چینی برطانوی رشتے کی پیچیدگیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس اکتوبر چینی صدر شی جن پنگ برطانیہ کا دورہ کریں گے اور اپنے پیش رو کے برعکس ان کا انداز قدرے مختلف ہوگا

کسی چینی سربراہ کی جانب سے برطانیہ کا سرکاری دورہ دس سال قبل ہوا تھا۔ ان دس برس میں چین بہت بدل گیا ہے۔

2005 میں صدر ہو جنتاؤ کے دورے کے بعد سے چینی معیشت تین گنا بڑی ہو چکی ہے جبکہ برطانیہ سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک نے سنہ 2008 کے مالیاتی بحران کا سامنا کیا۔

چین میں اب ایک متوسط طبقہ پروان چڑھ رہا ہے جو کہ سروسز سیکٹر میں کام کرتا ہے، نئے نئے وسیع شہروں میں رہائش پزیر ہے اور مستقبل میں اس طبقے کے اندازِ خرچ کا عالمی معیشت پر بڑا اثر پڑے گا۔

چین کی فی کس سالانہ قومی پیداوار تیزی سے متوسط آمدنی والے ممالک کے برابر ہوتی نظر آتی ہے جو تقریباً سالانہ نو ہزار امریکی ڈالر ہے۔ اور اگرچہ اس وقت چینی شرحِ نمو 2000 کی دہائی کی طرح دس فیصد سے زیادہ تو نہیں تاہم یہ اب بھی سات فیصد سے زیادہ پر برقرار ہے۔

آسان الفاظ میں کہا جائے تو بطور بیرونی سرمایہ کار اور تجارتی ساتھی کے، چین کی گذشتہ ایک دہائی میں برطانیہ کے لیے اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔

اس برس اکتوبر میں چینی صدر شی جن پنگ برطانیہ کا دورہ کریں گے تو اپنے پیش رو کے برعکس ان کا انداز قدرے مختلف ہوگا۔

صدر ہو جنتاؤ کم گو اور خود کو زیادہ نمایاں کرنے کے شوقین نہیں تھے۔ بہت سے لوگوں کو شاید ان کا دورہ یاد بھی نہ ہو۔ بڑے پیمانے کے عوامی جلسے اور تقاریر انھیں شدید ناپسند تھیں۔

صدر شی کو قدرے زیادہ ملنسار تصور کیا جاتا ہے اور 2012 میں صدارت سنبھالنے کے بعد سے ان کی تقاریر کا انداز بھی عالی شان بتایا جاتا ہے مثلاً چین اور امریکہ ’عالمی قوتیں‘ ہیں، یورپ اور چین ’تہذیبی ساتھی‘ ہیں۔ صدر شی نے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے طے کیے ہیں۔

کیا صدر شی برطانیہ اور چین کے تعلقات کو چند الفاظ میں قلم بند کرنے کی کوشش کریں گے؟ اور اس رشتے کے کون سے پہلو پر ان کی توجہ کا مرکز ہوگا؟

طویل تاریخ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر شی کو قدرے زیادہ ملنسار تصور کیا جاتا ہے اور 2012 میں صدارت سنبھالنے کے بعد سے ان کی تقاریر کا انداز بھی عالی شان بتایا جاتا ہے

برطانیہ اور چین کے تعلقات کو ایک نعرے میں پیش کرنے کا امکان انتہائی کم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات بہت پیچیدہ رہے ہیں۔

اس پیچیدگی کی وجہ بہت سادہ ہے۔ تاریخ میں دونوں ممالک کے درمیان کشمکش رہی ہے جس میں چین کی نظر میں برطانیہ کی جانب سے سامراجی حکومت قائم کرنے کی کوشش، 1839 میں اوپیئم وارز اور ہانگ کانگ کے اقتدار کے معاملے پر مذاکرات جو کہ 1997 میں برطانوی کنٹرول سے چین کو منتقل کیا گیا۔

اور اگرچہ بہتری کی کوششیں جاری رہی ہیں تاہم جب بھی برطانوی قیادت چینی لیڈران سے انسانی حقوق کے معاملے پر بات کرتی ہے تو انھیں پرجوش جوابات دیے جاتے ہیں۔

جولائی 2012 میں دلائی لاما سے ملاقات کے بعد ڈیوڈ کیمرون تقریباً ایک سال تک چینی دارالحکومت بیجنگ نہ جا سکے۔

چین کے لیے برطانوی پالیسی ہمیشہ مبہم رہی ہے اور اب بھی اس کے واضح ہونے کا امکان کم ہے۔ انسانی حقوق اور جمہوریت کی تبلیغ کے تلے برطانیہ اپنے مفاد سے بھی بخوبی واقف ہے۔

ڈیوڈ کیمرون سے ناراضگی کے دوران بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا۔

برطانیہ ان پہلی یورپی معیشتوں میں سے تھا جس نے چینی قیادت میں قائم ہونے والے ایشیئن انفراسٹچر انویشٹمنٹ بینک کو تسلیم کر لیا جس کی وجہ سے اسے اپنے قریبی ترین اتحادی امریکہ سے بھی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا۔

یورپ کا سوال

صدر شی کے لیے اس دورے پر شاید سب سے اہم سوال یورپی یونین میں برطانیہ کے مقام کو سمجھنا ہوگا۔ اس تنظیم سے برطانیہ کے ممکنہ اخراج کا دونوں ممالک کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا، چاہے اس کا اظہار کیا جائے یا نہیں لیکن چین کو یورپی یونین کی جانب سے اقتصادی ہم آہنگی پسند ہے اور اگرچہ چین کبھی بھی عوامی سطح پر اس حوالے سے کچھ نہیں کہے گا تاہم برطانوی اخراج کو وہ قدرے بری نگاہ سے دیکھے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جولائی 2012 میں دلائی لاما سے ملاقات کے بعد ڈیوڈ کیمرون تقریباً ایک سال تک چینی دارالحکومت بیجنگ نہ جا سکے

حقیقت یہ ہے کہ صدر شی کے دورے میں ہمیں حقیقت پسندانہ اور تصوراتی دونوں ہی تاثر ملیں گے مگر سب سے اہم ترجیح چین سے مزید سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون حاصل کرنا ہے۔

برطانیہ اس وقت چینی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کی ایک اہم جگہ ہے اور 2014 میں اس حوالے سے 5.1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔

گذشتہ سال بی پی نے چینی نیشنل آفشور آئل کمپنی کے ساتھ تقریباً 20 بلین ڈالر کا معاہدہ کیا۔تاہم چینی معیشت کے کل حجم اور ممکنہ سرمایہ کاری کی صلاحیت کے تناظر میں یہ بہت تھوڑی مقدار ہے۔ گذشتہ سال اس کا ہدف 18 بلین پاؤنڈ تعین کیا گیا تھا اور صدر شی کے دورے میں اس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

صدر شی جہاں بھی گئے ہیں انھوں نے اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ گذشتہ سال آسٹریلیا میں اپنے دورے پر انھوں نے مذاق میں کہا کہ اب انھیں اس بات کی عادت ہوگئی ہے کہ وہ سارا دن کھڑے ہو کر معاہدوں پر دستخط ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔

چنانچہ وزیراعظم کیمرون کا کام کافی مشکل ہے۔ انھیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی اٹھانا ہوگا اور تجارتی تعاون کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ بیانات بھی جو بھی کہا جائے حقیقت میں دونوں جانب قیادت کی یہی امید ہوگی۔

اسی بارے میں