موصل میں ’روزمرہ کی زندگی دولتِ اسلامیہ کے شکنجے میں‘

Image caption ’جب سے دولتِ اسلامیہ نے شہر پر قبضہ کیا ہے وہ یہاں ’خلافت کے قوانین‘ نافذ کر رہی ہے‘

بی بی سی کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اپنے زیرِ قبضہ عراقی شہر موصل میں نظامِ زندگی کے تقریباً ہر شعبے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے ایک برس قبل موصل پر قبضہ کیا تھا۔

موصل سے ملنے والی ویڈیو فوٹیج سے صاف ظاہر ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے اس شہر کے رہائشیوں کو اپنے اصولوں کے مطابق روزمرہ زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔

گذشتہ برس کے دوران کئی ماہ کے دوران خفیہ طور پر بنائی گئی ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدت پسندوں نے شہر میں مساجد تباہ کر دی ہیں، سکولوں کی عمارتیں خالی ہیں اور خواتین کو پردہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

موصل کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل سزا کے خوف میں جی رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو حکومتی افواج کے متوقع حملے کا مقابلہ کرنے کی تیاریوں میں بھی مصروف ہیں۔

خیال رہے کہ موصل پر قبضے کے بعد ہی دولتِ اسلامیہ کی شمالی عراق میں اس پیش قدمی کا آغاز ہوا تھا جس کے نتیجے میں اس نے نہ صرف بہت بڑے علاقے پر قبضہ کیا بلکہ وہاں سے لاکھوں افراد کو نقل مکانی بھی کرنا پڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’رہا ہونے والے خوفزدہ ہیں کہ اگر انھوں نے کوئی بھی بات کی تو وہ دوبارہ گرفتار کر لیے جائیں گے‘

ڈرانا دھمکانا، سزا اور تشدد

موصل کے رہائشی ان ویڈیوز میں ایسے افراد کو ملنے والی ظالمانہ سزاؤں کے بارے میں بھی بتاتے ہیں جو ’جہادیوں‘ کے بتائے گئے ’اسلامی‘ قوانین پر عمل نہیں کرتے۔

دولتِ اسلامیہ نے موصل پر قبضے کے چند ہی ہفتے بعد اپنی پوری ’خلافت‘ میں ان قوانین کا نفاذ کر دیا تھا۔

موصل کے ایک رہائشی زید کا کہنا ہے کہ جب سے دولتِ اسلامیہ نے شہر پر قبضہ کیا ہے وہ یہاں ’خلافت کے قوانین‘ نافذ کر رہی ہے۔ ان میں کم از کم سزا کوڑے مارنا ہے جو آپ کو سگریٹ پینے پر بھی مل سکتی ہے۔

ان کے مطابق چوری کرنے پر ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے جبکہ زنا کی سزا مرد کے لیے کسی اونچی عمارت سے نیچے پھینک دیا جانا اور خاتون کے لیے سنگساری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

زید کا کہنا ہے کہ ’یہ سزائیں کھلے عام دی جاتی ہیں اور عوام کو انھیں دیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ ان کے دلوں میں خوف پیدا ہو۔‘

انھوں نے بتایا کہ خود ان کے کئی رشتہ داروں کو دولتِ اسلامیہ نے پکڑا جن میں سے کچھ اس لیے مار دیے گئے کہ وہ حکومتی فوج کا حصہ تھے جبکہ باقی کو رہائی مل گئی اور رہائی پانے والے باہر آ کر چپ سادھ لیتے ہیں۔

زید کا کہنا ہے کہ رہا ہونے والے خوفزدہ ہیں کہ اگر انھوں نے کوئی بھی بات کی تو وہ دوبارہ گرفتار کر لیے جائیں گے۔

