لاپتہ برطانوی بہنوں میں سے ’ایک شاید شام میں ہے‘

Image caption بریڈفورڈ کی رہائشی خدیجہ، صغریٰ اور زہرا داؤد اور ان کے نو بچے ایک ہفتہ قبل لاپتہ ہوگئے تھے

برطانوی پولیس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ لاپتہ ہونے والی تین برطانوی بہنوں اور ان کے نو بچوں میں سے ایک بہن شاید شام پہنچ چکی ہے۔

ویسٹ یارکشائر پولیس نے بتایا ہے کہ انھیں موصولہ معلومات کے مطابق ایک خاتون نے اپنے خاندان کے ساتھ ’رابطہ کیا‘ ہے اور اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ شام کی سرحد میں داخل چکی ہیں۔

بریڈفورڈ کی رہائشی خدیجہ، صغریٰ اور زہرا داؤد اور ان کے تین سے 15 سال کی عمر کے درمیان نو بچے ایک ہفتہ قبل لاپتہ ہوگئے تھے۔

خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان کے بھائی شام میں انتہا پسندوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل رس فوسٹر کا کہنا ہے: ’ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ برطانیہ میں ان کے خاندان کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لاپتہ ہونے والوں میں سے ایک بالغ فرد شام میں ہو سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’لاپتہ ہونے والی خواتین میں سے ایک خاتون نے رابطہ کیا ہے اور یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ شام کی سرحد میں داخل ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک یہ غیرمصدقہ اطلاع ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھیں خاندان کے تحفظ اور بالخصوص بچوں کے بارے میں ’بہت زیادہ تشویش‘ ہے۔

اس سے قبل منگل کو تینوں بہنوں کے شوہروں نے ایک جذباتی اپیل کی تھی جس میں انھیںواپس لوٹ آنے کا کہا گیا تھا۔

واضح رہے کہ دو بچوں کی والدہ 30 سالہ خدیجہ داؤد، پانچ بچوں کی ماں 34 سالہ صغریٰ داؤد اور دو بچوں کی والدہ 33 سالہ زہرا داؤد سعودی عرب میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے گئی تھیں اور بعدازاں وہ بچوں سمیت لاپتہ ہوگئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منگل کو تینوں بہنوں کے شوہروں نے ایک جذباتی اپیل کی تھی جس میں انھیں واپس لوٹ آنے کا کہا گیا تھا

انھوں نے 28 مئی کو سعودی عرب کے شہر مدینہ کا سفر کیا اور آخری بار ایک ہوٹل میں دیکھی گئی تھیں۔

انھیں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد مانچسٹر واپس لوٹنا تھا لیکن واپس نہ پہنچنے پر دو بہنوں کے شوہروں اختر اقبال اور محمد شعیب نے ان کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی۔ انھوں نے آخری بار اپنے بچوں سے آٹھ جون کو بات کی تھی۔

تیسری بہن کے شوہر پاکستان میں ہیں۔

تینوں بہنوں نے بچوں کے ساتھ نو جون کو براستہ استنبول واپس آنا تھا۔

اس سے پہلے تک ایک ہفتے تک ان خواتین کا اپنے خاندان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔

واضح رہے کہ شام جانے والے افراد اکثر ترکی کے راستے وہاں پہنچتے ہیں۔

اسی بارے میں