بحرین: 56 شہریوں کی شہریت منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY IMAGES
Image caption واضح رہے کہ جنوری میں بحرین ملکی امن و امان خراب کرنے کے الزام میں 72 افراد کی شہریت منسوخ کر چکا ہے

بحرین میں ملک کے مختلف مقامات پر مبینہ طور پر دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں 57 شیعہ شہریوں کو جیل کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ ان میں سے ایک کے علاوہ باقی تمام کی شہریت بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے بی این اے کے مطابق اس گروہ نے سعودی سفارت خانے سمیت ملک کے مختلف اہم اور حساس مقامات کے ساتھ ساتھ پولیس کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔

بحرین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ’غیر منصفانہ مقدمے‘ اور سزاؤں کی مذمت کی ہے۔

خلیجی ریاست میں سنہ 2011 سے شروع ہونے والے شیعہ اتحادیوں کے احتجاجی سلسلے کے بعد سے انتہائی بے چینی پائی جاتی ہے۔

گلف ڈیلی نیوز کے مطابق اس گروہ کے نشانے پر جو مقامات تھے ان میں منامہ میں سعودی سفارت خانے اور بحرین اور سعودی عرب کو ملانے والی اہم شاہ فہد شاہراہ شامل تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY IMAGES
Image caption خلیجی ریاست میں سنہ 2011 سے شروع ہونے والے شیعہ اتحادیوں کے احتجاجی سلسلے کے بعد سے انتہائی بے چینی پائی جاتی ہے

عدالت نے دعویٰ کیا ہے کہ شیعہ حزب مخالف کی تنظیم ال وفاق اور کالعدم جماعت ال وفا ان افراد کی مالی مدد کر رہی تھیں۔

بحرین کی دو انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجرم قرار دیے جانے والے افراد میں سے نو افراد کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔

امیریکنز فار ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس کے حسین عبداللہ کا کہنا ہے کہ’بحرین کی سیاسی عدالتیں غیر منصفانہ جیل کی سزاؤں سے بحرین کی پوری نسل کے حقوق ضبط کر رہی ہیں۔‘

واضح رہے کہ جنوری میں بحرین ملکی امن و امان خراب کرنے کے الزام میں 72 افراد کی شہریت منسوخ کر چکا ہے۔

اسی بارے میں