دولتِ اسلامیہ کی قید میں رہنے والے فواد کا کہنا تھا کہ انھیں اس وقت پکڑا گیا جب دولتِ اسلامیہ والے ان کے بھائی کی تلاش میں ان کے گھر آئے۔ ’جب وہ نہیں ملا تو وہ مجھے لے گئے اور جیل میں ڈال دیا۔‘

فواد کے مطابق ’پھر انھوں نے مجھ پر تشدد کیا۔ مجھے مارنے پیٹنے والا شخص جبھی رکتا جب وہ خود تھک جاتا تھا۔ اس نے مجھے بجلی کے تار سے مارا اور ذہنی اذیت بھی پہنچائی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جب ان کا بھائی دولتِ اسلامیہ کے سامنے پیش ہوگیا اور اس پر لگا الزام بھی غلط ثابت ہوا تب بھی خود فواد کو اس وقت تک جیل سے رہائی نہیں ملی جب تک ان کی حالت بہتر نہیں ہو گئی۔

Image caption موصل میں خواتین کو سر تا پا مکمل سیاہ لباس پہننا پڑتا ہے

عورتوں پر کنٹرول

موصل سے ملنے والی ویڈیوز میں دولتِ اسلامیہ کے تحت زندگی کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے اور دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح عورتوں کو پردہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک عورت کو صرف اس لیے روک کر تنبیہ کی جاتی ہے کہ اس کے ہاتھ مکمل طور پر ڈھکے ہوئے نہیں تھے۔

ایسی ہی ایک خاتون حنا کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو عورتوں کے لباس کے معاملے میں بہت سختی سے پیش آتے ہیں اور خواتین کو سر تا پا مکمل سیاہ لباس پہننا پڑتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک دن جب انھوں نے اپنے خاوند سے انھیں باہر لے جانے کو کہا تو اگرچہ انھوں نے خمر یا حجاب پہنا ہوا تھا، ان کے شوہر نے انھیں نقاب ڈالنے کو بھی کہا۔

حنا کے مطابق ایک بار تو انھوں نے احتجاجاً باہر جانے کا فیصلہ منسوخ کرنے کے بارے میں سوچا لیکن پھر وہ نقاب اوڑھ کر چلی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حنا کا کہنا ہے کہ جب وہ ایک ریستوران میں پہنچیں تو ان کے شوہر نے انھیں چہرے سے نقاب ہٹانے کو کہا اور بولے کہ وہاں دولتِ اسلامیہ والے موجود نہیں۔

تاہم حنا نے بتایا کہ جیسے ہی انھوں نے نقاب ہٹایا ریستوران کا مالک فوراً ان کے پاس آیا اور ان کے شوہر سے درخواست کی کہ وہ حنا سے دوبارہ چہرہ ڈھانپنے کو کہیں۔

ریستوران کے مالک کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے ارکان غیرمتوقع دورے کرتے ہیں اور اگر انھوں نے حنا کو بغیر نقاب کے دیکھا تو اسے کوڑے مارے جائیں گے۔

حنا کے مطابق انھوں نے خود ایسے خاوندوں کو کوڑے مارے جانے کی خبریں سنی ہیں جن کی بیویوں نے دستانے نہیں پہنے ہوئے تھے۔

حنا نے بتایا کہ انھوں نے ریستوران کے مالک کی درخواست قبول کی اور جب وہ وہاں سے واپس روانہ ہوئے تو انھیں ایک باپ سیاہ برقعوں کے سمندر میں اپنی بیٹی کو تلاش کرتا دکھائی دیا۔

Image caption دولتِ اسلامیہ نے عیسائیوں کے مکانات کی نشاندہی کے لیے ان پر حرف ’ن‘ تحریر کر دیا

اقلیتوں پر ظلم

ویڈیو کلپس میں مساجد اور مزاروں کو تباہ شدہ حالت میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

فوٹیج میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کیسے دولتِ اسلامیہ نے شہر میں قیام پذیر نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے مکانات پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ علاقے کہ جہاں دولتِ اسلامیہ کے آنے سے قبل یہ اقلیتی آبادی رہائش پذیر تھی اب خالی ہیں۔

عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی ایک ڈاکٹر مریم کا کہنا ہے کہ موصل پر قبضے سے قبل بھی انھیں سخت گیر عقائد کے حامل شدت پسندوں نے ڈرایا دھمکایا اور ہراساں کیا لیکن وہ مذہب اور نسل کی تفریق سے بالاتر ہو کر اپنا کام کرتی رہیں۔

انھوں نے کہا جب موصل دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں آیا تو مجھے بھاگنا پڑا۔ ’میں خود تو نکل آئی ہوں لیکن میری روح وہیں رہ گئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مریم کے مطابق اربیل منتقلی کے بعد انھیں یہ خبر ملی کہ دولتِ اسلامیہ نے میرے مکان پر قبضہ کر لیا ہے اور اس پر حرف ’ن‘ تحریر کر دیا جو وہ نصرانی یا عیسائیوں کی نشاندہی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مریم کا کہنا ہے کہ انھیں ان کے دوستوں نے بتایا کہ جنگجوؤں نے ان کی تمام کتابیں سڑک پر پھینک دی تھیں تاہم ان کے ہمسائے ان کی کچھ کتب بچانے میں کامیاب رہے۔

روزمرہ کی زندگی تہہ و بالا

موصل کے شہریوں کی زندگی اس قدر تبدیل ہو گئی ہے کہ پہچانی نہیں جاتی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایندھن کی کس قدر قلت ہے، چہار جانب آلودگی ہے، تعمیراتی کام رکا ہوا ہے اور بہت سے سکول بند ہیں۔

موصل کے ایک شہری ہشام کے مطابق روزمرہ کی زندگی ناقابل بیان طور پر بدل گئی ہے۔ ’جو فوج میں تھے یا یومیہ اجرت پر کام کرتے تھے ان کے لیے اب آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں کیونکہ ان کے لیے کوئی کام نہیں۔‘

ان کے مطابق ’امیر اپنے پس انداز کیے ہوئے پیسوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ جو لوگ تنخواہ پر کام کر رہے ہیں ان کا گزارہ چل رہا ہے لیکن غریب بس خدا کے رحم و کرم پر ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ہشام کا کہنا ہے کہ ان کی نوکری چلی گئی تو انھیں اپنی تعلیم بھی چھوڑنی پڑی۔ ’دوسروں کی طرح میرے بنیادی حقوق بھی پامال ہو رہے ہیں۔ دولت اسلامیہ کے مطابق تمام چیزیں حرام ہیں اس لیے میں ہر وقت بے کار گھر پر بیٹھا رہتا ہوں۔ پکنک جیسی معمولی چیز بھی موصل میں ممنوع ہے اور توجیہ یہ دی جاتی ہے کہ یہ تضیعِ اوقات اور پیسے کا زیاں ہے۔‘

ان کے مطابق دولت اسلامیہ شہر کی تعمیر نو کے لیے تعاون کے نام پر ہر ایک کی تنخواہ کا ایک چوتھائی حصہ لے لیتی ہے۔’ کوئی انھیں منع نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے سخت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ گروہ ہر چیز پر حاوی ہے۔ کرایہ اسے ادا کیا جاتا ہے اور ہسپتال ان کے اراکین کے لیے مخصوص ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption موصل کے ایک شہری ہشام کے مطابق روزمرہ کی زندگی ناقابل بیان طور پر بدل گئی ہے

’تنظیم نے مسجد کے اماموں کو بھی بدل دیا ہے اور ان کی جگہ دولت اسلامیہ کے حامیوں کر رکھ دیا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے مسجد جانا بند کر دیا ہے کیونکہ جو وہاں جاتے ہیں ان سے دولت اسلامیہ کی حمایت کے لیے بیعت لی جاتی ہے اور ہمیں اس بات سے نفرت ہے۔‘

