’ہم بچّے ہیں، تم بیرل ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ شام میں بیرل بم استعمال کرنے کی صلاحیت صرف بشار الاسد کی حکومت کے پاس ہے

ان دنوں عرب دنیا میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد شام میں بیرل بموں کے حملوں میں زخمی و ہلاک ہونے والے بچوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے صدر بشارالاسد کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس مقصد کے لیے ہزاروں لوگ معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’ہم بچّے ہیں اور تم بیرل ہو‘ کے عنوان یا ہیش ٹیگ کے تحت اپنی بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بیرل بم بنانے کے لیے عموماً تیل کے خالی ڈرم، پانی کی ٹینکیاں اور اس قسم کے دوسرے ڈرم استعمال کیے جاتے ہیں۔ بم بنانے کے لیے ان ڈرموں میں بارود اور لوہے کے ٹکڑے بھرے جاتے ہیں اور عموماً انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے گرایا جاتا ہے۔ چونکہ بیرل بموں سے بلاتفریق تباہی پھیلتی ہے اس لیے انھیں ہمیشہ شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔

’سیریئن نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے ایسے بموں پر پابندی کے باوجود شام میں جاری خانہ جنگی میں ان کے بے دریغ استعمال سے ہزاروں بے گناہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ شام میں بیرل بم استعمال کرنے کی صلاحیت صرف بشار الاسد کی حکومت کے پاس ہے اور ہیلی کاپٹر سے لیس فضائیہ کسی دوسری تنظیم یا متحرب گروہ کے پاس نہیں ہے۔ تاہم بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں بشارالاسد کا کہنا تھا کہ انھیں شام میں بیرل بموں کے استعمال کے بارے میں معلوم نہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں میں حلب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں بیرل بموں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔

آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہونے اور ان تصاویر میں دکھائی جانے والی ہولناکی کے باعت بی بی سی یہ تصاویر شائع نہیں کر سکتا، لیکن گذشتہ چند دنوں سے عربی سوشل میڈیا پر صارفین ایسی کئی تصاویر نشر کر رہے ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ تباہی شامی حکومت کی جانب سے بیرل بموں کے استعمال سے ہو رہی ہے۔

’ہم بچًے ہیں اور تم بیرل ہو‘ کے ہیش ٹیگ پر نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ گذشتہ عرصے میں عرب دنیا میں بشارالاسد حکومت کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔

اس ہیش ٹیگ کے تحت اپنے خیالات کا اظہار کرنے والے ابتدائی لوگوں میں محمود اویمیر بھی شامل ہیں جن کا تعلق غزہ سے ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شامی عوام کا کرب دیکھ کر انھیں غزہ پر اسرائیلی بمباری کے دن یاد آتے ہیں۔

’شام میں پچھلے چار سال سے جو ہو رہا ہے اسے دیکھ کر ہمیں شدید دکھ پہنچ رہا ہے اور ہمیں شامیوں کی اس اذیت کا خاتمہ ہوتے دکھائی نہیں دیتا۔ شامیوں کی تصاویر دیکھنے والا کوئی شخص بھی غمزدہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور آپ دنیا میں کہیں بھی ہوں آپ اس معاملے پر بات کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔‘

اس ہیش ٹیگ کے تحت کی جانے والی پانچ ہزار ٹویٹس میں سے نصف لبنان سے پوسٹ کی گئی ہیں جہاں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے خاص طور پر ان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

لبنان میں اس ہیش ٹیگ کو آگے بڑھانے والوں میں ریم الایوبی بھی شامل ہیں۔ بی بی سی ٹرینڈنگ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں بیرل بموں کا شکار ہونے والے شامی بچوں کی حالت زار نے بہت زیادہ متاثر کیا۔ ’اس ہیش ٹیگ کا نشانہ شامی حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والے ہیں۔‘

لبنانیوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی ٹویٹس میں حزب اللہ، لبنانی شیعہ ملیشیا اور بشارالاسد حکومت اور ایران کے ساتھ ان تنطیموں کے رابطوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کی سارہ فیاض کہتی ہیں کہ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ لبنان کو بھی اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں