43 سال کی قیدِ تنہائی کے بعد رہائی پھر ٹل گئی

تصویر کے کاپی رائٹ CORTESIA ANGOLA3.ORG
Image caption وڈ فوکس کو جیل میں ایک فساد برپا ہونے کے بعد 18 اپریل سنہ 1972 سےقید تنہائی میں رکھا گیا تھا

امریکی ریاست لوزیانا میں چار دہائیوں سے زیادہ قید تنہائی کاٹنے والے ایک امریکی قیدی کی رہائی مزید کچھ دن کے لیے ٹل گئی ہے۔

68 سالہ البرٹ وڈ فوکس کی رہائی کا حکم امریکی عدالت کے جج جیمز بریڈی نے جاری کیا تھا تاہم ریاست کے اٹارنی جنرل نے اس کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا ہے استغاثہ چاہتا ہے کہ یہ ’قاتل‘ سلاخوں کے پیچھے ہی رہے اور اب ان کے پاس جمعے کی شام تک کا وقت ہے کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ ایسا کیوں ہو۔

البرٹ وڈ فوکس کو جیل میں ایک فساد برپا ہونے کے بعد 18 اپریل سنہ 1972 سےقید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس فساد میں ایک محافظ کی موت ہو گئی تھی۔

البرٹ محافظ کے قتل کے الزام کی تردید کرتے ہیں۔ ان پر اس سلسلے میں دو بار مقدمہ بھی چلایا جا چکا ہے لیکن بعد میں ان دونوں مقدموں کے فیصلوں کو ختم کر دیا گیا۔

جج جیمز بریڈی نے استغاثہ پر البرٹ وڈفوکس کے خلاف تیسری بار عدالت میں مقدمہ چلانے پر بھی پابندی لگائی ہے۔

پیر کو جج بریڈی نے وڈفوکس کی غیر مشروط رہائی کا حکم جاری کیا تھا اور تیسری بار مقدمہ قائم کرنے پر یہ کہتے ہوئے پابندی لگا دی ہے کہ یہ انصاف نہیں۔

لیکن لوزیانا اٹارنی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ استغاثہ اس کے خلاف اپیل کرے گا تاکہ ’یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جیل میں قتل کے الزام میں اس شخص کو جیل میں ہی رکھا جائے اور یہ کہ وہ پوری طرح قصوار ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ c
Image caption ان تینوں کا انگولا کا قیدی بھی کہا جاتا تھا کیونکہ یہ قید خانہ جہاں انھیں قید تنہائی دی گئی تھی وہ انگولا کے نام سے معروف غلاموں کے علاقے کے پاس تھا

خیال رہے کہ وڈ فوکس ان تین افراد میں سے ایک ہیں جنھیں قید تنہائی دی گئی تھی۔ دو افراد رابرٹ کنگ اور ہرمین ویلک کو بالترتیب سنہ 2001 اور 2013 میں رہا کر دیا گیا تھا۔

ویلک کی رہائی کے فوراً بعد موت ہو گئی جبکہ کنگ کے خلاف فیصلے کو الٹ دیا گیا تھا۔

وڈفوکس اور ویلک سیاہ فاموں کے حقوق کی تحریک بلیک پینتھرز سے منسلک تھے۔ یہ تحریک سنہ 1966 میں پولیس کے ظلم اور نسل پرستی کے خلاف اپنے دفاع کے لیے شروع ہوئی تھی جو بعد میں سیاہ فام کی آزادی کے لیے انقلابی تحریک کا رخ اختیار کرگئی۔

ان تینوں کو مسلح ڈاکہ زنی کے لیے قید کی سزا دی گئی تھی۔

کنگ نے 29 سال قید تنہائی میں گزارے اور تین سال قبل انھوں نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اپنے تجربات بیان کیے تھے۔

انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے اس دوران ہمت سے کام لیا لیکن لوگوں کو انسانوں کے ساتھ رابطے میں نہ ہونے کے سبب ٹوٹتے ہوئے دیکھنا ڈراؤنا تھا۔

یہ تینوں افراد ایک زمانے سے بین الاقوامی انصاف مہم کی توجہ کا مرکز تھے۔

اسی بارے میں