’میرے بھائی کو صرف اس بات کے لیے 20 کوڑے لگائے گئے کہ اس نے نماز کے وقت اپنی دکان بند نہیں کی۔ آپ زبردستی مذہب کا نفاذ نہیں کر سکتے۔‘

عقیدے کی تلقین اور نگرانی

فوٹیج میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جنگجوؤں نے کس قدر جدید اور پیچیدہ تکنیک کے ذریعے شہر کی آبادی کو کنٹرول میں کر رکھا ہے ان میں اپنے پیغام کی نشر و اشاعت کے لیے میڈیا مراکز بھی شامل ہیں۔

محمود نے بتایا کہ ’میرا 12 سالہ بھائی دولت اسلامیہ کے قبضے کے باوجود سکول میں ہے۔ ہم نے یہ سوچا کہ کسی متبادل کی عدم موجودگی میں اس کے لیے کسی قسم کی تعلیم کا جاری رہنا بہتر ہے۔ لیکن ایک دن جب میں گھر آیا تو میں نے دیکھا کہ میرا بھائی کاغذ پر دولت اسلامیہ کا پرچم بنا رہا ہے اور اس کا ایک مشہور نغمہ گنگنا رہا ہے۔ میں پاگل ہوگیا اور اس پر چیخنا شروع کر دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ان کے مطابق ’ہم نے اسے فوری طور پر سکول سے نکال لیا کیونکہ ہمیں دولت اسلامیہ کی تعلیم سے کوئی تعلیم نہ حاصل کرنا بہتر معلوم ہوا۔‘

’میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس گروہ کا منصوبہ بچوں کے ذہنوں میں تشدد، منافرت اور فرقہ واریت پھیلانا کرنا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

دولت اسلامیہ کی حکمت عملی اور فوجی نظام

ویڈیوز میں دولت اسلامیہ کی فوج کو بھاری توپیں لے کر گھومتے اور طیارہ شکن میزائل کے حملے کا جواب دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس اسلحے میں سے کچھ میدان چھوڑ کر بھاگنے والی عراقی فوج سے حاصل کیا گیا ہے۔

زید کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کو علم ہے کہ فوج موصل کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اس لیے وہ احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں۔

انھوں نے سرنگیں کھود کر، رکاوٹیں کھڑی کر کے، بارودی سرنگیں بچھا کر اور شہر میں نشانہ بازوں کو بٹھا کر شہر کو برباد کر دیا ہے اور فوج کے لیے اسے حاصل کرنا بہت مشکل ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

زید کے مطابق ’اس سب کے باوجود اگر حکومت نینوا کے میدان اور موصل واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ہم بہت خوش ہوں گے۔ مجھے امید ہے کہ اندرون ملک بےگھر ہونے والے پناہ گزین واپس لوٹ سکیں گے تاکہ ہم مل کر ایک متحدہ اور محفوظ عراق کی تعمیر کر سکیں۔ دولت اسلامیہ انسانیت کی دشمن ہے۔‘

زید پریشان ہیں کہ ’آخر فوج اسے کیسے حاصل کرے گی۔ میرے خیال سے تکریت میں پاپولر موبیلائزیشن (شیعہ جنگجوؤں پر مبنی حکومت کی حامی رضاکار فورس) نے جس طرح تشدد کیا وہی نینوا کے میدانوں اور موصل میں بھی ہوگا اور پھر سے تمام حالات پر پانی پھر جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ مقامی باشندوں کو مسلح کرے تاکہ وہ اپنے شہر کی خود حفاظت کر سکیں اور ’خدا کی مدد سے ہم دولت اسلامیہ کو شکست دے دیں گے۔‘

نوٹ: شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیے نام بدل دیے گئے ہیں۔ اضافی شواہد لیڈیا گرین نے حاصل کیے ہیں۔

اسی بارے میں