رہنماؤں سے بات چیت ہوگی۔ یہ ممالک جی7 کے ’آوٹ ریچ‘ گروپ کا حصہ ہیں۔

اسی بارے میں