سعودی شاہ کے علاج کا امریکی خفیہ مشن

ابن سعود تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ابن سعود کی جوڑوں کی تکلیف امریکہ اور سعودی عرب میں تعاون کو مستحکم کرنے کی وجہ بنی

چھ دہائیاں پہلے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں تیل اور علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے کشیدگی پائی جاتی تھی لیکن امریکی صدر ہیری ٹرومین کے ذاتی ڈاکٹر کے سعودی بادشاہ کا علاج کرنے کے بعد دونوں ممالک مزید قریب آ گئے۔

فروری 1950 میں سعودی عرب میں امریکی سفیر نے امریکی وزارتِ خارجہ کو ایک عجیب سی درخواست بھیجی۔

’ایچ ایم نے ہم سے درخواست کی ہے کہ انھیں فوری طور پر ایک بہترین سپیشلسٹ مہیا کیا جائے، جو کہ ایک نائب کے ہمراہ سعودی عرب جا سکتے ہوں تاکہ وہ ان کے جوڑوں کے مرض کا علاج کر سکیں جس کی وجہ سے انھیں بہت تکلیف ہوتی ہے اور وہ تیزی سے کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔‘

’ایچ ایم‘ دراصل سعودی عرب کے بادشاہ عبد العزيز بن عبد الرحمن آل سعود تھے جنھیں مغرب میں ابن سعود کے نام سے جانا جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس مشن کو ریاض میں افغانستان کے بادشاہ کے لیے بنائے گئے نئے محل میں ٹھہرایا گیا

یہ درخواست امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے بڑے پیچیدہ دور میں کی گئی تھی۔ امریکہ ظہران کی ایئرفیلڈ لیز پر لے رہا تھا اور بہت سے سعودی باشندے، جن میں قدامت پسند مذہبی رہنما بھی شامل تھے، وہاں امریکی فوجی موجودگی کے خلاف تھے۔

ابن سعود خود بھی امریکہ کے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے خوش نہیں تھے۔ اس بات پر بھی مذاکرات ہو رہے تھے کہ سعودی عرب اور امریکی کمپنیوں کی مشترکہ ملکیت کی تیل کی کمپنی آرامکو کا منافع کس طرح تقسیم کیا جائے گا۔

شاہ ابنِ سعود طاقتور اور سمجھ بوجھ والے رہنما تھے جنھوں نے سعودی عرب کو ایک جھنڈے تلے اکٹھا کیا تھا۔ لیکن وہ بوڑھے ہو رہے تھے اور جوڑوں کے مرض کی وجہ سے ان کی ٹانگوں میں سوجن اور درد رہتا تھا اور اس وجہ سے وہ زیادہ وقت وہیل چیئر پر ہی گزارتے تھے۔

اس سے پہلے بھی امریکی ایئرفورس کا ایک ڈاکٹر ولی عہد سعود کی آنکھ کا علاج کر چکا تھا جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ بادشاہ کو بھی امریکی ڈاکٹروں سے علاج کروانے کا خیال آیا ہو۔

وزارتِ دفاع نے دو سپیشلسٹ، سابق فوجی اور باقی ساز و سامان بھیجا۔ لیکن صدر ٹرومین نے ان کے ہمراہ اپنا ذاتی معالج بریگیڈیئر جنرل والس ایچ گریم کو بھی بھیج دیا۔

وزیرِ خارجہ ڈین ایچیسن نے جدہ میں امریکی سفارخانے کو بتایا کہ صدر چاہتے ہیں کہ جنرل گریم ’ان کے عظیم اور اچھے دوست‘ کی دیکھ بھال کریں اور ڈیفنس میڈیکل ٹیم کی سربراہی کریں۔ یہ بات انھوں نے ایک خفیہ ٹیلیگرام میں لکھی جو اب امریکی نیشنل آرکائیو کے پاس ہے۔

یہ چھوٹا اور خفیہ مشن 15 اپریل 1950 کو واشنگٹن سے سعودی عرب کے لیے روانہ ہوا۔

جب اس کی تیاریاں ہو رہی تھیں تو سعودی حکومت نے واشنگٹن میں اپنے سفارتخانے کو ایک ہنگامی ٹیلیگرام بھیجا کہ وہ صدر ٹرومین کو کہیں کہ طبی ٹیم کے سعودی عرب آنے کے متعلق پریس یا ریڈیو میں کوئی خبر نہ آئے۔

سعودیوں کو یہ خدشہ تھا کہ اس فوری دورے کی وجہ سے یہ افواہیں نہ گردش کرنا شروع کر دیں کہ ابن سعود بہت بیمار ہیں اور وہ تخت چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جو ان کا بالکل ارادہ نہیں تھا۔

لیکن ٹرومین کی دلچسپی اس مشن کو خفیہ رکھنے میں کسی اور وجہ سے بھی تھی۔ وہ یہ تھی کہ سعودی عرب آرامکو کے تیل اور سخت کمیونزم مخالف جذبات کی وجہ سے ایک ایسا اتحادی تھا جو اہم ضرور تھا لیکن اس پر اعتماد کرنا بھی مشکل تھا۔ اس طرح کے اتحادی کی امریکہ میں حمایت ذرا مشکل تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی مہمان ریاض میں کھانا کھاتے ہوئے

