دنیا میں تشدد کی ’قیمت‘ 140 کھرب ڈالر سے زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امن کے اشاریے میں شام کا نمبر آخری ہے

عالمی امن سے متعلق ایک سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس تشدد، جنگوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے منسلک اخراجات 140 کھرب ڈالر سے زیادہ رہے ہیں۔

سنہ 2015 کے گلوبل پیس انڈیکس یعنی عالمی سطح پر امن کے اشاریے میں دنیا میں جنگ کے اخراجات میں زبردست اضافے کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اخراجات اب 14 ٹریلین یعنی 140 کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور یہ رقم عالمی مجموعی پیداوار کے 13 فیصد سے زیادہ ہے۔

ان اخراجات کا حجم برازیل، کینیڈا، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور سپین کی مجموعی معیشتوں سے بھی زیادہ ہے۔

اس اضافے کی اہم وجوہات خانہ جنگیوں میں اضافے اور ان کے نتیجے میں پناہ گزینوں اور بےگھر لوگوں کی بڑھتی تعداد کو قرار دیا گیا ہے۔

آسٹریلیا میں قائم ادارے انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی اس سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر خراب عالمی معیشت کی صورت حال میں بہتری کو جاری رکھنا ہے تو جنگ کو کم کرنا انتہائی اہم ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرامن ہونے کے معاملے میں یوکرین کی جنگ کے باوجود یورپ اپنی تاریخ کی سب سے بلند سطح پر ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ تشدد کے سمندر میں ڈوبتا جا رہا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے ايگزیکیٹو چیئرمین سٹیو کیلیلیا کا کہنا ہے کہ ’جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متحیر کیا وہ امن کے معاملے عدم مساوات ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption دنیا کے سب سے زیادہ پرامن ممالک کی رپورٹ میں آئس لینڈ بدستور ایک نمبر پر ہے

ان کے مطابق: ’اگر ہم سب سے زیادہ پرامن ممالک پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ مزید پرامن ہوتے جا رہے ہیں اور یہ ممالک زیادہ تر مغربی یورپ میں ہیں اور امن کی تاریخی سطح کے بالکل قریب ہیں۔ اس کی وجہ سے شاید ان ممالک کی تاریخ میں انسانی قتل کی شرح اور فی کس فوجی اخراجات سب سے کم سطح پر ہیں۔‘

سنہ 2015 کے پیس انڈیکس کے مطابق آئس لینڈ دنیا کا سب سے زیادہ پرامن جبکہ شام دنیا میں سب سے زیادہ تشدد کا شکار ملک ہے جبکہ لیبیا کی پوزیشن میں گذشتہ برس کی نسبت زبردست گراوٹ آئی ہے۔

162 ممالک کے بارے میں امن کی اس رپورٹ میں جہاں گنی بساؤ، آئیوری کوسٹ، مصر اور بینن میں حالات بہتر ہونے کی بات کی گئی ہے وہیں مشرق وسطیٰ کو امن کے لحاظ سے سنہ 2014 کا سب سے متشدد خطہ قرار دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دنیا کی کل آبادی کا ایک فی صد یا تو پناہ گزین ہے یا پھر اندرون ملک بے وطن افراد پر مشتمل ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافے کے اثرات افریقہ کے زیرِ صحارا خطے کے ممالک پر بھی مرتب ہوئے ہیں جن میں نائجیریا، کیمیرون اور نائجر میں تشدد میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گيا ہے۔

اس کے نتیجے میں یہ دونوں خطے امن کے معاملے میں جنوبی ایشیا سے بھی نیچے آ گئے ہیں جو گذشتہ سال سب سے نیچے تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا میں مسلح جنگ میں ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا اور اس میں مرنے والوں کی تعداد ساڑھے تین گنا بڑھی ہے۔

گلوبل پیس انڈیکس کے مطابق سنہ 2010 میں ہلاکتوں کی تعداد 49 ہزار تھی جو کہ سنہ 2014 میں بڑھ کر ایک لاکھ 80 ہزار ہو گئی۔

گذشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد میں نو فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہ تقریباً 20 ہزار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنگ کے نتیجے میں عسکری اخراجات میں زبردست اضافہ ہوا ہے

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا کی ایک فی صد آبادی یا تو پناہ گزین ہے یا پھر اندرون ملک در بدر ہے اور یہ سنہ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی سطح ہے جبکہ اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پناہ گزینوں اور درون ملک بےگھر ہونے والے لوگوں پر آنے والے اخراجات میں سنہ 2008 کے مقابلے میں 276 فی صد اضافہ ہوا ہے اور یہ 12 کھرب 80 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق سٹیو کیلیلیا نے کہا کہ ’مختلف خطوں کے بدلتے منظر نامے کے پیش نظر اس مسئلے کے حل کے بارے میں جان پانا اور آئندہ سال کے بارے میں بھی کوئی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔‘

اسی بارے میں