سٹراس کاہن طوائفیں حاصل کرنے کےمقدمے سے بری ہوگئے

سٹراس کان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سٹراس کان نے تسلیم کیا کہ وہ ایک آزاد رو انسان ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ وہ طوائفوں کے استعمال سے بہت پریشان ہوئے تھے

فرانس میں ایک عدالت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے سابق سربراہ ڈومینیک سٹراس کاہن کو فرانس، بیلجیئم اور امریکہ میں منعقد ہونے والی سیکس پارٹیوں کے لیے طوائفین حاصل کرنے کی الزام سے بری کر دیا ہے۔

66سالہ سٹراس ان دعوؤں کی پہلے ہی تردید کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے فرانس، بیلجیئم اور امریکہ میں سیکس پارٹیاں منعقد کرانے کے لیے طوائفیں حاصل کی تھیں۔

کاہن پر الزام ثابت ہونے کی صورت میں دس سال قید کی سزا ہو سکتی تھی۔

سٹراس کان نے تسلیم کیا کہ وہ گروپ سیکس پسند کرتے ہیں اور سال میں تقریباً چار ایسی پارٹیوں میں ضرور شرکت کرتے ہیں۔ سٹراس کان کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ مستقبل میں فرانس کے صدر بن سکتے تھے۔

فرانسیسی شہر لیل میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جج نے کہا کہ سٹراس کا رویہ ایک گاہک جیسا تھا لیکن جن طوائفوں سے ملاقات کی ان کو معاوضہ ادا نہیں کیا۔

چیف جج نے مزید کہا کہ گروپ پارٹیوں میں دوسروں نے معاوضہ ادا کیا اور سٹراس نے صرف اس کا فائدہ اٹھایا۔

چار سال کی قانونی کارروائی کے بعد اس مقدمے سے بری ہونے والوں میں بیلجیئم کے ایک قحبہ خانے کے مالک ڈومینیک ایلڈرویرلڈ بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ وہ سیکس پارٹیوں کے لیے طوائفیں مہیا کرتے تھے۔

اس مقدمے میں صرف ایک شخص کو سزا ہوئی ہے۔ لیل میں کارلٹن ہوٹل کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابقہ مینجر رینے کوجفر کو طوائفیں بھرتی کرنے کے عمل میں شامل ہونے کے الزام میں ایک سال کی معطل سزا اور 25 سو یورو جرمانہ کیا گیا ہے۔

کیا سٹراس کان کے معاملے نےفرانسیسیوں کا جنسی رویے بدل دیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سٹراس کان کے علاوہ دوسرے مدعا علیہ فیبریس پاسکوسکی نے کہا کہ وہ سیکس پارٹیوں کا اہتمام کرتے تھے لیکن انھوں نے اس بات سے انکار کیا کہ سٹراس کاہن کو یہ علم تھا کہ خواتین کو ان کے پیسے دیے جاتے ہیں

سٹراس کان کے جنسی میلان کے متعلق پہلی مرتبہ اس وقت معلوم ہوا جب 2011 میں نیویارک کے ایک ہوٹل میں انھوں نے ایک ملازمہ کو ریپ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ان کے خلاف الزامات واپس لے لیے گئے اور معاملہ ایک سول کیس کے ذریعے حل ہوا۔

دیدیئر سپیک ایک ریٹائرڈ قانونی نامہ نگار ہیں جنھوں نے سٹراس کان کے فرانس کے شہر لیل میں چلنے والے مقدمے پر کتاب بھی لکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فرانس کا رویہ سٹراس کان کی طرف اب بدل گیا ہے۔

’جب 2011 میں یہ کہانی سامنے آئی تو ہمیں صدمہ ہوا تھا، تب وہ صدارتی امیدوار تھے اور انھوں فرانس کا مستقبل کا صدر سمجھا جا رہا تھا۔‘

’لیکن 2015 میں جب وہ عدالت میں ہیں تو وہ سیاستدان نہیں ہیں۔ اور وہ ہمدردی کا تاثر دے رہے ہیں، وہ خود پر تنقید کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’ہاں، ہو سکتا ہے کہ میں خواتین کی ساتھ ذرا بے رحمی کا مظاہرہ کرتا ہوں، اور انھوں نے معافی بھی مانگی اور انھوں نے عدالت کا احترام بھی ملحوظ رکھا۔‘

’تین ہفتوں میں ہی انھوں نے اپنی ساکھ بدل لی اور اب تو وہ مظلوم نظر آتے ہیں۔ وہ شروع شروع میں تو ایک شکاری لگتے تھے لیکن آخر میں ان کے متعلق رائے بدل گئی اور ایسا سوچا جانے لگا ہے کہ جیسے کچھ حیرت انگیز نہیں ہوا تھا۔‘

’ہو سکتا ہے کہ یہ اخلاقی نقطۂ نظر سے قابلِ مذمت ہو، آپ نہیں چاہتے کہ آپ کی بیٹی یا بہن اس میں شامل ہو، لیکن عدالتی حوالے سے یہ قابلِ سزا نہیں ہے۔‘

برطانیہ کے برخلاف فرانس میں سیاستدان کی نجی زندگی پر اس کا حق بہت مقدس سمجھا جاتا ہے۔ داشتاؤں کو برداشت کیا جاتا ہے اور صدر متراں کی تو ایک ناجائز بیٹی بھی ہے جس کے متعلق کبھی رپورٹ نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر متراں کی ناجائز بچی مازارین پنجیو کو کئی سال خفیہ رکھا گیا

لیکن خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کرسٹین ڈیلفی سوال کرتی ہیں کہ اس صورت حال سے فائدہ کسے پہنچتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’فرانسیسی اپنی تاریخ کو استعمال کرتے ہوئے بریت کے دعوؤں کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر کسی کی اپنی اخلاقیات ہیں اور نجی زندگی ایک الگ معاملہ ہے۔‘

’لیکن پرائیوسی کا حق کس کے پاس ہے؟ یہ مرد ہیں جو اپنے گھروں اور ہوٹل کے کمرے میں جو چاہے کر سکتے ہیں۔ یہ ایک غیر واجب حق کا دفاع ہے لیکن وہ اسے غیر واجب نہیں سمجھتے۔‘

گذشتہ ماہ 40 خواتین صحافیوں نے ایک کھلا خط لکھا جس میں انھوں نے بتایا کہ کس طرح فرانسیسی سیاستدانوں نے ان کے ساتھ جنسی تعصب کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسی بارے میں