کیا دولتِ اسلامیہ حلب پر بھی قبضہ کر لے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حلب شہر سنہ 2012 سے حکومت اور باغیوں کے درمیان تقسیم ہے

شام کے دوسرے بڑے شہر حلب کے شمال میں حکومتی فوجوں اور باغیوں کے درمیان جاری شدید لڑائی سے یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ حلب پر قبضہ کر سکتی ہے۔

اس کے قریب واقع صوبہ ادلب سے فوجوں کو نکالنے کے بعد باغیوں کے نئے اتحاد جیش النصرہ کی توجہ اب حلب پر مرکوز ہے۔

ترکی کی سرحد کے قریب واقع شہر حلب ایک قدیم تجارتی مرکز ہے اور گذشتہ تین سال سے یہ میدان جنگ بنا ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجو شہر کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ شامی حزب اختلاف اور امریکہ نے شامی حکومت پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ حکومت مخالف باغیوں پر فضائی بمباری کر کے جہادیوں کی مدد کر رہی ہے، بالخصوص حلب کے شمال میں واقع مارع شہر میں۔

امریکہ نے شامی حکومت پر ’(دولت اسلامیہ) کو نظر انداز‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جو شام کے اس کے خلاف لڑنے کے دعوے کے برعکس ہے۔

امریکہ کی قیادت میں جنگی اتحاد عراق اور شمالی شام کے شہر رقہ میں کارروائیوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، جہاں دولت اسلامیہ نے اپنا ہیڈکوارٹر قائم کیا ہوا ہے۔

گذشتہ ماہ شامی حکومتی فوج اور جنگی اتحاد دولت اسلامیہ کے سینکڑوں جنگجوؤں کو قدیم شہر پیلمائرا میں قبضے کی غرض سے داخل ہونے سے روک نہیں سکے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر بشارالاسد مغرب کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر انھیں ہٹا دیا گیا تو ان کے متبادل صرف دولت اسلامیہ جیسا کوئی شدت پسند تنظیم ہو گی

حکومت اور دولت اسلامیہ کے مابین جھڑپیں ہوتی رہی ہیں تاہم شامی حزب اختلاف نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے دولت اسلامیہ کو پیلمائرا پر قبضہ کرنے دیا اور ٹنوں اسلحہ شہر میں چھوڑ دیا جسے اب یہ شدت پسند تنظیم استعمال کر رہی ہے۔

اب یہ خدشہ ہے کہ ایسے ہی حالات حلب میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ شہر کا مغرب سرکاری فوج، جب کہ مشرقی حصہ باغیوں کے قبضے میں ہے۔

شہر کے جنوبی علاقے بھی حکومت کے زیرانتظام ہیں جبکہ مشرق کی جانب دولت اسلامیہ کا قبضہ رقہ صوبے اور تیل سے مالا مال شہر دیرالزور تک پھیلا ہوا ہے۔

حلب کے مغرب میں فوج اور باغیوں کے درمیان کشمکش جاری ہے، جہاں حکومت مخالف جنگجو نبل اور زہرہ کے حکومتی حمایت یافتہ شہروں کے گھیرے میں ہیں۔

اب توجہ کا مرکز شمالی علاقہ ہے، جو حلب میں باغیوں کی اہم سپلائی لائن ہے، اور جہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

اگر شدت پسند کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ ترکی کے ساتھ اہم سرحدی راستے باب السلام کا کنٹرول حاصل کر لیں گے جو اس کے لیے فنڈنگ کا ایک اور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اس سے دولت اسلامیہ ترکی کے مزید قریب پہنچ جائے گی، جس پر بشارالاسد کی حکومت دولت اسلامیہ کو مدد فراہم کا الزام عائد کرتی ہے۔ تاہم ترکی اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

دوسری جانب جیش النصرہ کا کہنا ہے کہ وہ حلب دفاع کے لیے تیار ہیں اور دولت اسلامیہ اور حکومت سے اس کو محفوظ رکھیں گے۔ لیکن لڑائی میں شدت آتی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے الرقہ شہر میں اپنا ہیڈکوارٹر قائم کر رکھا ہے

صدر بشارالاسد کا شام میں حکومت مخالف مظاہروں کے شروع ہوتے وقت سے ہی یہ کہنا ہے کہ شام میں تبدیلی کا کوئی مطالبہ نہیں، اور انھوں نے مسلح جدوجہد کو تسلسل سے ایسی ’دہشت گرد‘ سنی انتہاپسند تحریک کے طور پر بیان کیا ہے جس کے خلاف لڑنا چاہیے۔

سنہ 2013 میں جب رقہ میں پہلی بار دولت اسلامیہ سامنے آئی تھی تو حکومت نے ان کے خلاف بمشکل کوئی کارروائی کی جس کی وجہ سے اس شدت پسند تنظیم کو پھیلنے میں مدد ملی۔

دوسری جانب شام میں تمام مخالف تنظیموں کے خلاف بیرل بمباری اور فضائی کارروائیاں جاری ہیں جس کا نشانہ اکثر و بیشتر عام شہری بنتے ہیں۔

صدر بشارالاسد مغرب کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر انھیں ہٹا دیا گیا تو ان کا متبادل صرف دولت اسلامیہ جیسی کوئی شدت پسند تنظیم ہو گی۔

شمالی شام کی صورت حال اور ادلب اور پیلمائرا سے انخلا کے بعد ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شامی صدر شام کو شاید دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں، جس میں دمشق اور مغرب میں بحیرۂ روم کے ساحلی علاقے حکومت کے زیرانتظام اور شمالی علاقے جہادیوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔

لیکن اسی دوران حکومت کو باغیوں کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کا بھی سامنا ہے۔ وہ ملک میں اپنے حامیوں اور بین الاقوامی اتحادیوں کو ادلب کے ہاتھ سے نکل جانے کی کوئی توجیح پیش نہیں کر سکتا، بالخصوص ایران کو، جو مدد کے لیے فوجیں اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption صوبہ ادلب سے فوجوں کو نکالنے کے بعد باغیوں کے نئے اتحاد جیش النصرہ کی توجہ اب حلب پر مرکوز ہے

جیسے جیسے باغی حکومتی گڑھ اور ساحلی شہر ذقیہ کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، تہران بشارالاسد کی فوجوں پر زیادہ اعتماد کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتا۔

اطلاعات کے مطابق ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی نے حال ہی میں ذقیہ شہر کا دورہ کیا ہے، جہاں ان کا کہنا تھا: ’ہم اور شام کی فوجی قیادت آئندہ آنے والے دنوں میں جو اقدامات کرنے جارہے ہیں اس سے دنیا حیران رہ جائے گی۔‘

شامی حمایت یافتہ لبنانی اخبار اسفر کا کہنا ہے کہ حلب کے دفاع کے لیے تقریبا 20 ہزار ایرانی اور عراقی جنگجو شام پہنچ چکے ہیں۔

جنگجوؤں کا شام پہنچنا اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ حکومت کس قدر کمزور ہو چکی ہے اور اب کس طرح حکمت عملی بیرون ملک ترتیب دی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں