’لڑکیوں کے ساتھ مشکل ہوتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سر ٹم ہنٹ کو سنہ 2001 میں نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا

ایک نوبیل انعام یافتہ سائنسدان نے اپنے اس بیان پر معذرت کی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سائنس میں ’لڑکیوں کے ساتھ مشکل ہوتی ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ میرا مقصد ایمانداری سے تبصرہ کرنا تھا۔

سر ٹم ہنٹ کو سنہ 2001 میں نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق انھوں نے جنوبی کوریا میں ایک کانفرنس میں کہا کہ لیب میں کام کرنے والی خواتین پر جب آپ تنقید کرتے ہیں تو وہ ’رو‘ پڑتی ہیں اور اپنے ساتھ کام کرنے والے مردوں سے انھیں پیار ہو جاتا ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کیفیات بیان کرنا تھا لیکن وہ معذرت چاہتے ہیں۔

رائل سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سر ٹم کا بیان ان کے خیالات کی ترجمانی نہیں کرتا۔

72 سالہ سر ٹم کو فزیالوجی میں ان کے کام کہ خلیات کیسے تقسیم ہوتے ہیں پر نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق انھوں نے سائنس کی عالمی کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے خواتین سے کن مشکلات کا سامنا رہا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ’جب خواتین لیب میں کام کر رہی ہوتی ہیں تو تین چیزیں ہوتی ہیں۔ آپ کو ان سے پیار ہو جاتا ہے، انھیں آپ سے پیار ہوجاتا ہے اور جب آپ ان پر تنقید کرتے ہیں تو وہ رو پڑتی ہیں۔‘

بی بی سی کے ریڈیو 4 کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ’میں معافی مانگتا ہوں جو میں نے کہا تھا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی بے وقوفی تھی وہ بھی ان صحافیوں کی موجودگی میں۔‘

برطانوی بائیو کیمسٹ کا جو سنہ 1991 میں رائل سوسائٹی کے رکن بنے کہنا ہے کہ انھوں نے یہ بات ’مذاق‘ میں کہی تھی لیکن سننے والوں نے اسے ’انتہائی سنجیدگی‘ سے لیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’یہ بات درست ہے کہ لیب میں کام کرنے والے لوگوں کو مجھ سے پیار ہو گیا اور مجھے لوگوں سے، اور یہ سائنس کے لیے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ لیب میں کام کرنے والے ہر وقت ہوشیار رہیں۔‘

سر ٹم کا کہنا تھا کہ’میں نے دیکھا ہے کہ اس قسم کے جذباتی الجھاؤ سے زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’ میں بہت بہت معافی مانگتا ہوں کیونکہ یہ بیان اوروں کو ناگوار گزرا، میرے مقصد یہ نہیں تھا میرا مقصد ایماندار ہونا تھا۔‘

سٹی یونیورسٹی کی ایک لیکچرار کونی سینٹ لوئس نے جو جنوبی کوریا میں اُس وقت سننے والوں میں موجود تھیں بی بی سی کو بتایا ہے کہ’کوئی بھی ہنس نہیں رہا تھا اور سب کے چہرے پر حیرانی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’یہ بہت حیران کن تھا۔ میں نے سوچا کہ آپ کے خیال میں آپ کس دنیا میں رہتے جو آپ 2015 میں ایسے بیانات دے رہے ہیں۔‘

لندن یونیورسٹی کالج کی ڈاکٹر جینیفر روہن نے کہا کہ’یہ صاف واضح ہے کہ وہ مذاق کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن لوگ اس بیان کو سچ سمجھ لیں گے اور میں جانتی ہوں کے وہ ایک نوبیل انعام یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بھی ہیں لیکن اپنے شعبے کے سفیر ہونے کے ناطے ان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔‘

برٹش سائنس ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو عمران خان کا کہا تھا کہ’سر ٹم کا بیان لا پرواہی ہے۔‘

اسی بارے میں