’کشتی موڑنے کے لیے معاوضہ دیا‘ ٹونی ایبٹ کا تردید سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غیر قانونی طریقے سے آسٹریلیا میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کے لیے سخت پالیسیوں کی وجہ سے انسانی حقوق کے ادارے آسٹریلیا پر تنقید کرتے ہیں

آسٹریلیوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے ان اطلاعات کی تردید کرنے سے انکار کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آسٹریلیا کے ایک بحری جہاز کے حکام نے انسانی سمگلروں کو تارکینِ وطن کی کشتی انڈونیشیا کی جانب واپس موڑنے کے لیے پیسے دیے ہیں۔

تارکینِ وطن کو یورپ میں بسایا جائے گا

کشتی سے آنے والے پاکستانیوں کو ویزا دیں گے

جمعرات کو وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے اپنے ایک بیان میں یہ تصدیق ضرور کی کہ آسٹریلیا میں پناہ کی غرض سے آنے والی کشتیوں کو روکنے کے لیے ان کی حکومت ’ناقابلِ یقین حد تک تخلیقی‘ لائحہ عمل احتیار کر رہی ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ اور وزیر برائے مہاجرین نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انھوں نے عملے کو کسی قسم کی رقوم فراہم کی ہیں۔ تاہم انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا

Image caption آسٹریلیا میں پناہ کے لیے داخلے کی کوشش کرنے والوں کو سمندر میں ہی رکو کر یا تو واپس موڑ دیا جاتا ہے تا پھر تارکینِ وطن کو حراست میں لے کر پاپوانیوگنی کے جزیروں میں رکھا جاتا ہے

انڈونیشیا کے مشرق میں واقع صوبے نوسا ٹینگارا کی پولیس نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ مئی کے آخر میں ایک کشتی کے کپتان اور عملے کو لوگوں کو سمگل کرنے کے الزمات میں حراست میں لیا ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں تارکینِ وطن کی کشتیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جاتی۔

بتایا گیا ہے کہ میانمار، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے آنے والے تارکین نیوزی لینڈ جا رہے تھے کہ انھیں شمال مشرقی آسٹریلیا سے 500 کلومیٹر دور ایک جزیرے کے قریب پکڑ لیا گیا۔

انھوں نے پولیس کو بتایا کہ آسٹریلیا کی بحریہ نے انھیں سمندر میں روکا اور پھر امگریشن حکام نے انھیں انڈونیشیا واپس جانے کے لیے پانچ ہزار ڈالر دیے۔

اسی حوالے سے ایک مقامی پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’ میں نے اپنی آنکھوں سے اس رقم کو دیکھا، یہ پہلہ موقع ہے جس میں نے سنا کہ آسٹریلین حکام کشتی کے عملے کو پیسے دے رہے ہیں۔‘

کچھ اسی قسم کے الزامات آسٹریلیا کے نشریاتی ادارے اے بی سی اور ریڈیو نیوزی لینڈ کی جانب سے بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔

نامہ نگار جان ڈونیسن کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ کی جانب سے ان الزامات کی تردید کرنے سے انکار اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ارکینِ وطن کی کشتیوں کو روکنے کے لیے سرکاری طریقہ کار استعمال نہیں کر رہے۔

جمعے کی صبح ریڈیو تھری اے ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ ’ ہم نے تجارت روک دی ہے، اور ہم اسے روکے رکھنے کے لیے وہ کریں گے جو ہمیں کرنا ہوگا۔‘

.خیال رہے کہ اپنی سخت پالیسیوں کی وجہ سے آسٹریلیا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

دو سال قبل بھی ہزاروں افراد نے آسٹریلیا کے ساحلوں پر کشتیوں کی مدد سے پہنچنے کی کوشش کرتے تھے تاہم اب یہ تعداد کم ہو گئی ہے۔

ملک کی متنازعہ پالیسیوں کے مطابق تارکینِ وطن کی کسی بھی کشتی کو آسٹریلیا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ انھیں سمندر میں ہی روک کر واپس بھیج دیا جاتا ہے یا پھر حراست میں لینے کے بعد پاپوانیوگنی کے جزیروں پر زیرِ حراست رکھا جاتا ہے۔

آسٹریلیا میں پناہ کی غرض سے آنے والے تارکین وطن میں زیادہ تر افغانستان، ایران، عراق اور سری لنکا کے باشندے شامل ہوتے ہیں جو انڈونیشیا پہنچنے کے بعد سمندری راستے سے آسٹریلیا میں داخلے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی بارے میں