تین دن تک لفٹ میں پھنسی راہباؤں کو بچا لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption دونوں خواتین کا کہنا تھا کہ وہ جب وہ لفٹ میں پھنسی ہوئی تھیں تو انھوں نے ’بہت زیادہ دعائیں‘ کیں

اٹلی کے دارالحکومت روم میں دو راہباؤں کو تین دن تک ایک لفٹ میں پھنسے رہنے کے بعد بچا لیا گیا۔ تین دن تک انھوں نے بغیر کچھ کھائے اور پیے گزارہ گیا۔

نیوزی لینڈ کی 69 سالہ اور آئرلینڈ کی 58 سالہ راہبہ جمعے کو ماریسٹ کانونٹ میں بجلی کے تعطل کے باعث لفٹ میں پھنس کر رہ گئی تھیں۔

اطالوی میڈیا کے مطابق انھوں نے مدد کے لیے پکارا لیکن ہفتہ وار چھٹیاں ہونے باعث عمارت میں کوئی بھی نہیں تھا۔

پیر کو جب ایک صفائی کرنے والے دروازے کی گھنٹی بجائی اور کوئی جواب موصول نہ ہوا تو اس نے پولیس کو بلایا۔

اخبار ال میساگیرو کے مطابق پولیس جب عمارت میں داخل ہوئی اور انھوں نے پوچھا کہ کیا کوئی یہاں موجود ہے تو راہباؤں نے کہا ’ہاں، ہم یہاں ہیں، ایلیویٹر میں۔‘

ال میساگیرو کے مطابق دونوں خواتین کا بعد میں کہنا تھا کہ جب وہ لفٹ میں پھنسی ہوئی تھیں تو انھوں نے ’بہت زیادہ دعائیں‘ کیں۔

انھیں قریبی ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کا ڈی ہائیڈیرشن کے باعث طبی معائنہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ روم میں واقع ماریسٹ سسٹر ہاؤس دنیا بھر سے مذہبی مشنز کی میزبانی کرتا ہے۔

اسی بارے میں