’جائے پیدائش یروشلم، مگر اسرائیل نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ فیصلہ امریکی شہری مسٹر میناچم زیوفٹسکی کی سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست پر سنایا گیا ہے

امریکی سپریم کورٹ نے سنہ 2002 کے اس قانون کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جس کے تحت مقبوضہ بیت المقدس میں پیدا ہونے والے امریکی بچے کی جائے پیدائش کے خانے میں اسرائیل کا نام لکھا جا سکتا تھا۔

امریکی سپریم کورٹ کے اس اہم فیصلے کی خبر کو دنیا بھر کے اخبارات نے شائع کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کے جج جسٹس انتھونی نے تین کے مقابلے میں چھ ججوں کے اکثریتی فیصلے میں امریکی حکومت کے مؤقف کو تسلیم کیا۔ یاد رہے کہ ایک امریکی شہری مسٹر میناچم زیوفٹسکی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں پیدا ہونے والے ان کے بیٹے کے پاسپورٹ کے جائے پیدائش کے خانے میں یروشلم کے ساتھ اسرائیل بھی لکھا جائے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ اختیارات کی تقسیم کے اس اہم معاملے میں سپریم کورٹ نے پیر کو اس قانون کو کالعدم قرار دیے دیا جس کے تحت یروشلم یا بیت المقدس میں پیدا ہونے والے بچوں کے والدین ایسے بچوں کے پاسپورٹس کے پیدائش کے ملک کے خانے میں اسرائیل درج کروا سکتے تھے۔

اخبار کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں کہا ہے کہ یروشلم کے بارے میں قومی پالیسی کے تعین کا حق امریکی صدر کے پاس ہے نہ کہ امریکی کانگریس کے پاس۔

امریکی سپریم کورٹ کے جج جسٹس انتھونی ایم کینیڈی نے چھ ججوں کی طرف سے تحریری فیصلے میں کہا کہ عدالت نے اس مقدمے پر فیصلہ سناتے ہوئے بڑی احتیاط سے کام لیا ہے۔

جسٹس کینیڈی نے کہا کہ یروشلم کی سیاسی حیثیت کا تعین طویل عرصے سے امریکی خارجہ پالیسی کا بڑا اہم اور حساس مسئلہ رہا ہے اور اب بھی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی معاملات میں یہ اب بھی ایک بڑا نازک مسئلہ ہے۔

تین کے مقابلے میں چھ ججوں کے اس اکثریتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ خارجہ پالیسی کا رخ متعین کرنا آئین کی روح سے صدر کا اختیار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی بین الاقوامی اہمیت ہے

انھوں نے کہا کہ آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون سے ملک امریکہ کی نظر میں جائز ہیں اور کون سے نہیں اس بارے میں قوم کی پالیسی ایک ہی ہونی چاہیے۔

جسٹس کینیڈی نے کہا کہ اس بارے میں قوم کو یک آواز ہو کر بات کرنی چاہیے اور یہ آواز صدر کی ہونی چاہیے۔

اختلافی نوٹ میں جسٹس رابرٹس نے لکھا کہ اکثریت نے ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے اس سے قبل عدالت نے کبھی خارجہ امور کے معاملات میں صدر کی طرف سے کانگریس کی خواہش کی سرکشی یا حکم عدولی کی کبھی حمایت نہیں کی ہے۔

یہ مقدمہ سنہ دو ہزار دو کے ایک قانون سے بھی متعلق تھا جس میں امریکی وزارتِ خارجہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ یروشلم میں پیدا ہونے والے امریکی بچوں کے والدین اگر چاہیں تو پاسپورٹس میں پیدائش کے ملک کے خانے میں اسرائیل درج کیا جائے۔

اس قانون کی ایک اہم علامتی حیثیت بھی تھی اور اس سے یروشلم کے بارے میں ایک واضح پیغام جاتا تھا۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت بھی یروشلم کی حیثیت متنازع ہے۔

امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیوں بش نے اس قانون کی توثیق کر دی تھی مگر اس کے ساتھ یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ یہ قانون صدر کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہے۔

اسی بارے میں