ترکی میں حکمران جماعت پارلیمانی اکثریت سے محروم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرد نواز جماعت ایچ ڈی پی کے حامی اپنی پارٹی کی غیر متوقع کارکردگی کا جشن منانے نکل آئے

ترکی میں اتوار کو ہونے والے انتخابات میں پارلیمان میں اکثریت کھونے کے بعد ملک کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلمپنٹ پارٹی کو حکومت سازی کا مشکل مرحلہ درپیش ہے۔

99 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد حکمران جماعت کو 41 فیصد ووٹ ملے ہیں اور اب اسے حکومت تشکیل دینے کے لیے کسی دوسری سیاسی جماعت سے اتحاد کرنا پڑے گا۔

مطلق العنانیت کے خدشات اردوگان کو لے ڈوبے

ان انتخابات میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی 13 برسوں سے قائم پارلیمانی اکثریت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

تاہم اکثریت کھونے کے باوجود حکمران پارٹی کے رہنما اور ملک کے وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ہر کسی کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے الیکشن جیتا ہے۔

انھوں نے دیگر جماعتوں سے اپیل کی وہ نئے آئین کی تیاری کے عمل میں شامل ہوں۔

ان انتخابات میں کرد نواز جماعت ايچ ڈی پی نے توقعات سے بڑھ کر کامیابی حاصل کی ہے اور اس نے نہ صرف پارلیمنٹ میں نمائندگی کے لیے دس فیصد مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے کی حد عبور کی بلکہ 13 فیصد ووٹ حاصل کر کے تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔

انتخابی نتائج سابق وزیر اعظم اور موجودہ صدر رجب طیب اردوگان کے لیے دھچکہ ہیں اور ان کا ملک میں صدارتی نظامِ جمہوریت متعارف کرانے کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتخابی نتائج سابق وزیر اعظم اور موجودہ صدر رجب طیب اردوگان کے لیے سخت دھچکہ ہیں

صدر طیب اردوگان کو آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار تھی جو ان کی جماعت حاصل نہیں کر سکی۔

ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک بلاشرکت غیر اقتدار میں رہنے والی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو اب شاید حکومت بنانے کے اتحادی بھی دستیاب نہ ہوں کیونکہ انتخابی مہم کے دوران تمام بڑی جماعتوں نے حکمران جماعت سے اتحاد بنانے کے امکان کو رد کیا تھا۔

انتخابی نتائج کے مطابق حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو 41 فیصد ووٹ ملے ہیں جس کی بنیاد پر اسے پارلیمنٹ میں 258 نشستیں مل پائیں گی جو سادہ اکثریت کے لیےمطلوبہ تعداد سے 18 نشستیں کم ہیں۔

کرد نواز جماعت ايچ ڈی پی کی نائب سربراہ ثریا اوندر نے اپنی پارٹی کی کامیابی پر کہا کہ ’جمہوریت نے سیاسی بدعنوانی کو شکست دے دی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ترکی کی حکمران جماعت کو اقتدار میں رہنے کے لیے اتحادی تلاش کرنا ہوں گے

ایچ ڈی پی کو اپنے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے 75 سے 80 پارلیمانی نشستیں مل سکتی ہیں۔

ایچ ڈی پی کے سربراہ صلاح الدین دمیترس نے اتوار کے روز حکمران جماعت سے حکومتی اتحاد بنانے کے امکان کو رد کر دیا۔

صلاح الدین نے کہا کہ انتخابی نتائج نے صدارتی نظام حکومت کے بارے میں بحث کو ختم کر دیا ہے۔

رپبلکن پارٹی سی ایچ پی نے 25 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور اس طرح وہ پارلیمنٹ میں دوسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔

سی ایچ پی استنبول کے چیئرمین مرات کارلچن نے کہا ہے کہ ترکی کے ووٹروں نے صدر اردوگان کی طرف سے مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