ڈیفنس ٹیم میں شامل دو سپیشلسٹ سابق فوجی ڈاکٹر گلبرٹ مارگوارڈٹ اور ڈاکٹر ڈیرل کرین تھے۔ ڈاکٹر کرین واشنگٹن ڈی سی کے رہائشی تھے اور اپنے ساتھ وہ سعودی عرب اپنا شوق یعنی فوٹوگرافی بھی لائے۔

گذشتہ برس ڈاکٹر کرین کی نواسی ایلس ماکل نے ان کے گھر سے بہت سی تصاویر ڈھونڈ نکالی ہیں۔

تین دن کے سفر کے بعد یہ پارٹی سعودی عرب پہنچی اور بادشاہ سے ملاقات کی، جو کہ بقول امریکی سفارتخانے کے قونصلر ہیورڈ ہل کے، بڑی بیتابی اور جوش سے ڈاکٹروں کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔

ہل نے واشنگٹن کو بھیجے جانے والے ایک میمو میں لکھا کہ جنرل گریم نے بادشاہ کو بتایا کہ صدر ٹرومین نے انھیں بادشاہ کے لیے تحفے کے طور پر بھیجا ہے۔

’بادشاہ ہنس دیے اور کہا کہ یہ یقیناً بہت ہی قیمتی تحفہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل والس (درمیان میں) ایک قدرتی قابلیت والے سفارت کار تھے

1989 میں جنرل گریم نے ایک تاریخ داں کو بتایا تھا کہ ابن سعود بہت زیادہ تکلیف میں تھے۔

’ان کے گھٹنوں کے جوڑوں میں ڈھیلی ہڈیاں تھیں اور وہاں ڈھیلی، سخت اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے ٹکڑے بھی تھے۔‘ انھوں نے ابن سعود کو کہا کہ وہ سرجری کے لیے امریکہ چلے جائیں لیکن شاہ نے انکار کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 1950 میں ولی عہد سعود بن عبدالعزیز کی ایک تصویر جو بعد میں شاہ سعود کہلائے

ڈاکٹر کریگ کی لاگ بک میں کئی دنوں میں درجن کے قریب علاج دکھائے گئے ہیں۔

اس سفر سے وزاتِ خارجہ کو بھی سعودی عرب میں روز مرہ کی زندگی کے متعلق معلومات حاصل ہوئیں۔

سعودی عرب کے امور پر ماہر فریڈ اوالٹ وزارتِ خارجہ کے میمو میں لکھتے ہیں کہ ’اس بات میں گہری دلچسپی لی گئی کہ سعودی عرب میں موسیقی، کھیلوں، کھلونوں اور دیگر غیر مذہبی تفریح کے ذرائع پر لگی پابندیوں کو اٹھا لیا گیا تھا۔ انھوں نے اس تبدیلی کا زیادہ تر کریڈٹ ولی عہد سعود کو دیا۔‘

اگرچہ انھوں نے سرجری سے انکار کیا لیکن امریکی ڈاکٹروں کے علاج سے ابن سعود کی تکلیف میں ذرا کمی ضرور ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی خفیہ مشن سے واشنگٹن کو سعودی عرب میں عام زندگی کو سمجھنے کا موقع ملا

اوالٹ نے مئی میں بھیجے گئے ایک ٹیلیگرام میں لکھا کہ اب بادشاہ مستقل طور پر وہیل چیئر استعمال کرنے کی بجائے آسانی سے چلنا پھرنا شروع ہو گئے ہیں اور ان کے گھٹنے پوری طرح سیدھے ہو گئے ہیں۔

اس دورے نے امریکہ اور سعودی عرب کو قریب کر دیا۔ اگلے سال اگست میں ابن سعود پھر بیمار پڑ گئے۔ صدر کو بھیجے گئے ایک میمو میں ایچیسن نے سفارش کی کہ جنرل گریم کو فوری طور پر دوبارہ سعودی عرب بھیجا جائے۔

ڈین ایچیسن نے لکھا کہ جنرل گریم کو بھیجے جانے سے نہ صرف ابن سعود خوش ہوئے بلکہ وہ ایک ایسی سفارتی حکمتِ عملی بھی ثابت ہوئے جس کی وجہ سے امریکہ اورسعودی عرب کا مفید معاہدہ ہو سکا۔

یہی وہ باہمی دفاعی معاہدہ تھا جو دونوں ممالک میں آج تک جاری تعاون کی بنیاد بنا۔

صدر ٹرومین نے اس مشن کی منظوری دی تھی۔

جب جنرل گریم، اوالٹ اور دوسرا طبی عملہ 1951 میں وائٹ ہاؤس میں میٹنگ کر رہا تھا تو صدر ٹرومین بھی وہاں آئے اور انھیں بتایا کہ ابن سعود اور سعودی عرب، امریکہ کے لیے کتنے اہم ہیں۔

اوالٹ لکھتے ہیں کہ صدر نے گروپ کو بتایا کہ وہ ایک اہم مشن پر ایک عظیم انسان سے ملنے جا رہے ہیں۔

’وہ ہمارے دوست ہیں۔‘

اسی بارے میں