اردوغان کی اکثریت ختم، مخلوط حکومت کی کوششیں شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سی ایچ پی استنبول کے چیئرمین مرات کارلچن نے کہا ہے کہ ترکی کے ووٹروں نے صدر اردوگان کی طرف سے مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے

ترکی کے صدر طیب رجب اردوغان نے کہا ہے کہ انتخابات کے نتائج سے واضح ہوگیا ہے کہ کوئی بھی جماعت تنہا اقتدار سنبھال نہیں سکتی۔

13 برس میں پہلی بار عام انتخابات میں اکثریت کھونے کے بعد صدر کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلمپنٹ پارٹی حکومت سازی کی کوشش کر رہی ہے۔

جماعت نے 41 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور اب اسے یا تو مخلوط حکومت بنانی ہوگی یا پھر انتخاب ہارنے والی جماعت کی حکومت کا سامنا کرنا ہو گا۔

تاہم اکثریت کھونے کے باوجود حکمران پارٹی کے رہنما اور ملک کے وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ہر کسی کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے الیکشن جیتا ہے۔ انھوں نے دیگر جماعتوں سے اپیل کی وہ نئے آئین کی تیاری کے عمل میں شامل ہوں۔

ان انتخابات میں کرد نواز جماعت ايچ ڈی پی نے توقعات سے بڑھ کر کامیابی حاصل کی ہے اور اس نے نہ صرف پارلیمنٹ میں نمائندگی کے لیے دس فیصد مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے کی حد عبور کی بلکہ 13 فیصد ووٹ حاصل کر کے تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔

انتخابی نتائج سابق وزیر اعظم اور موجودہ صدر رجب طیب اردوغان کے لیے دھچکہ ہیں اور ان کا ملک میں صدارتی نظامِ جمہوریت متعارف کرانے کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔

صدر اردوغان کا کہنا ہے کہ تمام جماعتوں کو نتائج کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیر کو انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ترک کرنسی لیرا اور بازارِ حسس میں قیمتوں کی کمی دیکھی گئی

جسٹس اینڈ ڈویلمپنٹ پارٹی کو اب اتحادی حکومت بنانی ہوگی تاہم کسی بھی جماعت نے ان کے ساتھ کام کرنے کی رضامندی ابھی تک ظاہر نہیں کی ہے۔

صدر طیب اردوغان کو آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار تھی جو ان کی جماعت حاصل نہیں کر سکی۔

ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک بلاشرکت غیر اقتدار میں رہنے والی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو اب شاید حکومت بنانے کے اتحادی بھی دستیاب نہ ہوں کیونکہ انتخابی مہم کے دوران تمام بڑی جماعتوں نے حکمران جماعت سے اتحاد بنانے کے امکان کو رد کیا تھا۔

انتخابی نتائج کے مطابق حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو 41 فیصد ووٹ ملے ہیں جس کی بنیاد پر اسے پارلیمنٹ میں 258 نشستیں مل پائیں گی جو سادہ اکثریت کے لیے مطلوبہ تعداد سے 18 نشستیں کم ہیں۔

کرد نواز جماعت ايچ ڈی پی کی نائب سربراہ ثریا اوندر نے اپنی پارٹی کی کامیابی پر کہا کہ ’جمہوریت نے سیاسی بدعنوانی کو شکست دے دی ہے۔‘

ایچ ڈی پی کو اپنے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے 75 سے 80 پارلیمانی نشستیں مل سکتی ہیں۔

ایچ ڈی پی کے سربراہ صلاح الدین دمیترس نے اتوار کے روز حکمران جماعت سے حکومتی اتحاد بنانے کے امکان کو رد کر دیا۔

صلاح الدین نے کہا کہ انتخابی نتائج نے صدارتی نظام حکومت کے بارے میں بحث کو ختم کر دیا ہے۔

رپبلکن پارٹی سی ایچ پی نے 25 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور اس طرح وہ پارلیمنٹ میں دوسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔

سی ایچ پی استنبول کے چیئرمین مرات کارلچن نے کہا ہے کہ ترکی کے ووٹروں نے صدر اردوغان کی طرف سے مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

اسی بارے میں