سعودی بلاگر کو ایک ہزار کوڑوں کی سزا برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بداوی نے سعودی عرب میں لبرل سعودی نیٹ ورک کے نام سے ایک آن لائن فورم تشکیل دیا تھا

سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے بلاگر رائف بداوی کو سنائی گئی دس سال قید اور ایک ہزار کوڑے مارنے کی سزا برقرار رکھی ہے۔

بداوی کو یہ سزا گذشتہ سال مئی میں توہین مذہب کے الزام میں سنائی گئی تھی جس پر جزوی طور پر عمل درآمد بھی ہوا تھا۔

بلاگر کی سزا: ’دنیا ہمارے معاملے میں دخل نہ دے‘

رواں برس کے آغاز میں جدہ کی ایک مسجد کے باہر رائف بداوی کو پہلی قسط میں 50 کوڑے مارے گئے تھے جس پر عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

اس عالمی تنقید کے بعد پہلے تو ان کی سزا پر عمل درآمد کئی بار ملتوی کیا گیا اور پھر سعودی شاہ کے دفتر نے سزا پر نظرِ ثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

تاہم اب سعودی سپریم کورٹ نے انھیں دی گئی سزا کو برقرار رکھا ہے۔

ابتدائی طور پر بداوی کو ایک ہزار کوڑے 20 ہفتوں کے دوران مارے جانے تھے تاہم اب تک انھیں صرف 50 کوڑے ہی مارے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رائف بداوی کی سزا پر عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا

بداوی کی اہلیہ انصاف حیدر اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر بداوی کو ایک ہزار کوڑے مارے گئے تو وہ مر سکتے ہیں۔

بداوی نے سنہ 2008 میں سعودی عرب میں لبرل سعودی نیٹ ورک کے نام سے ایک آن لائن فورم تشکیل دیا تھا جس کا مقصد سعودی عرب میں مذہبی اور سیاسی معاملات پر بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ یہ آن لائن فورم اب بند ہے۔

سنہ 2012 میں بداوی کو گرفتار کیا گیا اور ان پر الیکٹرونک چینلز کے ذریعے ’اسلام کی توہین‘ اور ’تابع فرمانی کی حدود سے تجاوز‘ کے الزامات عائد کیے گئے۔

ان پر ارتداد کا الزام بھی لگایا گیا لیکن سنہ 2013 میں انھیں اس الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔ اگر یہ الزام ثابت ہو جاتا تو انھیں موت کی سزا دے دی جاتی۔

سعودی حکومت ماضی میں اس بات پر ’حیرت اور افسوس‘ کا اظہار کر چکی ہے کہ عالمی میڈیا ’اسلام کی توہین‘ کرنے پر سعودی بلاگر کو ملنے والی سزا پر نکتہ چینی کر رہا ہے۔

اس معاملے پر اپنے پہلے سرکاری بیان میں سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ سلطنت اپنےاندرونی معاملات میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتی ہے۔

اسی بارے میں