جعلی ڈگریاں، برطانیہ میں بھی کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ ایک چینی ویب سائٹ درجنوں برطانوی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں فروخت کر رہی ہے۔

انگلینڈ میں وزراء نے حکم دیا ہے کہ جعلی یونیورسٹیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

حکومت کے مطابق اس حکم کا مقصد ایسی جعلی ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کرنی ہے جو خود کو انٹرنیٹ پر مصدقہ یونیورسٹیوں کے طور پر پیش کر رہی ہیں اور لوگوں میں ڈگریاں تقسیم کر رہی ہیں۔

جعلی ڈگريوں کے کاروبار میں پاکستان نمبر 1؟

جعلی ڈگریوں کے سکینڈل نے پاکستان کو ہلا کے رکھ دیا

برطانوی وزراء کی جانب سے جعلی یونیورسٹیوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت اس خبر کے بعد دی گئی ہے کہ انگلینڈ میں 190 جعلی یونیورسٹیاں موجود ہیں جو لوگوں کو ڈگریاں فراہم کرنے کی پیشکش کر رہی ہیں۔

انگلینڈ کے سائنس اور یونیورسٹیوں کے وزیر جو جانسن کا کہنا ہے کہ ایسی جعلی یونیورسٹیوں کے خلاف کارروائی سے اس خیال کو تقویت ملے گی کہ برطانیہ واقعی اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے والا ملک ہے۔

مسٹر جانسن کا کہنا تھا کہ چار برس قبل ڈگریوں کی جانچ پڑتال کے لیے ’ایجوکیشن ڈگری ڈیٹا چیک‘ کا ادارہ اسی لیے قائم کیا تھا کہ ملازمت اور اعلیٰ تعلیم کے لیے دی جانے والی درخواستوں کی تصدیق کی جا سکے اور ’ایسی جعلی تنظیمیوں اور ویب سائٹس کو بے نقاب اور تلف کیا جائے جو لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔‘

وزیر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کا یہ قدم تمام قانونی یونیورسٹیوں اور ایسے طلبہ کے مفادات کا تحفظ کرے گا جو واقعی پڑھنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال بی بی سی کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا تھا کہ کچھ ویب سائٹس انگلینڈ کی معروف ’یونیورسٹی آف کینٹ‘ کی جعلی ڈگریاں پانچ سو پاؤنڈ میں فروخت کر رہی ہیں۔

اس تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ چین میں قائم ایک ویب سائٹ درجنوں برطانوی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں اور سرٹیفیکیٹ فروخت کر رہی ہے۔

’ہایئر ایجوکیشن ڈگری ڈیٹا چیک‘ کی ایک ڈائریکٹر جین راؤلی کہتی ہیں کہ ’ڈگریوں کا فراڈ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ صرف اس سال کی پہلی سہ ماہی میں ہم نے اپنے ڈیٹا بیس میں 42 مزید ایسے اداروں کے نام ڈالے ہیں جو جعلی ہیں اور اس وقت بھی ہزاروں جعلی ڈگریاں گردش میں ہیں۔‘

’یہ بات سمجھنا اتنا مشکل نہیں کہ لوگ کیوں اتنی جلدی اس جھانسے میں آ جاتے ہیں کہ وہ ایک ویب سائٹ سے اصلی ڈگری حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جعلی ڈگریاں بظاہر اصلی دکھائی دیتی ہیں۔ نہ صرف ویب سائٹ پر قائم جعلی ادارے اپنے نام کے آگے یونیورسٹی کا لفظ لگا لیتے ہیں بلکہ مختلف مضامین اور کورسز سے متعلق جو معلومات فراہم کی جاتی ہیں ان سے دیکھنے والے کو یہی لگتا ہے کہ یہ کسی اصلی یونیورسٹی کی ویب سائٹ ہے۔‘

اسی بارے میں