سیاحوں کی برہنہ تصاویر کا رجحان بڑھ رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملائیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ان سیاحوں پر امنِ عامہ خراب کرنے کی فردِ جرم عائد کی جا سکتی ہے

ملائیشیا میں کوہِ کنابلو پر مبینہ طور پر برہنہ حالت میں تصاویر کھنچوانے کے الزام میں چار غیر ملکی سیاحوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس پہاڑ کو مقامی آبادی مقدس تصور کرتی ہے۔ ہمارے ساتھی جسٹس پارکنسن اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ کیا سیاحت کے دوران برہنہ تصاویر کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دس سیاحوں نے 30 مئی کو کوہِ کنابلو پر جا کر اپنی برہنہ تصاویر کھینچیں اور پہاڑ پر پیشاب بھی کیا۔ ملائیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ان سیاحوں پر امنِ عامہ خراب کرنے کی فردِ جرم عائد کی جا سکتی ہے۔

سباہ کے کدزان دسن قبیلے کا خیال ہے کہ اس پہاڑ میں ان کے آبا و اجداد کی روحیں موجود ہیں۔ اس پہاڑ کا نام’ کنابلو‘ بھی اس قبیلے کا ایک محاورہ ’اکی نابلو‘ سے اخذ کیا گیا ہے، جس کا مطلب مر جانے والوں کی آرام گاہ۔ سیاحوں کو گائیڈ ہمیشہ ہدایات دیتے ہیں کہ اس پہاڑ کا احترام کیا جائے اور اس پر جاتے وقت چیخنے چلانے سے پرہیز کیا جائے۔

کوہِ کنابلو پر گذشتہ جمعے کو ریکٹر سکیل کے مطابق 6.0 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں بچوں سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ گذشتہ ہفتے ایک سینیئر وزیر نے کہا تھا کہ سیاحوں نے پہاڑ کی روح کو غصہ دلا دیا تھا۔

مذہبی مقامات سمیت بہت سے معروف سیاحتی مقامات پر برہنہ تصاویر کھینچنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ لاطینی امریکہ کے ملک پیرو میں مشہور پہاڑی سلسلے اینڈیز کی مثال لے لیں۔ ماچو پیچو کا پہاڑ اور 15 ویں صدی میں بننے والی وہاں کی عبادت گاہ یونیسکو کی جانب سے ثقافتی ورثہ قرار پا چکی ہے۔ فروری میں دو امریکی سیاحوں کو عبادت گاہ کے اندر برہنہ تصاویر کھیچننے کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور تین فرانسیسی سیاحوں کو بھی ایسے ہی الزام کی وجہ سے ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

بہت سے لوگ ایسے معاملات میں یا فیس بک جیسی ویس سائٹوں پر اپنی ایسی ہی تصاویر لگانے پر پولیس کی کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔ فیس بک پر ایک شحض کی ایسی تصاویر ملیں جس میں ریو ڈی جنیورو کے مشہور مجسمے دی کرائسٹ کے سامنے وہ مجسمے کے ہی میں انداز میں مکمل طور پر برہنہ کھڑے ہیں۔

ایسی تصاویر آسٹریلیا میں یلورو یا ایرز راک پر بھی ملتی ہیں۔ دیوارِ چین، پیرس کا آئیفل ٹاور اور دنیا میں نمک کا سب سے بڑا میدان بولیویا کا سالار دی انی سب پر ایسی ہی تصاویر کھینچی جا رہی ہیں۔

امریکہ میں گرینڈ کینیئن کے مقام پر اپنی پتلونوں کے بغیر تصاویر کھینچنے والے چار افراد میں سے ایک سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دوستی کا اور خود کو ذرا کشمکش میں ڈالنے کی کوشش تھی۔ خوبصورت مقام نے تو صرف اس تجربے کو چار چاند لگائے۔ ہمارے علاوہ وہاں کوئی موجود نہیں تھا تو ہم نے سمجھا کہ کوئی بھی اس بات سے ناراض نہیں ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دیوارِ چین، پریس کا آئیفل ٹاور اور دنیا میں نمک کا سب سے بڑا میدان بولیویا کا سالار دی انی سب پر ایسی ہی تصاویر کھینچی جا رہی ہیں

ان کا مزید کہنا تھا ’دوسری جانب ہم سب نے ایسا کیا اور بہت سے ممالک کی بھی سیر کی مگر ہم میں سے کوئی مقامی ثقافت کی توہین نہیں کر سکتا تھا۔ ہمارے خیال میں امریکہ زیادہ آزاد خیال ہے۔‘

انڈیپنڈنٹ اخبار کے سینیئر ٹریول ایڈیٹر سائمن کالڈر کہتے ہیں کہ ایسے معاملات میں قانونی مسائل میں پھنسے والے کسی اور کو قصور وار نہیں ٹھہرا سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی نئے ملک میں پہنچیں تو یہ مت بھولیں کہ ان کے اپنے قوانین ہیں اور ان کا آپ کو احترام کرنا ہوگا۔ ’شاید آپ ان سے اتفاق نہ کرتے ہوں مگر یہ بات اہم نہیں۔‘

سائمن کالڈر خود بھی کوہِ کنابلو سر کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہاڑ کی چوٹی کوئی خالی مقام نہیں۔ ’بہت سے ملائیشیائی افراد کے لیے یہ پہاڑی سر کرنا ان کی زندگی کا ایک اہم واقعہ ہوتا ہے۔ میرے خیال میں جب یہ تصویر کھینچی گئی تو اس وقت وہاں پر سیکنڑوں افراد گھوم رہے ہوں گے۔‘

کیا مغربی ممالک کے سیاحوں کے لیے ایسی تصاویر کھینچنا ایک روایت بنتی جا رہی ہے؟ یونیورسٹی آف سنٹرل لنکاشائر میں نفسیات کے سینیئر لیکچرار ساندی مان کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب سیاحت کرنے والے لوگوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ شدید سے شدید کام کر کے دیکھائیں۔ ’کسی دیوار کے سامنے برہنہ کھڑے ہونے کا وہ اثر نہیں ہوتا جو کہ کسی معروف مقام پر ایسا کام کرنے کا ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پسند کیے جانے کی طلب اور اس کی وجہ سے کی جانے والی کوششیں افسوسناک ہیں۔ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ مغربی لوگ دیگر افراد پر ثقافتی تناظر میں دباؤ ڈال رہے ہیں اور مقامی رنگ و مزاج کو سمجھنے کے بجائے فیس بک اور دیگر ویب سائٹوں پر یہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کا سفر زبردست تھا۔‘

اسی بارے میں