اسرائیل نے جاسوسی کا الزام رد کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایران کے جوہری معاہدے پر مغربی ممالک کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد عبوری معاہدہ طے کیا تھا

اسرائیلی حکومت نے اس الزام کو رد کیا ہے کہ اس نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی جاسوسی کی ہے۔

یاد رہے کہ ایک سکیورٹی کمپنی نے حال ہی میں کہا تھا کہ اسرائیل نے ایک کمپیوٹر وائرس کی مدد سے مذاکرات کے مقامات کی جاسوسی کی۔ روسی کمپنی کیسپرسکی کا کہنا تھا کہ تین یورپی ہوٹلوں پر ہونے والی ہیکنگ اس قدر پیچیدہ تھی کہ وہ کوئی حکومت ہی کر سکتی تھی۔

اینٹی وائرس بنانے والی روسی کمپنی پر سائبر حملہ

عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات جاری ہیں اور ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے حتمی تاریخ 30 جون ہے۔

آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ دونوں نے اس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

یہ مذاکرات جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے مرکزی دستاویز اور دیگر تکنیکی نکات پر ہو رہے ہیں۔

اس سے قبل ایرانی مذاکرات کار عباس ارغچی نے ایرانی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات 30 جون کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’ہم ایسے مرحلے پر ہیں جہاں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مذاکرات جلد مکمل ہو جائیں گے ۔۔۔ مذاکرات 30 جون کی ڈیڈ لائن تک جاری رہیں گے اور ہو سکتا ہے اس کے بعد بھی جاری رہیں۔‘

حالیہ مذاکرات میں زیادہ تر سفارت کاروں کی بجائے تکنیکی ماہرین مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں۔ تاہم بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں امریکی نائب سیکریٹری خارجہ وینڈی شرمن، ایران کے دو نائب وزیر خارجہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیدار شریک ہیں۔

یاد رہے کہ وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایران کے جوہری معاہدے پر مغربی ممالک کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد عبوری معاہدہ طے کیا تھا اور جواد ظریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران انھیں ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے مکمل اختیار سونپا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران اور مغربی ممالک کے درمیان عبوری جوہری معاہدہ طے پا جانے پر ایران میں جشن منایا گیا تھا لیکن ملک کے سخت گیر موقف رکھنے والے لوگ جوہری معاملے پر معاہدے سے خوش نہیں ہیں

مغربی ممالک کا خیال ہے کہ ایران جوہری بم بنانا چاہتا ہے تاہم ایران اس دعوے کو رد کرتا ہے۔

اسرائیل ان مذاکرات میں شریک نہیں ہے اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کا سخت مخالف ہے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے خدشات بھی شائع کیے تھے کہ اسرائیل ان مذاکرات کی جاسوسی کر رہا ہے۔

روسی کمپنی کیسپرسکی اور امریکی کمپنی سمینٹک کا کہنا ہے کہ ڈوقو 2.0 نامی سافٹ ویئر ان مذاکرات میں معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

یہ وائرس کسی بھی نیٹ ورک کے تمام کمپیوٹروں میں چلا جاتا ہے اور اسے پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ ماضی میں سکیورٹی کے ماہرین کہہ چکے ہیں کہ یہ سافٹ ویئر اسرائیل کی ایجاد ہے۔

اسی بارے میں