’برطانیہ کی رہائشی تین بہنوں کا بچوں سمیت شام جانے کا خدشہ‘

Image caption دو بچوں کی والدہ 30 سالہ خدیجہ داؤد، پانچ بچوں کی ماں 34 سالہ صغریٰ داؤد اور دو بچوں کی والدہ 33 سالہ زہرہ داؤد سے 9 جون کے بعد سے جب انھوں نے سعودی عرب کا شہر مدینہ چھوڑا تھا

برطانیہ کے علاقے بریڈفورڈ کی رہائشی تین بہنوں کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ مذہبی رسومات کے لیے سعودی عرب جانے کے بعد اپنے نو بچوں سمیت شام چلی گئی ہیں۔

ان تینوں خواتین کے خاندان کی جانب سے ان کے وکیل ’خان سولیسٹرز‘ کا کہنا ہے کہ تینوں بہنوں اور ان کے بچوں کو جن کی عمریں تین سے 15 برس کے درمیان ہیں، گذشتہ جمعرات کو برطانیہ واپس پہنچنا تھا۔

خیال ہے کہ ان میں سے 10 افراد نے نو جون کو استنبول کی پرواز سے سفر کیا۔

وکیل بلال خان نے تصدیق کی ہے کہ تشویش ہے کہ وہ لوگ ’شام چلے گئے ہوں۔‘

مغربی یارکشائر کی پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

دو بچوں کی والدہ 30 سالہ خدیجہ داؤد، پانچ بچوں کی ماں 34 سالہ صغریٰ داؤد اور دو بچوں کی والدہ 33 سالہ زہرہ داؤد سے 9 جون کے بعد سے جب انھوں نے سعودی عرب کا شہر مدینہ چھوڑا تھا، کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

ان کے موبائل فون نہیں چل رہے اور سوشل میڈیا پر ان کے پروفائل بھی اپ ڈیٹ نہیں ہوئے ہیں۔

وکلا نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس گروپ نے شام کا سفر کیا جہاں پہلے سے ان کے بھائی انتہا پسندوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ تاہم پولیس نے اس دعوے کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ اس کی تردید کی ہے۔

داؤد فیملی کے وکیلوں کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وہ ’بہت فکر مند ہیں‘ اور خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔

مسٹر خان نے جو گمشدہ بچوں کے والد کی طرف بات کر رہے تھے کہا’ایک امکان یہ ہے کہ پہلے وہ ترکی گئے ہوں اور وہاں سے شام چلے گئے ہوں۔ شک اور بنیادی تشویش اس بات پر ہے کہ خواتین اپنے بچوں کو شام لے گئی ہیں۔‘

انھوں نے کہا پولیس کو پانچ چھ دن پہلے اطلاع کر دی گئی تھی لیکن وہ اس لیے کچھ نہیں کر سکی کہ یہ اس کے دائرہ کار سے باہر تھا۔

پولیس نے ترک حکام سے رابطہ کیا ہے لیکن ابھی تک نہ گمشدہ خواتین اور بچوں کو کسی نے دیکھا ہے اور نہ ان سے کسی کا رابطہ ہوا ہے۔

شام جانے والے افراد ترکی کو اپنے سفر کے لیے بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ خاندان کی ہمت بندھا رہی ہے، ان کی مدد کر رہی ہے اور ’گمشدہ لوگوں کو تلاش کرنے میں غیر ملکی حکام کے ساتھ بہت زیادہ رابطے میں ہے۔‘

پولیس نے گمشدہ لوگوں کے بارے میں اطلاع کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہماری ترجیح خیریت کے ساتھ ان لوگوں کی واپسی ہے۔ان کے اہلِ خانہ بہت زیادہ پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ لوگ گھر واپس آ جائیں۔ ہماری بنیادی تشویش چھوٹے بچوں کی بہبود اور حفاظت ہے۔‘

اسی بارے میں